آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
صدام کی جیکٹ سے اسامہ کی رائفل تک، سی آئی اے کے خفیہ میوزیم میں کیا رکھا ہے؟
- مصنف, گورڈن کوررا
- عہدہ, سکیورٹی نامہ نگار، ورجینیا
یہ شاید دنیا کا سب سے غیر معمولی اور خاص میوزیم ہے جو ان نوادرات سے بھرا ہوا ہے جنھوں نے تاریخ کا دھارا موڑا ہے۔ لیکن اس کے دروازے عوام کے لیے سختی سے بند ہیں۔
لیکن یہ وہ واحد جگہ ہے جہاں صدام حسین کی چمڑے کی جیکٹ کے ساتھ رکھی اسامہ بن لادن کی وہ بندوق دیکھی جا سکتی ہے جو مرتے وقت ان کے پاس تھی۔
سی آئی اے کے خفیہ ان ہاؤس میوزیم میں خوش آمدید۔
لینگلے، ورجینیا میں امریکی انٹیلی جنس ایجنسی کے ہیڈکوارٹر کے اندر واقع اس میوزیم کی حالی میں ایجنسی کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر تزئین و آرائش کی گئی ہے۔
بی بی سی سمیت صحافیوں کے ایک چھوٹے سے گروپ کو اس تک خصوصی رسائی دی گئی تھی، البتہ ہمارے ساتھ حفاظتی دستے ہر وقت موجود تھے۔
ڈسپلے پر موجود 600 نوادرات میں سرد جنگ میں استعمال ہونے والے جاسوسی آلات کی قسمیں بھی موجود ہیں۔۔۔ ایک 'ڈیڈ ڈراپ چوہا' جس میں پیغامات چھپائے جاسکتے ہیں، سگریٹ کے پیکٹ کے اندر ایک خفیہ کیمرہ، ایک کبوتر جس میں جاسوس کیمرہ ہے اور یہاں تک کہ بم بن کر پھٹ جانے والا مارٹینی گلاس بھی۔
یہاں سی آئی اے کی کچھ مشہور اور حالیہ کارروائیوں کی تفصیلات بھی موجود ہیں۔
میوزیم میں اس کمپاؤنڈ کا ماڈل بھی رکھا گیا ہے جس میں پاکستان میں اسامہ بن لادن رہائش پزیر تھے۔ صدر اوباما کو 2011 میں القاعدہ رہنما کو ہلاک کرنے کے لیے ہونے والے حملے کی منظوری سے قبل یہ ماڈل دکھایا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میوزیم کے ڈائریکٹر رابرٹ زیڈ بائر جو ہمیں ٹور کروا رہے تھے، نے بتایا کہ ’تھری ڈی میں چیزوں کو دیکھنے سے پالیسی سازوں کو فیصلہ کرنے میں مدد ملی۔۔۔ اور ساتھ ہی ساتھ ہمارے آپریٹرز کو بھی مشن کی منصوبہ بندی کرنے میں آسانی ہوئی۔‘
اس سال 30 جولائی کو ایک امریکی میزائل نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک اور کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا۔ اس کا ہدف القاعدہ کے نئے رہنما ایمن الظواہری تھے۔
یہ بھی پڑھیے
اور حال ہی میں جس آپریشن کے ماڈل پر سے پردہ اٹھایا گیا ہے یہ اسی کمپاؤنڈ کا ایک ماڈل ہے جو صدر بائیڈن کو یکم جولائی 2022 کو مجوزہ مشن پر بریف کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس نے الظواہری کی حرکات پر مہینوں نظر رکھنے کے بعد انھیں بالکونی میں نشانہ بنایا تھا۔
بائر کہتے ہیں کہ ’اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انسداد دہشت گردی پر کام کرنے والے افسران ہدف کے طرز زندگی کو کس طرح دیکھتے ہیں۔‘
میوزیم کا پہلا نصف 1947 میں سرد جنگ کے دوران سی آئی اے کی بنیاد رکھنے سے آگے ترتیب وار چلتا ہے۔
میوزیم کا دورہ کرنے والوں میں سی آئی اے کے اپنے عملے کے ساتھ ساتھ سرکاری مہمان بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس میوزیم میں صرف کامیاب آپریشنز کی ہی نمائش نہیں کی گئی بلکہ بے آف پگز کی ناکامی بھی یہاں کا حصہ ہے۔۔۔ یہ وہ وقت تھا جب کیوبا میں فیڈل کاسترو کا تختہ الٹنے کے لیے سی آئی اے کا مشن تباہ کن حد تک ناکام ہوا۔
اس کے علاوہ یہاں عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تلاش میں ناکامی کے حوالے بھی موجود ہیں۔
بائر کہتے ہیں ’یہ میوزیم صرف تاریخ کو ایک جگہ جمع کرنے کی غرض سے نہیں بنایا گیا۔ یہ ایک آپریشنل میوزیم ہے۔ ہم سی آئی اے کے افسران کو (اس کے ذریعے) تاریخ میں واپس لے جا رہے ہیں تاکہ وہ کامیابی یا ناکامی کے ہر پہلو سے تاریخ جان سکیں۔‘
