’انسانی حقوق، بانکی مون پر تنقید‘

فائل فوٹو، بانکی مون، چینی صدر
،تصویر کا کیپشنسیکرٹری جنرل بانکی مون کے ترجمان نے اس خبر کی تصدیق کی ہے کہ چینی صدر ہوجن تاؤ سے ملاقات میں اس مسئلے پر بات نہیں ہوئی ہے

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون کو چینی صدر کے ساتھ ملاقات کے دوران انسانی حقوق کا مسئلہ نہ اٹھانے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون پر زور دیا ہے کہ وہ چین میں امن کے نوبل انعام یافتہ لیو شاؤبو کی قید پر کھلے عام تشویش کا اظہار کریں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ سیکرٹری جنرل کی خاموشی افسوناک ہے اور انھوں نے حقوق کے لیے کام کرنے والے چینی کارکنوں کو ایک سرد پیغام دیا ہے۔

سیکرٹری جنرل بانکی مون کے ترجمان نے اس خبر کی تصدیق کی ہے کہ چینی صدر ہوجن تاؤ سے ملاقات میں اس مسئلے پر بات نہیں ہوئی ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ یہاں تک کہ انسانی حقوق کا سوال چینی صدر کے ساتھ نجی ملاقات میں بھی سامنے نہیں آیا ہے کیونکہ ملاقات میں اس کے علاوہ دیگر بے شمار مسائل پر بات چیت ہونی تھی۔

ترجمان کے مطابق بانکی مون نے بیجنگ سے کہا ہے کہ وہ افریقہ میں صومالیہ اور سوڈان جیسے تنازعات کو حل کرانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے پہلے ہی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون کو اس وقت تنقید کا نشانہ بنایا تھا جب چین میں قید لیو شاؤ کو امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا تو اس پر انھوں نے محتاط ردعمل ظاہر کیا تھا۔

جس وقت لیو تاؤ کو نوبل انعام دیا گیا تھا اس وقت سیکرٹری جنرل بانکی مون نے بلاواسط تعریف کی تھی لیکن ان کی رہائی کے لیے فون نہیں کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اپنی خاموش سفارت کاری کا دفاع کرتے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ جب سے انھیں دوسری مدت کے انتحاب کے لیے چین کی ضرورت ہے اس لیے وہ احتیاط سے چل رہے ہیں۔

کیونکہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممبران میں سے ایک ہے جس کے پاس کسی بھی فیصلے کو ویٹو کرنے کی طاقت ہے۔