مسجد الاقصیٰ میں داخلے کا تنازع

مسجد الاقصیٰ
،تصویر کا کیپشنجمعہ کو صرف خواتین اور پچاس سال سے زیادہ عمر کے مردوں کو مسجد میں داخلے کی اجازت دی گئی

یروشلم میں فلسطینیوں کی طرف سے مظاہروں کی کال کے بعد بڑی تعداد میں پولیس کو تعینات کیا گیا ہے۔ یروشلم میں اس کشیدگی کی بنیاد مسجد الاقصیٰ میں داخلے کا تنازعہ ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق احتجاج کی کال حماس اور الفتح دونوں تنظیموں کی طرف سے دی گئی ہے، البتہ الفتح نے پرامن مظاہرے کے لیے کہا ہے۔

یروشلم میں گزشتہ ہفتے ٹکراؤ کے اِکا دکا واقعات ہوئے اور بظاہر ان کی وجہ یہ اطلاعات ہیں کہ انتہا پسند یہودیوں کو مسجد میں داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

دریں اثناء مشرق وسطیٰ کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی جارج مچل مذاکرات کے لیے خطے کا دورہ کرنے والے ہیں۔ امریکہ رکے ہوئے امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسرائیل کا غرب اردن میں فلسطینی اور امریکی مطالبات کے مطابق نئی بستیوں کی تعمیر روکنے سے انکار مذاکرات میں تعطل کا باعث بنا ہوا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ مشرقی یروشلم میں تعمیر جاری رکھے گا جبکہ فلسطینی کہتے ہیں کہ یہ ان کی ریاست کا دارالحکومت ہو گا۔

فلسطینی انتظامیہ نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ مشرقی یروشلم کو یہودی علاقہ بنانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے انتہا پسند یہودیوں کو مسجد الاقصیٰ میں رسائی دی ہے جبکہ مسلمانوں کو وہاں جانے سے روکا جاتا ہے۔

اسرائیلی پولیس نے جمعہ کو صرف خواتین اور پچاس سال سے زیادہ عمر کے مردوں کو مسجد میں داخلے کی اجازت دی ہے۔

مسجد کے مسئلے پر اس تازہ ترین تنازعہ کا آغاز فلسطینیوں کی طرف سے ان مسجد کی طرف آنے والے ان لوگوں پر پتھر پھینکنے سے شروع ہوا جن کے بارے ان کا خیال تھا کہ وہ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے یہودی ہیں۔ اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ دورہ کرنے والے لوگ فرانسیسی سیاح تھے۔