’ملک تصادم کی جانب بڑھ سکتا ہے‘

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کے مطابق آئیوری کوسٹ میں خانہ جنگی کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
بان کی مون نے آئیوری کوسٹ کے صدر لارین گوبیگو کے مداحوں کو خبردار کیا ہےکہ وہ ایلسین اوتتارا کے ہیڈکواٹر پر حملہ نہ کریں۔
بان کی مون کا کہنا تھا کہ سینچر کے روز حملے کی صورت میں آئیوری کوسٹ میں خانہ جنگی چھڑ سکتی ہے۔
آئیوری کوسٹ میں صدراتی انتخاب میں جیتنے کے دعویدار ایلسین اوتتارا کی حفاظت عابدجان میں اقوامِ متحدہ کےسپاہی کر رہے ہیں۔
علاقائی ممالک نے آئیوری کوسٹ کے صدر لارین گوبیگو کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی دھمکی دی ہے۔ دوسری جانب لارین گوبیگو نے یہ کہہ کر اقتدار چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے کہ گزشتہ ماہ ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کی گئی اور بین الاقوامی دباؤ کے باعث ملک میں مسلح تصادم کا خطرہ ہے۔
لارین گوبیگو نے یورو نیوز ٹی وی کو ایک انٹرویو میں کہا وہ خانہ جنگی میں یقین نہیں رکھتے لیکن اگر بین الاقوامی دباؤ اسی طرح جاری رہا تو ملک تصادم کی جانب بڑھ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اُن کے جانے سے اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کے ملک میں امن قائم ہو جائے گا۔
بدھ کے روز لارین گوبیگو کی حکومت میں شامل نوجوانوں کےاُمور کے وزیر چارلس گاؤڈ نے اپنے مداحوں کو کہا تھا کہ وہ سینچر کو گلف ہوٹل پر دھاوا بول دیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چارلس گاؤڈ کی اس دھمکی کے بعد بان کی مون کی دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انہیں اس دھمکی پر تشویش ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اقوامِ متعدہ کا امن مشن یلسین اوتتارا کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
بیان کے مطابق گلف ہوٹل پر حملے سے ملک میں خانہ جنگی کا خطرہ ہے۔
بدھ کے روز آئیوری کوسٹ کے اقوامِ متحدہ میں ایلسین اوتتارا کی جانب سے تعینات کیے گئے نئے سفیر یوسفو بامبا نے خبردار کیا تھا کہ ان کے ملک میں نسل کشی کا خطرہ ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ سے اپیل کی وہ آئیوری کوسٹ میں ہونے والے انتخابات کو چوری ہونے سے بچانے کے لیے اقدامات کریں۔
ان متنازع انتخابات کے بعد شروع ہونے والے انتخابی تشدد میں اب تک دو سو کے قریب افراد مارے گئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ نے گزشتہ روز یہ کہا تھا کہ آئیوری کوسٹ میں اتنی کشیدگی ہے کہ چودہ ہزار کے قریب افراد پناہ اور امن کی تلاش میں ہمسایہ ملک لائبیریا بھاگ گئے ہیں۔
خطے میں پندرہ رکنی ایک گروپ ایکواز نے چند دن پہلے اقتدار پر قابض صدر کو خبردار کیا تھا کہ اگر انھوں نے استعفیٰ نہ دیا تو ان کے خلاف طاقت استعمال کی جا سکتی ہے۔ اقوامِ متحدہ، یورپی یونین، امریکہ ، افریقی یونین اور مغربی افریقہ کے علاقائی بلاک ایکواز سب کا کہنا ہے کہ مسٹر اوتتارا نے نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کر لی تھی۔







