روس نے یوکرین میں لڑنے کے لیے تین لاکھ ریزرو فوجی طلب کر لیے

روس کی وزرات دفاع کا کہنا ہے کہ تین لاکھ ریزرو فوجی اہلکاروں کو طلب کر لیا گیا ہے۔ روسی وزیر دفاع سرگئے شوئیگو کا ریکارڈ شدہ انٹرویو نشر کیا گیا ہے۔

انھوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فوجی تجربہ رکھنے والے افراد کو طلب گیا ہے۔

اس سے پہلے روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ٹیلی وژن پر خطاب میں کہا ہے کہ یوکرین کی جنگ کے لیے آج سے ریزرو فوج کے اہلکاروں کو طلب کیا گیا ہے۔

انھوں نے مغرب پر روس کے خلاف جوہری بلیک میلنگ کا الزام عائد کیا۔

ولادیمیر پوتن کا کہنا تھا کہ 'روس کے پاس جواب دینے کے لیے بہت سے ہتھیار ہیں'۔ اور یہ کہ وہ دھوکہ نہیں دے رہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ دونباس میں 'اپنے لوگوں' کا دفاع کر رہے تھے۔

روسی کے صدر نے کہا کہ روس کے زیر قبضہ یوکرینی علاقوں میں لوگ 'نیوں نازیوں کے زیر تسلط نہیں رہنا چاہتے۔'

ان علاقوں میں ریفرنڈم کروانے کے منصوبوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا 'ہم ان لوگوں کی حمایت کرتے ہیں۔'

روسی صدر پوتن کا کہنا تھا کہ مغرب روس کو بلیک میل کر رہا ہے لیکن روس کے پاس جوابی کارروائی کے لیے بہت سے ہتھیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا 'ہم اپنے لوگوں کا دفاع کرنے کے لیے تمام وسائل استعمال کریں گے۔'

انھوں نے الزام عائد کیا کہ مغرب یوکرین اور روس کے درمیان امن نہیں چاپتا۔

انھوں نے اپنی عوام سے کہا 'مجھے آپ کی حمایت پر بھروسہ ہے۔'

یوکرین کے چار علاقوں میں ریفرنڈم کا اعلان

یاد رہے کہ اس سے پہلے ماسکو نے اپنے زیر ِ قبضہ یوکرین کے چار علاقوں میں فوری طور پر ایک نام نہاد ریفرنڈم کا اعلان کیا تھا تاکہ انھیں روس میں ضم کیا جاسکے۔

یوکرین میں روسی افواج کی پیش قدمی حالیہ مہینوں کے دوران تھم گئی ہے جبکہ شمال مشرق میں یوکرین نے کئی علاقوں کو دوبارہ اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔

مشرق اور جنوب میں روسی حمایت یافتہ حکام کا کہنا ہے کہ وہ روس میں شمولیت کے لیے رواں ہفتے ووٹنگ کرانا چاہتے ہیں۔ 2014 میں روس نے اسی طرح کریمیا کو اپنے اندر ضم کیا تھا جس کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی تھی۔

ادھر یوکرین کے وزیر خزانہ نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’جھوٹے ریفرنڈم‘ سے کچھ تبدیل نہیں ہوگا۔

یوکرین کی افواج نے حالیہ دنوں میں میدانِ جنگ میں تیزی سے کامیابیاں حاصل کی ہیں اور مشرقی یوکرین کے روس کے زیر قبضہ لوہانسک کے علاقے پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

تاہم روسی افواج اب بھی ملک کے تقریباً پانچویں حصے پر قابض ہیں۔

تنازع کیسے بدل گیا؟

روس نے 24 فروری کو یوکرین کے دارالحکومت کیئو کو گھیرے میں لے کر یوکرین پر حملہ کر دیا۔ اس نے ملک کے جنوب، مشرق اور شمال میں بھی حملے شروع کیے۔

لیکن اپریل کے اوائل میں جب روس نے یوکرین کے دارالحکومت پر یلغار کا زور کم کیا تو یوکرینی افواج نے کیئو کے اردگرد کے بڑے علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا۔

روس تب سے یوکرین کے جنوب، مشرق اور شمال مشرق میں اپنی فوجی کارروائیوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے اور بڑے علاقوں پر قبضہ کر رہا ہے۔ تاہم ستمبر کے آغاز میں میدانِ جنگ کے حالات ڈرامائی طور پر بدل گئے۔

شمال مشرق میں فیصلہ کن حملے میں یوکرین نے روسی افواج کو پیچھے دھکیل دیا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے صرف خارخیو شہر کے اردگرد تین ہزار مربع کلومیٹر علاقہ روس کی افواج سے چھین لیا ہے۔

اس کی افواج نے مشرقی یوکرین میں لوہانسک کے علاقے کو بھی واپس لے لیا ہے۔ جولائی تک یہ علاقہ مکمل طور پر روس کے قبضے میں تھا۔

مجموعی طور پر یوکرین کا کہنا ہے کہ اس نے ستمبر میں روسی قبضے سے آٹھ ہزار مربع کلومیٹر (3,088 مربع میل) سے زیادہ کا علاقہ دوبارہ چھین لیا ہے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سے یہ اس کی سب سے اہم علاقائی کامیابیاں ہیں۔

ایزیوم اور کوپیانسک کے شہر، جن کے بارے میں یوکرین کا کہنا ہے کہ 10 ستمبر کو دوبارہ قبضہ کر لیا گیا تھا، دونوں روسی افواج کے لیے سپلائی کے اہم مراکز تھے۔ اس طرح، یہ فتوحات یوکرینی فوج کے لیے اہم سٹریٹیجک فوائد سمجھے جا رہے ہیں۔

