’کچھ نیا ملک میں لاناچاہتا تھا‘

اسماعیل یورپ میں اپنے دوستوں سے ملنے گئے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ریسٹورنٹ کے کاروبار میں آنا چاہتے ہیں۔
ان کے دوستوں میں سے کئی کے پاس اپنے ریسٹورنٹ تھے جبکہ کئی دوستوں نے کھانے پینے کی دکانیں کھول رکھی تھیں۔ اسماعیل نے سوچا کہ ان کو کوئی ایسا طریقہ اپنانا ہو گا جو کہ گاہکوں کے لیے پرکشش ہو۔
’شروع میں ہم منافع اور نقصان کے بارے میں نہیں سوچ رہے تھے۔ ہم چاہتے تھے کہ کچھ نیا اس ملک میں لایا جائے۔‘
افغانستان میں کئی ریسٹورنٹ ہیں جہاں پر ایرانی، انڈین، افغان اور عربی کھانا ملتا ہے لیکن کوئی پیزا کی دکان نہیں ہے۔ اور نہ ہی کوئی ریسٹورنٹ گھر پر کھانا پہنچانے کی سروس مہیا کرتا ہے۔
اسماعیل نے سنہ دو ہزار ایک میں ایک لاکھ ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری کے ساتھ کابل کے وسط میں ایورسٹ پیزا کے نام سے پیزا ریسٹورنٹ کھولا۔
اس علاقے میں بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کے دفاتر، غیر ملکی افراد اور ان کے خاندان والے بڑی تعداد میں ہیں اور تقریباً سارے ہی ان کے گاہک ہیں۔
لیکن ان کے گاہکوں میں افغان نوجوان بھی ہیں مغربی طرز کا کھانا پسند کرتے ہیں۔ ’جب فون بجتا ہے تو یہ عین ممکن ہے کہ دوسری طرف کوئی افغان ہو جو آرڈر دینا چاہتا ہے۔ افغانوں کو مختلف قسم کے پکوان کھانے کا بہت شوق ہے۔‘
اسماعیل کا کہنا ہے کہ پیزا ریسٹورنٹ کھولنا آسان نہیں تھا۔ افغانستان میں اچھا پیزا بنانے والا مشکل سے ملتا ہے اس لیے انہوں نے پڑوسی ممالک میں دیکھنا شروع کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

’میں یورپ سے شیف کو نہیں بلا سکتا تھا کیونکہ میرے پاس اتنی رقم نہیں تھی۔ اس لیے میں نے ایران میں کھوج شروع کی۔ ایران سے آئے شیف نے افغان ملازمین کو پیزا تیار کرنا سکھایا۔ ایرانی شیف ہمارے ساتھ ایک سال رہے اور انہوں نے افغان سٹاف کو تربیت دی۔‘
اسماعیل کے پاس اب تین شیف ہیں اور ویٹر اور ڈیلیوری کرنے والے سمیت دس ملازمین ہیں۔ ’ہم چاہتے تھے کہ ہمارے پیزا افغانستان میں بہترین ہوں۔ ہم اب بھی پنیر دبئی سے منگواتے ہیں اور پیزا کے ڈبے ایران سے۔‘
گھر تک کھانے کی فراہمی میں کئی مشکلات آئیں جب کئی بارخالی مکانات کے پتے پر آرڈر ہوتے تھے۔ ’لیکن بعد میں ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم گھر پر ڈیلیوری صرف ان کو کریں گے جن کو ہم جانتے ہیں اور جو ہمارے مستقل گاہک ہیں۔‘
دس سال بعد اسماعیل کا کاروبار بہت عمدہ چل رہا ہے اور اب وہ اس کاروبار کو پھیلانے کا سوچ رہے ہیں۔ ’اگر ملک کے حالات اچھے ہوتے ہیں تو ہم کاروبار ضرور پھیلائیں گے۔‘







