بشیر نورزئی: امریکی انجینئر کے بدلے رہا ہونے والے افغان ڈرگ لارڈ کون ہیں؟

Social Media / AFP

،تصویر کا ذریعہSocial Media / AFP

    • مصنف, سائمن فریزر اور برنڈ ڈیبس مین جونیئر
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

طالبان نے ایک امریکی انجینیئر کو رہا کر دیا ہے جسے انھوں نے 2020 سے یرغمال بنا رکھا تھا جبکہ اس رہائی کے بدلے میں امریکہ نے سنہ 2005 سے اپنی حراست میں رکھے گئے ایک افغان قبائلی رہنما کو رہا کیا ہے۔

طالبان کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ کے سابق افسر مارک فریرچ کو پیر کے روز کابل ہوائی اڈے پر امریکہ کے حوالے کیا گیا۔

بدلے میں طالبان کے اتحادی بشیر نورزئی کو طالبان کے حوالے کیا گیا ہے۔ نورزئی منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔

امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ امریکی انجینیئر کی رہائی کے بدلے میں ’مشکل فیصلے کرنے‘ پڑے ہیں۔

60 سالہ فریرچ کو طالبان نے افغانستان پر اگست 2021 میں دوبارہ قبضے سے ایک سال قبل یعنی 2020 میں اغوا کیا تھا۔

مارک فریرچ گذشتہ 10 سال سے سول انجینئر کے طور پر کابل میں رہ رہے تھے اور وہیں کام کرتے تھے۔

ملا عمر کے ’قریبی ساتھی‘ اور ڈرگ لارڈ بشیر نورزئی کا ہیرو جیسا استقبال

Social Media

،تصویر کا ذریعہSocial Media

امریکی انجینیئر کے بدلے رہائی پانے والے بشیر نورزئی جب رہائی کے بعد افغان دارالحکومت واپس پہنچے تو ان کا ہیرو کی طرح استقبال کیا گیا، اور طالبان جنگجوؤں نے انھیں پھولوں کے ہار پہنائے۔

انھوں نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا ’ایک امریکی کے بدلے میری رہائی سے دونوں ممالک کے درمیان امن قائم ہو جائے گا۔‘

نورزئی طالبان کے بانی ملا عمر کے قریبی ساتھی اور دوست تھے اور انھوں نے 1990 کی دہائی میں طالبان کی پہلی حکومت کی مالی مدد کی تھی۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ وہ کوئی سرکاری عہدہ نہیں رکھتے تھے لیکن ’اسلحے سمیت مالی مدد فراہم کرتے تھے۔‘

نورزئی ہیروئن کی سمگلنگ کے الزام میں 17 سال تک امریکی حراست میں رہ چکے ہیں۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے ملک کے جنوب میں طالبان کے روایتی گڑھ صوبہ قندھار میں افیون کی کاشت کا ایک وسیع آپریشن چلایا۔

سنہ 2005 میں ان کی گرفتاری کے وقت انھیں دنیا کے سب سے بڑے منشیات فروشوں میں سے ایک سمجھا جاتا تھا، جو افغانستان کی نصف سے زیادہ منشیات کی برآمدات کو کنٹرول کرتے تھے۔

سنہ 2008 میں انھیں نیویارک کی ایک عدالت نے 50 ملین ڈالر سے زیادہ کی ہیروئن امریکہ سمگل کرنے کی سازش کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

نورزئی نے اپنے اثر و رسوخ سے طالبان کے سپریم لیڈر کا عہدہ حاصل کرنے میں ملا عمر کی مدد کی

Bashir Noorzai attends press event at the Intercontinental Hotel in Kabul on September 19, 2022.

