’آئی ایس آئی کے اعلیٰ حکام لاعلم تھے‘

’میں صرف آئی ایس آئی کے میجر اقبال سے رابطے میں تھا۔ لیکن مجھے شک ہے کہ ان کے کرنل کو معلوم تھا‘
،تصویر کا کیپشن’میں صرف آئی ایس آئی کے میجر اقبال سے رابطے میں تھا۔ لیکن مجھے شک ہے کہ ان کے کرنل کو معلوم تھا‘

امریکہ کے شہر شکاگو کی عدالت کو ڈیوڈ ہیڈلے نے بتایا ہے کہ بھارت کے شہر ممبئی میں حملوں کے بارے میں پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے اعلیٰ عہدیداروں کو علم نہیں تھا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق امریکہ میں چلنے والے اس مقدمے کی سماعت کے دوران ہیڈلے نے کہا ’پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے اعلیٰ حکام کو ممبئی حملوں کا علم نہیں تھا۔ میں صرف آئی ایس آئی کے میجر اقبال سے رابطے میں تھا۔ لیکن مجھے شک ہے کہ ان کے کرنل کو معلوم تھا۔‘

یاد رہے کہ اس مقدمے میں آئی ایس آئی کے ایک اہلکار میجر اقبال کے علاوہ پاکستانی نژاد امریکی شہری رانا تہور اور کینڈین شہری ڈیوڈ کولمین ہیڈلی شامل ہیں جن پر نومبر دو ہزار آٹھ میں ہونے والے ان حملوں کی سازش اور معاونت کرنے کے الزامات ہیں۔

مقدمے میں پاکستانی نژاد ڈیوڈ کولمین ہیڈلی مقدمے میں وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں۔ استغاثہ کے وکلاء کا دعویٰ ہے کہ ان کے ڈیوڈ کولمین ہیڈلی اپنی گواہی میں ممبئی حملوں سے متعلق نام پتے اور تاریخیں بتائيں گے۔

سماعت کے دوران ہیڈلے نے بتایا کہ پاکستان میں القاعدہ سے روابط رکھنے والے شدت پسند گروپ کے رہنما الیاس کشمیری نے ان سے (ہیڈلے) سے دریافت کیا تھا کہ امریکہ میں بندوقیں حاصل کی جاسکتی ہیں یا نہیں۔ ہیڈلے کے مطابق الیاس کشمیری کی تنظیم لاک ہیڈ مارٹن کے چیف ایگزیکٹو کو قتل کرنا چاہتی تھی۔ یاد رہے کہ یہ کمپنی ڈرون بناتی ہے۔

’الیاس کشمیری کے چند لوگوں نے پہلے ہی سے چیف ایگزیکٹو کی نقل و حرکت پر نظر رکھی ہوئی تھی اور وہ صرف امریکہ میں اسلحہ چاہتے تھے۔‘

ہیڈلے کے بقول الیاس کشمیری پر ڈرون کے ذریعے حملہ کیا گیا تھا تاہم وہ ہلاک نہیں ہوا تھا۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق لاک ہیڈ کے حیف ایگزیکٹو کے قتل کے منصوبے پر سسری بات کرتے ہوئے ہیڈلے نے کہا کہ انہوں نے منصوبے کی تحقیق کے لیے رانا تہور کے دفتری کمپیوٹر کو چھپ کر استعمال کیا تھا۔ لیکن انہوں نے کہا کہ یہ آن لائن تحقیق قابلِ ذکر نہیں تھی۔