روس ایران میزائل سودہ’ختم‘

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنS-300 کے حصول سے فضائی حملوں کے خلاف ایران کا دفاع مضبوط ہوتا

روس کے ایک اعلیٰ فوجی جنرل نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ طیارہ شکن میزائل نظام کا جو سودا ہوا تھا اس پر اقوام متحدہ کی جانب سے نئی پابندیوں کے سبب پیش رفت نہیں ہوسکے گی۔

روس کے فوجی سربراہ جنرل نیکولائی میکاروف نے نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا کہ یقنناً میزائل کا یہ سودا جون میں عائد کی گئی پابندیوں کے زمرے میں آتا ہے۔

ایران کو طیارہ شکن میزائل S-300 نظام حاصل ہونے سے اس کی جوہری تنصیبات پر کسی بھی فضائی حملے سے بچنے کی دفاعی قوت بڑھ جائے گی۔

لیکن جنرل میکاریوف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ S-300 ( ایس تین سو نظام) ایران کو سپلائی نا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وہ یقنناً پابندی کے دائرے میں آتا ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا روس ایران کے ساتھ اپنے معاہدے کو توڑنا چاہتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’دیکھیں یہ ایران کے سلوک پر منحصر ہے۔‘

اس سے پہلے جون میں روس کے وزیر خارجہ سرگی لوریوف نے کہا تھا کہ جون میں اقوام کی طرف سے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اقوام متحدہ کی چوتھے دور کی عائد پابندیوں سے ایس 300 کا معاہدہ متاثر نہیں ہوگا۔

لیکن اس بیان کے بعد ہی وزیراعظم نے ایک بیان میں کہا تھا کہ دفاعی سودا معطل ہوگیا ہے۔

اس طرح کی قیاس آرئیاں کافی دنوں سے لگائی جاتی رہی ہیں کہ اسرائیل ایران کو جوہری ہتھیاروں سے باز رکھنے کے لیے اس کی جوہری تنصیبات پر فضائی حملہ کر سکتا ہے۔

جبکہ ایران اس بات سے انکار کرتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام ہتھیاروں کے حصول کے لیے ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس کے جوہری پروگرام کا مقصد جوہری توانائی کا حصول ہے نا کہ ہتھیاروں کا حصول۔