سعودی عرب:’جادو ٹونے‘ کے جرم میں سر قلم

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ایک سعودی خاتون کو ’جادو ٹونا کرنے‘ کے جرم میں سزائے موت دے دی گئی ہے۔

ملک کے سرکاری خبر رساں ادارے کی جانب سے شائع کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ پیر کو شمالی صوبے جعف میں آمنہ بنت عبدالحلیم بن سلیم نصر کا سر قلم کر دیا گیا۔

وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ خاتون کو سزائے موت دینے کا فیصلہ سعودی عرب کی اعلٰی ترین عدالت نے برقرار رکھا تاہم وزارت کی جانب سے ملزمہ پر عائد الزامات کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی ہے۔

یہ رواں برس سعودی عرب میں جادو ٹونے کے الزام میں سر قلم کیے جانے کا دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے ستمبر میں ایک سوڈانی شخص کو بھی اسی الزام کے تحت سزائے موت دی گئی تھی۔

لندن سے شائع ہونے والے اخبار الحیات نے سعودی مذہبی پولیس کے ایک رکن کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہلاک کی جانے والی خاتون کی عمر ساٹھ کے پیٹے میں تھی اور ان پر لوگوں سے ان کی بیماریاں دور کرنے کے بہانے رقم بٹورنے کا الزام تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس خاتون کو اپریل سنہ دو ہزار نو میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم ایمنٹسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ انہیں اس خاتون کے خلاف مقدمے کے اطلاع اب سے پہلے نہیں تھی۔