گوانتانامو: کم عمر قیدی کا اقبالِ جرم

خلیج گوانتانامو میں واقع امریکی حراستی مرکز کے سب سے کم عمر قیدی عمر خضر نے جنگی جرائم کے ٹربیونل کے سامنے اپنے اوپر عائد کیے گئے دہشتگردی کے پانچوں الزامات تسلیم کر لیے ہیں۔
امریکی فوج کے سات افسران پر مشتمل ٹربیونل منگل کو عمر خضر کا بیان سننے کے بعد ان کی سزا کا تعین کرے گا۔
چوبیس سالہ عمر پر افغانستان میں دستی بم پھینک کر ایک امریکی فوجی کو ہلاک کرنے کا الزام ہے۔ عمر ضحصر کینیّا کے شہری ہیں اور انہیں سنہ 2002 میں پندرہ برس کی عمر میں افغانستان سے زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا تھا اور اگر ان پر فردِ جرم عائد کی گئی تو انہیں عمر قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔
جنگی جرائم کے ٹربیونل میں عمر خضر پر جنگی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قتل کرنے، سازش کرنے اور ایک دہشتگرد تنظیم کو مدد فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

عمر خصر نے ٹربیونل کے سامنے ان الزامات کو تسلیم کرنے کے علاوہ بم نصب کرنے اور القاعدہ سے ہتھیار چلانے کی تربیت حاصل کرنے کا بھی اعتراف کیا۔
اطلاعات کے مطابق عمر خضر اور امریکی فوجی حکام کے درمیان اقبالِ جرم کی صورت میں سزا میں نرمی پر اتفاق ہوا ہے تاہم اس معاہدے کی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔ ممکنہ طور پر اس معاہدے کے بعد عمر کو اپنی تمام زندگی جیل میں نہیں گزارنی پڑے گی اور انہیں واپس کینیڈا کی جیل میں کم مدت کی سزا کاٹنے کے لیے بھی بھیجا جا سکتا ہے۔
خضر کے وکیل نے ٹربیونل کو بتایا کہ امریکی حکام نے ان کی یہ درخواست منظور کر لی ہے کہ خضر کو امریکہ میں ایک سال قید کاٹنے کے بعد بقیہ سزا کاٹنے کے لیے کینیڈا بھیج دیا جائے تاہم ان کا کہنا تھا کہ عمر خضر کی کینیڈا واپسی کا دارومدار کینیڈین حکام کی اجازت پر ہوگا۔