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننورزئی طالبان کے بانی ملا عمر کے قریبی ساتھی اور دوست تھے اور انھوں نے 1990 کی دہائی میں طالبان کی پہلی حکومت کی مالی مدد کی تھی

سنہ 2009 میں ایف بی آئی کی جانب سے ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا تھا کہ مقدمے کی سماعت کے دوران پیش کیے گئے شواہد کے مطابق، افغانستان کے سب سے بڑے اور بااثر قبائل میں سے ایک قبیلے کے رہنما بشیر نورزئی، افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار میں افیون کے کھیتوں کے مالک تھے، اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں لیبارٹریوں میں افیون تیار کرتے تھے۔

ان لیبارٹریوں سے ہیروئن کو بعد میں سوٹ کیسوں اور بحری جہازوں میں چھپا کر امریکہ میں درآمد کیا جاتا تھا۔ 1990 کے اوائل میں نورزئی کے پاس نیویارک شہر میں منشیات فروخت کرنے والوں کا ایک پورا نیٹ ورک تھا۔

افغانستان پر روسی قبضے کے دوران بشیر نورزئی نے مجاہدین اور جنگجوؤں کی اپنی فوج تیار کی، اور منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی سے اسے مسلح کیا۔ روسی فوج کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد نورزئی نے مغربی قندھار پر حکومت کی اور اس دوران اپنی پولیس، سرحدی محافظ اور عدالتوں کا نظام بنایا جسے وہ خود کنٹرول کرتے تھے۔

Poppy cultivation

،تصویر کا ذریعہGetty Images

1980 کی دہائی میں نورزئی کی ملا عمر سے ملاقات ہوئی تھی، اس وقت دونوں ایک ہی مجاہدین کے دھڑے میں لڑ رہے تھے۔ 1990 کی دہائی کے وسط میں جب طالبان افغانستان میں اقتدار پر قابض ہوئے تب نورزئی نے قندھار میں اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے طالبان کے سپریم لیڈر کا عہدہ حاصل کرنے میں ملا عمر کی مدد کی۔

اس کے بعد نورزئی نے طالبان کو اسلحہ فراہم کیا، جس میں AK-47 رائفلیں، راکٹ سے چلنے والے گرینیڈ لانچرز، اور ٹینک شکن ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ گاڑیاں اور منشیات کی سمگلنگ کی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک حصہ بھی شامل تھا۔

یہ بھی پڑھیے

سنہ 2001 میں، جب امریکہ نے افغانستان میں فوجی آپریشن شروع کیا تو مللا عمر کی درخواست پر نورزئی نے طالبان کو مزار شریف میں افغانستان کے شمالی اتحاد کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے اپنے 400 جنگجو فراہم کیے۔

مالی مدد کے بدلے طالبان نے نورزئی کو منشیات کی سمگلنگ کی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی

An undated photo provided in 2005 by the US Drug Enforcement Administration of Bashir Noorzai

،تصویر کا ذریعہHandout

،تصویر کا کیپشننورزئی ہیروئن کی سمگلنگ کے الزام میں 17 سال تک امریکی حراست میں رہنے کے بعد رہا ہوئے ہیں

ایف بی آئی کے مطابق نورزئی کی جانب سے مالی اور دیگر مدد کے بدلے، طالبان نے انھیں اپنی منشیات کی سمگلنگ والی سرگرمیوں کو بلا روک ٹوک جاری رکھنے کی اجازت دی۔

ایف بی آئی کی پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ نورزئی اور اُن کے ساتھیوں نے طالبان کی جانب سے سنہ 2000 میں افیون پر پابندی کے بارے میں پیشگی معلومات سے فائدہ اٹھایا، وہ اس معلومات کو استعمال کرتے ہوئے افیون کو بڑے پیمانے پر ذخیرہ کر چکے تھے اور پابندی کے بعد جب افیون کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو انھوں نے بعد میں زبردست منافع پر افیون فروخت کی۔

