جبری شادی روکنے کے لیے نئے اصول

برطانیہ میں حکومت کے اس یونٹ نے جسے زبردستی کی شادیوں کی روک تھام کے طریقوں پر غور کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہے چند نئے طریقے سوچے ہیں تاکہ جن لڑکیوں کی زبردستی شادی کردی جائے ان کے ساتھ زیادہ ہمدردانہ سلوک کیا جائے اور زیادہ مؤثر مدد کی جاسکے۔
یونٹ کا کہنا ہے اس کے پاس آنے والی شکایتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور عنقریب جب سکولوں میں گرمیوں کی چھٹیاں ہونگی تو جبری شادی کی شکایتیں بہت بڑھ جائیں گی۔
عام طور انہی دنوں نوعمر بچیوں کو تاریک مستقبل کا سامنا ہوتا ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق ستر فیصد جبری شادیاں پاکستان سے آنے والے گھرانوں میں ہوتی ہیں۔ حکومت برطانیہ کا کہنا ہے کہ زبردستی کی شادی کو ہرگز قبول نہیں کیا جاسکتا کیونکہ نوعمر بچیوں پر ان کا تباہ کن اثر ہوتا ہے۔
اس سلسلے میں برطانیہ میں نئے رہنما اصول شائع کیے جا رہے ہیں جن میں سکولوں سے کہا جائے گا کہ وہ آئندہ چھٹیوں سے قبل جبری شادیوں کی علامتوں کو پہچانیں۔
یہ رہنما اصول اس رپورٹ کے بعد سامنے آ رہے ہیں جس میں سکولوں اور کچھ کونسلز نے ماضی میں متاثرین کی جس انداز میں مدد کی ہے اس پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کہ سکول جبری شادیوں سے لڑکیوں کو بچانے کے لیے لیے زیادہ احتیاطی کردار ادا کریں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کچھ سکول اس معاملے میں پڑنے سے ہچکچاتے ہیں۔
حکومتی یونٹ کا کہنا ہے کہ اس سے اس برس سات سو ستر بار مدد کی درخواست کی گئی ہے جو گزشتہ برس کی نسبت سولہ فیصد زیادہ ہے۔ یونٹ کو گزشتہ برس سولہ سول رپورٹس ملی تھیں اور اس نے چار سو بیس واقعات میں مداخلت کی تھی۔
عدالتوں نے جبری شادیوں کو روکنے کے لیے چھتیس حکم جاری کیے ہیں۔ عدالتوں کو یہ اختیار حال ہی میں ملا ہے تا کہ لوگوں کو مرضی کے خلاف اس ملک سے باہر شادی کے لیے نہ لے جایا جا سکے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ اگلا ماہ بہت اہم ہے کیونکہ اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ لوگ سکولوں میں گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران بیٹیوں کو اور بعض مواقع پر بیٹوں کو اس ملک سے باہر شادی کے لیے مجبور کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چناچہ اساتذہ سے کہا گیا ہے کہ وہ اس طرح کے امکانات سے ہوشیار رہیں کیونکہ مجبور کیے جانے والے بچے، سکول یا کالج ہی میں آسانی کے ساتھ اپنے دل کی بات کہہ سکتے ہیں۔







