’اسرائیل، فلسطینی جنگجووں میں جنگ بندی‘

،تصویر کا ذریعہAP
ایک مصری اہلکار کے مطابق چار روز تک جاری رہنے والی جھڑپوں کے بعد اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند جنگ بندی پر رضا مند ہو گئے ہیں۔
اہلکار کے مطابق جنگ بندی میں مصر نے ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور اس پر پیر کو گرینج کے معیاری وقت کے مطابق رات گیارہ بجے عمل درآمد شروع ہو گیا ہے۔
حماس نے بی بی سی کو جنگ بندی تصدیق کی ہے۔
اطلاعات کے مطابق جمعہ سے شروع ہونے والی اسرائیلی کی فضائی کارروائیوں میں کم از پچیس فلسطینی ہلاک ہو گئے جب کہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ فلسطین کی جانب سے اس کی حدود میں راکٹ حملوں میں پینتیس افراد زخمی ہوئے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مصری اہلکار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پیر کو رات گئے اسرائیل اور غزہ کے عسکریت پسند موجودہ کارروائیاں ختم کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔
اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اسرائیل نے غیر متوقع طور پر وعدہ کیا کہ اگر اسرائیل پر راکٹ حملے روکے جاتے ہیں تو وہ فضائی کارروائی ترک کر دے گا۔
اسرائیل نے ابھی تک جنگ بندی کی تصدیق نہیں کی ہے۔
تشدد کی تازہ لہر جمعہ کو شروع ہوئی جب اسرائیل کی جانب سے غزہ پر فضائی حملوں کے دوران پی آر سی یعنی پاپولر رزسٹنس کمیٹی کے سکریٹری جنرل کمانڈر زوہیر القاسمی اپنے دو ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
غزہ میں عسکریت پسندوں نے فوری ردعمل کے طور پر جنوبی اسرائیل میں راکٹوں کی بارش کردی۔ جس کے جواب میں اسرائیل نے مزید فضائی کارروائیوں کا آغاز کیا۔
علاقے میں تشدد میں اضافے نے عالمی طاقتوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو امن مذاکرات کی میز پر واپس لانے کی کوششیں تیز کریں۔







