’گوانتانامو کی عدالتی کارروائی غیر منصفانہ ہے‘

،تصویر کا ذریعہAP
امریکہ پر گیارہ ستمبر 2001ء کے حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار ملزمان کے وکلاء نے گوانتانامو بے میں قائم فوجی عدالت کے منصفانہ ہونے پر سوال اٹھایا ہے۔
ان افراد نے وکلاء نے سماعت کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ فوجی عدالت امریکی تحویل کے دوران ملزمان پر تشدد کرنے کے شواہد کو سینسر کر رہی ہے۔
حملوں کی منصوبہ بندی کے مرکزی ملزم خالد شیخ پر دورانِ حراست پانی کے اندر ڈبو ڈبو کر تشدد کیا گیا جسے ’واٹر بورڈنگ‘ کہا جاتا ہے۔
مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خالد شیخ محمد کے وکیل ڈیوڈ نیون کا کہنا تھا کہ ’ اس عدالت کو منصفانہ نہ رہنے دینے کے لیے سب کچھ کیا جا رہا ہے‘۔
دوسرے ملزمان نے بھی حراست کے دوران تشدد کا الزام لگایا ہے۔
سنیچر کو مرکزی ملزم خالد شیخ محمد کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل احتجاجاً جج کے سوالات سننے سے انکار کر رہے ہیں کیونکہ ان پر دوران حراست تشدد کیا گیا اور انہیں یقین ہے کہ مقدمے کی کارروائی منصفانہ نہیں ہے۔
مقدمے کی کارروائی تاخیر سے شروع ہوئی کیونکہ ایک ملزم ولید بن عطش کو کرسی سے باندھ کر عدالت میں لایا گیا لیکن وکیل صفائی کی جانب سے اس یقین دہانی کے بعد کہ وہ اچھا برتاؤ کریں گے، انہیں کھول دیا گیا۔
بعد میں مقدمے کی کارروائی ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہوئی جب ملزمان نے عدالت کی کارروائی کا عربی ترجمہ سننے کے لیے ہیڈ فونز استعمال کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد ایک عربی مترجم کا بندوبست کیا گیا تاکہ ملزمان عدالتی کارروائی کو سمجھ سکیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقدمے کے ایک اور ملزم رمزی بن الشیبہ نے جج کو مخاطب کرنا چاہا تو جج نے کہا کہ انہیں بعد میں بات کرنے کا موقع دیا جائے گا جس پر ملزم نے کہا کہ ’ممکن ہے کہ آپ کو دوبارہ ہمیں دیکھنے کا موقع ہی نہ ملے اور ہوسکتا ہے کہ وہ مجھے مار ڈالیں اور کہہ دیں کہ میں نے خودکشی کر لی ہے۔‘
ملزمان کے ایک وکیل جیمز کونیل کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کی کارروائی مکمل ہونے میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔







