لیو شاؤبو کو رہا کیا جائے: نوبل کمیٹی کا مطالبہ

نوبل امن کمیٹی کے سربراہ توربیورن یاگلینڈ نے مطالبہ کیا ہے کہ منحرف چینی رہنما لیو شاؤبو کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
چین کی جانب سے شدید اعتراضات اور اٹھارہ ممالک کی جانب سے بائیکاٹ کے اعلان کے سائے میں ناروے میں امن کا نوبل انعام دینے کی تقریب منعقد ہو رہی ہے۔
<link type="page"><caption> ’سب سے بڑا باغی‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/12/101210_liu_xiaobo_profile_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>
اس برس امن کا نوبل انعام چین کے جمہوریت پسند کارکن لیو شاؤبو کو دیا گیا ہے جو اس وقت چینی جیل میں قید ہیں۔ انہیں امن و امان تباہ کرنے کے جرم میں گیارہ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں امن انعام دینے کی تقریب میں شاؤبو کی کرسی خالی رکھی گئی۔ جب لیوشاؤبو کا نام پکارا گیا تو حاضرین دو بار کھڑے ہو ان کے لیے زوردار تالیاں بجائیں۔
نوبل امن کمیٹی کے سربراہ توربیورن یاگلینڈ نے کروڑوں لوگوں کو غربت کے کنوائیں سے باہر نکالنے پر چین کی تعریف کی۔ انہوں نے اسے ایک غیرمعمولی کامیابی قرار دیا۔ تاہم انہوں نے چین کو خبردار کیا کہ ایک اہم عالمی طاقت ہونے کے ناطے اس پر لازم ہے کہ وہ تنقید کو مثبت طور پر قبول کرے۔
چین کا کہنا ہے کہ نوبل انعام دینے والی کمیٹی نے مغربی ممالک کے مقاصد پورے کرنے کے لیے ایک مجرم کا انتخاب کیا ہے جبکہ نوبل انعام کمیٹی کے مطابق اس انعام کو چین کے خلاف ایک قدم کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ چین نے جمعہ کو اوسلو میں نوبل امن انعام دینے کی تقریب سے پہلے کم سے کم بیس کارکنوں کوگرفتار کر لیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اقوامِ متحدہ کے مطابق جہاں اب تک لیوشاؤبو کے بیس حامیوں کی گرفتاری کی اطلاع ہے وہیں مزید ایک سو بیس افراد کو یا تو نظر بندی کا سامنا ہے یا ان کے سفر کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ چینی حکام نے لیوشاؤبو کی اہلیہ لیوزیا کو ان کے گھر میں نظربند کر دیا ہے جبکہ دیگر منحرف اور جمہوریت پسند کارکنوں کو بھی حکام کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

چین کے حقوقِ انسانی کے کارکنوں کے مطابق ان میں سے کچھ افراد کے ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ کچھ افراد کو ان کے گھروں سے آئندہ کچھ دنوں کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔ لاپتہ ہونے والوں میں ژانگ زوہوا بھی شامل ہیں جنہوں نے لیوشاؤبو کے ساتھ ملک کر چارٹر 08 نامی سیاسی منشور تیار کیا تھا۔
چین نہیں چاہتا کہ کوئی بھی شخص چین سے یہ انعام وصول کرنے کے لیے ناروے جائے اور یہ اطلاعات بھی ہیں کہ چین نے بی بی سی سمیت مختلف غیر ملکی ذرائع ابلاغ تک رسائی پر بھی پابندی لگا دی ہے۔
ادھر اس تقریب میں پہلے شرکت نہ کرنے کا اعلان کرنے والے ممالک میں سے ایک سربیا نے اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے تقریب میں شرکت کی ہے۔ سربیائی حکومت کے چین سے اچھے تعلقات ہیں تاہم یورپی یونین اور سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کا دباؤ فیصلہ بدلنے کی وجہ بنا ہے۔
اس سال تقریب میں مدعو کیے گئے ممالک میں سے تقریباً ایک تہائی چین کی ناراضگی کے ڈر سے اس میں شریک نہیں ہوں گے۔ چین نے ان ممالک سے کہا تھا کہ تقریب میں شرکت کی صورت میں وہ ان کے خلاف اقدامات کرے گا۔ چین کی جانب سے یورپی کمیشن کو لکھے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ ’ہمیں امید ہے کہ آپ کے ملک چین کے خلاف ہونے والی کسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیں گے‘۔
بی بی سی کے عالمی امور کے نامہ نگار مائیک وولرج کا کہنا ہے کہ اس برس نوبل امن انعام پر سیاست کا جو گہرا پردہ پڑا ہے وہ اس تقریب کو گہنا دے گا۔







