عمر خضر کو چالیس سال کی سزا

ایک امریکہ فوجی عدالت نے گونتانامو کے سب سے کم عمر قیدی عمر خضر کو قتل اور دہشت گردی کے الزام میں چالیس سال قید کی سزا سنائی ہے۔
اگرچہ انہیں قتل اور دہشت گردی جیسے جرائم کا مجرم تو قرار دیا گیا ہے لیکن استغاثہ سے ہونے والے سمجھوتے یا ’پلی بارگین‘ کی وجہ سے وہ صرف آٹھ سال جیل میں رہیں گے۔
کینیڈا کی شہریت رکھنے والے عمر خضر کسی مغربی ملک سے تعلق رکھنے والے آخری قیدی تھے جو ابھی تک خلیج گونتانامو میں قائم حراستی مرکز میں رہ گئے تھے۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ ایک سال مزید امریکی حراست میں رہیں گے جس کے بعد انہیں کینیڈا بھیج دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ عمر خضر نے ایک ہفتہ پہلے ہی جنگی جرائم کے ٹربیونل کے سامنے اپنے اوپر عائد کیے گئے دہشتگردی کے پانچوں الزامات تسلیم کر لیے تھے۔

چوبیس سالہ عمر خضر پر افغانستان میں دستی بم پھینک کر ایک امریکی فوجی کو ہلاک کرنے کا الزام ہے۔ عمر خدر کینیڈا کے شہری ہیں اور انہیں سنہ 2002 میں پندرہ برس کی عمر میں افغانستان سے زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ٹربیونل میں عمر خضر پر جنگی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قتل کرنے، سازش کرنے اور ایک دہشتگرد تنظیم کو مدد فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
عمر خضر نے ٹربیونل کے سامنے ان الزامات کو تسلیم کرنے کے علاوہ بم نصب کرنے اور القاعدہ سے ہتھیار چلانے کی تربیت حاصل کرنے کا بھی اعتراف کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اطلاعات کے مطابق عمر خضر اور امریکی فوجی حکام کے درمیان اقبالِ جرم کی صورت میں سزا میں نرمی پر اتفاق ہوا ہے تاہم اس معاہدے کی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔ ممکنہ طور پر اس معاہدے کے بعد عمر کو اپنی تمام زندگی جیل میں نہیں گزارنی پڑے گی اور انہیں واپس کینیڈا کی جیل میں کم مدت کی سزا کاٹنے کے لیے بھی بھیجا جا سکتا ہے۔
خدر کے وکیل نے ٹربیونل کو بتایا کہ امریکی حکام نے ان کی یہ درخواست منظور کر لی ہے کہ خدر کو امریکہ میں ایک سال قید کاٹنے کے بعد بقیہ سزا کاٹنے کے لیے کینیڈا بھیج دیا جائے تاہم ان کا کہنا تھا کہ عمر خدر کی کینیڈا واپسی کا دارومدار کینیڈین حکام کی اجازت پر ہوگا۔







