سعودی شہزادی کو پناہ مل گئی

اخبار انڈیپینڈنٹ کے مطابق سعودی شہزادی نے برطانوی جج سے کہا کہ اگر وہ اپنے ملک واپس گئیں تو وہاں انہیں سنگ سار کر دیا جائے گا۔
،تصویر کا کیپشناخبار انڈیپینڈنٹ کے مطابق سعودی شہزادی نے برطانوی جج سے کہا کہ اگر وہ اپنے ملک واپس گئیں تو وہاں انہیں سنگ سار کر دیا جائے گا۔

برطانیہ میں شائع ہونے والی ایک اخبار کے مطابق سعودی عرب کی ایک شہزادی کی برطانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواست منظور کر لی گئی ہے۔

شہزادی کی طرف سے سیاسی پناہ کی یہ درخواستان کے ہاں ایک انگریز کے ’ناجائز‘ بچے کی پیدائش کے بعد منظور ہوئی ہے۔

اخبار انڈیپینڈنٹ کے مطابق سعودی شہزادی نے برطانوی جج سے کہا کہ اگر وہ اپنے ملک واپس گئیں تو وہاں انہیں سنگ سار کر دیا جائے گا۔

شہزادی اپنے انگریز دوست سے جو مسلمان نہیں ہیں، برطانیہ کے دورے میں ملی تھیں۔ جب وہ واپس سعودی عرب گئیں تو ان کے بوڑھے شوہر کو شک پڑگیا جس کے بعد شہزادی واپس برطانیہ آ گئیں۔

سعودی شہزادی کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔تاہم بتایا جاتا ہے کہ وہ شاہی خاندان کے ایک عمر رسیدہ فرد کی اہلیہ ہیں۔

سعودی عرب یا برطانیہ کی حکومت نے اس خبر پر کسی ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔ سعودی عرب میں شادی شدہ عورت کے، کسی دوسرے مرد سے جنسی تعلقات کا الزام ثابت ہونے پر اسے سرِ عام کوڑوں مارے جا سکتے ہیں یا سنگسار کیا جا سکتا ہے۔

اخبار کے مطابق سعودی شہزادی کی سیاسی پناہ حاصل کرنے کی درخواست سعودی عرب کے شہریوں کی طرف سے دائر کی جانے والی ان چند درخواستوں میں سے ایک ہے جنہیں دونوں ممالک عوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا کرتے۔