بائر مزید کہتے ہیں ’ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ہمارے افسران اپنی تاریخ کو سمجھیں، تاکہ وہ مستقبل میں بہتر کام کر سکیں۔ ہمیں اپنی کامیابیوں اور اپنی ناکامیوں سے سبق سیکھنا ہو گا تاکہ مستقبل بہتر بنایا جا سکے۔‘
البتہ یہاں سی آئی اے کے کام کے کچھ انتہائی متنازعہ پہلو کم نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایم آئی سکس کے ساتھ اس کا 1953 کا مشترکہ آپریشن، ایران میں جمہوری طور پر منتخب حکومت کا تختہ الٹنا اور 2001 کے بعد حال ہی میں مشتبہ دہشت گردوں پر کیے جانے والے تشدد کے حوالے سے یہاں کچھ نہیں رکھا گیا۔
’ہم نہ تصدیق کر سکتے ہیں اور نہ ہی تردید‘
میوزیم کا دوسرا نصف کچھ مخصوص آپریشنز کی تفصیلات دکھاتا ہے۔
’ہم نہ تو تصدیق کر سکتے ہیں اور نہ ہی تردید کر سکتے ہیں‘ یہ جملہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے کام کرنے والوں کی پہچان ہے مگر اس کے پیچھے اصلیت میوزیم میں بیان کی گئی ایک کہانی ہے جو پہلے کبھی نہیں سنی گئی اور نہ ہی ہمیں اس سے قبل ان اشیا کا علم ہو سکا جو اس سے منسلک ہیں۔
1960 کی دہائی کے آخر میں سوویت یونین کی ایک آبدوز سمندر کی تہہ میں کہیں گم ہو گئی۔ امریکہ کی جانب سے اسے تلاش کرنے کے بعد سی آئی اے نے ارب پتی ہاورڈ ہیوز کے ساتھ مل کر ملبے کو بازیافت کرنے اور اس میں موجود ٹیکنالوجی کو پانی سے باہر لانے کی کوشش کی۔
لہدا دنیا سے اصلیت چھپانے کے لیے ایک کور سٹوری تیار کی گئی تھی کہ ہیوز گلومر ایکسپلورر نامی جہاز کا استعمال کرتے ہوئے سمندر کی تہہ میں کان کنی کرنے جا رہا ہے۔
میوزیم میں سوویت آبدوز کے ایک ماڈل کے ساتھ ساتھ لباس، ایش ٹرے اور ڈاک والے تھیلے بھی ہیں جو گلومر کا کور برقرار رکھنے کے لیے بنائے گئے تھے۔ یہاں تک کہ سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے جہاز کے دورے کے دوران اپنا بھیس بدلنے کے لیے جو وگ پہنی تھی، اسے بھی یہاں نمائش پر رکھا گیا ہے۔
یہ مشن صرف جزوی طور پر کامیاب رہا کیونکہ جب گلومر کے فولادی پنجوں نے اسے اوپر لانے کی کوشش کی تو آبدوز ٹوٹ گئی تھی تاہم کچھ حصے بازیافت کر لیے گئے تھے۔
بائر کا کہنا ہے کہ ’اس آبدوز میں ملنے والی چیزوں میں سے زیادہ تر آج بھی ایک راز ہے۔‘
جب آبدوز کا بقیہ حصہ نکالے جانے سے پہلے پروجیکٹ ازورین کی خبریں مشہور ہونے لگیں، تو حکام کو کہا گیا کہ جو کچھ ہوا ہے اس کی وہ ’نہ تو تصدیق اور نہ ہی تردید‘ کر سکتے ہیں۔۔۔ اس ایک جملے کو ’گلومر رسپانس‘ کہا جاتا ہے اور آج بھی یہ بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔
آرگو نامی جعلی فلم کی کور سٹوری بنانے کے لیے استعمال ہونے والی اشیا بھی یہاں موجود ہیں۔ یہ 1979 کے انقلاب کے بعد ایران میں قید امریکی سفارت کاروں کو بچانے کے لیے کیے گئے آپریشن کی کور سٹوری تھی۔۔۔۔اس آپریشن کی کہانی پر بعد میں ہالی ووڈ فلم بنی۔
اس نمائش میں وہ آرٹ اور دیگر سامان موجود ہے جو اس جعلی فلم کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ آرٹ کو جان بوجھ کر ایسا بنایا گیا کہ اسے سمجھنا ناممکن ہو۔
اور جب بات سمجھنے کی ہو تو نئے میوزیم کی چھت میں مختلف قسم کے کوڈ میں چھپے ہوئے پیغامات بھی موجود ہیں۔
سی آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ان کی خواہش ہے کہ تصاویر کو سوشل میڈیا پر عوام کے ساتھ شیئر کیا جائے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا وہ اس آرٹ میں دیا گیا معمہ حل کر سکتے ہیں یا نہیں۔
نمائش کا کچھ حصہ آن لائن دیکھنے کے لیے بھی دستیاب ہو گا۔ لیکن میوزیم تک اس سے زیادہ رسائی مشکل ہو گی۔