مصر:عوام صدارتی انتخاب کے نتائج کے منتظر

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
مصر میں عوام رواں ماہ ہونے والے صدارتی انتخاب کے نتائج کے منتظر ہیں جن کا اعلان اتوار کو کیا جا رہا ہے۔
مصر میں الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس نے دونوں صدارتی امیدواروں کی اپیلیں سن لی ہیں جس کے بعد اب صدراتی انتخابات کے نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔
اخوان المسلمین کے محمد مرسی اور سابق وزیرِ اعظم احمد شفیق نے اس انتخاب میں فتح کا دعویٰ کیا ہے اور متحدہ حکومتیں بنانے کے عزم کو دہرایا ہے۔
ان دونوں امیدواروں کے حامیوں نے حالیہ دنوں میں مظاہرے بھی کیے ہیں جس سے ملک میں سیاسی دوریاں بڑھی ہیں۔
جمعہ کو مصر کی حکمران فوجی کونسل نے ’سپریم کونسل آف آرمڈ فورس‘ نے دونوں امیدواروں کے حمایتیوں سے متوقع نتائج کو ماننے کے لیے کہا تھا۔
مصر کے صدارتی انتخاب کے دوسرے اور حتمی مرحلے کے نتائج کا اعلان پروگرام کے مطابق جمعرات کو ہونا تھا تاہم صدارتی الیکشن کمیشن کے سیکرٹری جنرل کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کمیشن کے سربراہ فرخ سلطان اتوار کو مقامی وقت کے مطابق شام تین بجے نتائج کا اعلان کریں گے۔
ادھر اخوان المسلمین کے حمایتی وسطی قاہرہ میں واقع تحریر سکوائر میں اب بھی جمع ہیں۔ اسی مقام پر دسیوں ہزاروں افراد جمعہ کو مصر کی فوجی سربراہی کونسل کی جانب سے اپنے اختیارات میں اضافے کے خلاف جمع ہوئے تھے۔
تحریر سکوائر میں جاری احتجاج میں شامل ایک شخص عبدالنصر الحجاب نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’فوج سیاسی کردار ترک کرتے ہوئے ملک کے دفاع کے اپنے بنیادی کردار کو ادا کرے اور عوام اور ملک کے معاملات کو تباہ کرنا چھوڑ دے۔ یہ مصر کے عوام کے لیے قابلِ قبول نہیں ہے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنیچر کو قاہرہ کے علاقے نصر سٹی میں دوسرے صدارتی امیدوار احمد شفیق کے حامیوں نے بھی مظاہرہ کیا۔ اس مظاہرے میں شامل افراد نے احمد شفیق اور فیلڈ مارشل طنطاوی کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور فوج کے حق اور اخوان المسلمین کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔
اس مظاہرے میں شامل ایک خاتون دعا نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’اگر ہم نے سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کر لیا تو ہم دس، بیس یا تیس لاکھ نہیں بلکہ آٹھ کروڑ افراد ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہم فوجی کونسل کے حتمی اعلان کے منتظر ہیں‘۔
دارالحکومت قاہرہ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جان لیئن کا کہنا ہے کہ موجودہ صوتحال میں خدشہ ہے کہ حتمی نتائج کا اعلان صرف حالات کو مزید خراب ہی کر سکتا ہے۔
مصر میں صدارتی انتخاب کے پہلا مرحلہ گزشتہ ماہ منعقد ہوا تھا جس میں پانچ کروڑ بیس لاکھ رائے دہندگان میں سے صرف چھیالیس فیصد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا تھا۔
اس مرحلے میں اخوان المسلمین کی جسٹس اینڈ فریڈم پارٹی کے امیدوار محمد مرسی کو اپنے حریف اور حسنی مبارک کے سابق وزیراعظم احمد شفیق پر برتری حاصل ہوئی تھی۔
دوسرے مرحلے سے قبل اسلام پسند محمد مرسی نے مصر کی کئی آزاد خیال شخصیات کی حمایت بھی حاصل کی جن میں حسنی مبارک حکومت کے خلاف جنوری دو ہزار گیارہ میں شروع ہونے والی انقلابی تحریک کے روحِ رواں وائل غنیم بھی شامل ہیں۔
تاہم احمد شفیق نے جمعرات کو انتخاب کے دوسرے مرحلے کے بعد اپنے پہلے عوامی خطاب میں اپنی فتح کا یقین ظاہر کیا۔
نامہ نگاروں کے مطابق اخوان المسلمین کے مخالف اب ان کے الیکشن میں فتح کے دعوے کو رد کرنے کے لیے بڑی مہم چلا رہے ہیں اور جہاں مصر کا میڈیا احمد شفیق سے ہمدردی کا مظاہرہ کر رہا ہے وہیں فوجی کونسل بھی اخوان المسلمین سے خوش دکھائی نہیں دیتی۔