دورانِ سماعت نورزئی کو اُن کے خلاف دونوں الزامات (ہیروئن سمگل کرنے اور یہ جانتے ہوئے کہ یہ امریکہ میں درآمد کی جائے گی ہیروئن کو تقسیم کرنے کی سازش) کا قصوروار ٹھہرایا گیا۔

اس وقت قائم مقام امریکی اٹارنی لیو ایل ڈیسن کا کہنا تھا کہ بشیر نورزئی کے دنیا بھر میں منشیات کے نیٹ ورک نے طالبان کی حکومت کی حمایت کی جس نے افغانستان کو بین الاقوامی دہشت گردی کی پناہ گاہ بنا دیا، یہ ایک ایسا ورثہ ہے جو خطے کو عدم استحکام کا شکار کر رہا ہے۔ اور انھیں دی جانے والی سزا نورزئی کے طویل مجرمانہ کیریئر کو یقینی طور پر ختم کر دے گی۔‘

’خاندان نے واپسی کی امید نہیں چھوڑی تھی‘

Navy photo
،تصویر کا کیپشن60 سالہ فریرچ کو طالبان نے 2020 میں اغوا کر لیا تھا

مارک فریرچ کی رہائی کے بعد اُن کی بہن شارلین کاکورا کا کہنا ہے کہ ’خاندان نے اُن کے واپس آنے کی امید کبھی نہیں چھوڑی تھی۔‘

انھوں نے ایک بیان میں کہا ’میں یہ سُن کر بہت خوش ہوں کہ میرا بھائی محفوظ ہے اور وہ ہمارے پاس گھر لوٹ کر آ رہا ہے۔ ہمارے خاندان نے ان کی واپسی کے لیے 31 مہینوں سے بھی زیادہ عرصے سے ہر دن دعا کی ہے۔‘

’کچھ لوگ اس معاہدے کے خلاف بحث کر رہے تھے، لیکن صدر بائیڈن نے وہی کیا جو درست تھا۔ انھوں نے ایک بے گناہ امریکی کی جان بچائی ہے۔‘

فریرچ کے والد آرٹ فریرچ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں صدر بائیڈن کی طرف سے فون کال آئی ہے لیکن ابھی تک مارک سے بات نہیں ہو سکی۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم یقینی طور پر بہت خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ بہت وقت گزر گیا ہے۔‘

بحریہ کے اس سابق افسر کا طالبان کے ہاتھوں اغوا امریکہ اور طالبان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے میں ایک بڑی رکاوٹ بنا رہا ہے۔ یاد رہے کہ طالبان کی حکومت کو ابھی تک دنیا کے کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا ہے۔

صدر بائیڈن نے جنوری میں کہا تھا: ’اگر طالبان چاہتے ہیں کہ اُن کی حکومت کو تسلیم کرنے پر غور کیا جائے تو انھیں مارک کو فوری طور پر رہا کرنا چاہیے۔ اس کے بغیر کوئی بات چیت نہیں ہو گی۔‘

خیال کیا جاتا ہے ہے کہ کم از کم ایک اور امریکی شہری فی الوقت طالبان کی قید میں ہے۔ فلمساز ایور شیرر اور ان کے افغان پروڈیوسر فیض اللہ فیض بخش کو اگست میں کابل سے حراست میں لیا گیا تھا۔

قومی سلامتی کے ایک سابق اہلکار ایرک لیبسن، جنھوں نے فریرچ کے خاندان کی مدد کے لیے رضاکار کے طور پر کام کیا، کا کہنا ہے کہ صدر بائیڈن نے فریرچ کی رہائی کے لیے جو کچھ کیا ہے وہ اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ یرغمال بنائے گئے یا گرفتار کیے گئے دیگر امریکیوں کے لیے بھی ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں گے۔‘

لیبسن نے کہا کہ ’ان افراد کو امریکی ہونے کی بنا پر گرفتار کیا جا رہا ہے اور انھیں گھر واپس آنے کے لیے امریکی حکومت کی مدد کی ضرورت ہے۔‘