ملک کے جنوب میں خیرسون علاقے کے اردگرد یوکرین نے جوابی حملہ بھی کیا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ فار دی سٹڈی آف وار (آیی ایس ڈبلیو) کا کہنا ہے کہ یوکرین کے فوجیوں نے روسی افواج کو ایک ’بڑی آپریشنل شکست‘ دی ہے۔

رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے جسٹن برونک نے کہا کہ خارخیو میں روسی پوزیشنز کو اب ’مکمل طور پر تباہی‘ کا سامنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اپریل میں کیئو کے قرب و جوار سے پیچھے ہٹنے کے بعد روسیوں کا انخلا یقینی طور پر سب سے زیادہ ڈرامائی پسپائی تھی جس کا مزا روسی افواج کو چکھنا پڑا ہے۔

روس کا کیا ردعمل تھا؟

روس نے تصدیق کی کہ اس کی افواج ایزیوم اور کوپیانسک سے پیچھے ہٹ گئی ہیں۔ اس نے کہا کہ یہ ’دوبارہ تیاری سے حملہ‘ کرنے کے لیے ایک سٹریٹیجک پسپائی ہے۔

اس نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ان علاقوں کو فوجی حملوں سے نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی پر عمل کرتا رہے گا۔

ایسا لگتا ہے کہ روسی افواج نے انخلا کے دوران بڑی مقدار میں ساز و سامان اور گولہ بارود چھوڑ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

روس کا کتنے علاقے پر قبضہ اب بھی برقرار ہے؟

آئی ایس ڈبلیو کے مطابق روس اب بھی یوکرین کے تقریباً 20 فیصد حصے پر قابض ہے۔

یہ علاقے زیادہ تر مشرقی ڈونباس کے علاقے اور مین لینڈ یوکرین کے جنوب میں ہیں، نیز جزیرہ نما کریمیا پر بھی اُس کا قبضہ ہے جسے روس نے سنہ 2014 میں ضم کر لیا تھا۔

ڈونباس بنیادی طور پر روسی بولنے والا علاقہ ہے، اور سنہ 2014 میں روس کی طرف سے کریمیا پر قبضے کے بعد، روس نواز فورسز نے ایک تہائی سے زیادہ علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس نے وہاں دو نام نہاد آزاد ریاستیں تشکیل دی ہوئی ہیں۔

لویو سمیت ملک کے مغربی علاقوں تک روسی میزائیلوں کے حملے ہوئے ہیں، لیکن روسی افواج کی جانب سے زمین پر قبضہ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔

روس کیا چاہتا ہے؟

روس اپنے حملے کو جنگ تسلیم نہیں کرتا اور کہتا ہے کہ وہ یوکرین میں 'خصوصی فوجی آپریشن' کر رہا ہے۔ کریملن نے کہا کہ اس کی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک کہ اصل میں طے شدہ تمام مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے۔

فروری میں حملے کا آغاز کرتے ہوئے، صدر ولادیمیر پوتن نے کہا تھا کہ ان کا مقصد ’یوکرین کو غیر فوجی بنانا‘ ہے۔

ایک مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ یوکرین مغربی دفاعی اتحاد نیٹو میں شامل نہ ہو۔ روس کا ابتدائی مقصد یوکرین پر قبضہ کرنا اور اس کی حکومت کو معزول کرنا تھا۔

تاہم اب ایسا لگتا ہے کہ اس نے اپنے عزائم کو یوکرین کے مشرق اور جنوب میں محفوظ کرنے تک محدود کر دیا ہے۔

یوکرین کیا چاہتا ہے؟

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ان کا بنیادی مقصد تمام روسی فوجیوں کو وہاں سے نکالنا ہے، تاکہ ’ہمارے پورے علاقے پر قبضہ ختم کر دیا جائے۔‘

زیلینسکی نے روس سے حاصل کیے گئے علاقوں کو برقرار رکھنے کے لیے مزید فنڈز اور فوجی ساز و سامان کی اپیل کی ہے۔

اسلحے کی مغربی سپلائی کو یوکرین کی افواج روس کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔

کتنے لوگ مر چکے ہیں؟

دونوں فریقوں کو نقصان ہوا ہے، حالانکہ دونوں میں سے کوئی بھی درست اعداد و شمار شائع نہیں کرتا ہے۔

یوکرین کا دعویٰ ہے کہ اس نے 50,000 سے زیادہ روسی فوجیوں کو ہلاک کیا ہے، اور اس نے اگست کے آخر میں کہا تھا کہ اس نے تنازع کے آغاز سے لے کر اب تک اس کے تقریباً 9000 فوجی ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔

روس شاذ و نادر ہی اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کا انکشاف کرتا ہے۔ اس نے جنگ کے آغاز سے لے کر اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کے آخری اعداد و شمار مارچ میں بتائے تھے جو کہ 1351 تھے۔

جولائی میں امریکی حکام نے اندازہ لگایا تھا کہ اس جنگ میں تقریباً 15,000 روسی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس جنگ میں عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ ستمبر کے آغاز میں اقوام متحدہ نے 5700 سے زیادہ عام شہریوں کی ہلاکتوں کا اندازہ لگایا تھا۔

تاہم ادارے کا کہنا ہے کہ شاید ہلاکتوں کی اصل تعداد اس اندازے سے کہیں زیادہ ہو۔