نور عنایت: وہ برطانوی جاسوسہ جنھیں سر میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا اور پھر لاش نذر آتش کی گئی

16 اور 17 جون سنہ 1943 کی درمیانی شب پورے چاند کی رات کی تھی۔ برطانیہ کے علاقے ٹینگمیر سے دو چھوٹے طیاروں نے فرانس کے لیے پرواز بھری۔

ان طیاروں نے انتہائی تاریکی میں ٹیک آف کیا تھا اور اُن کے پائلٹ اتنی عجلت میں تھے کہ اُنھوں نے اپنے گھٹنے پر رکھے نقشے پر نظر ڈالنے کے لیے ٹارچ تک کا استعمال نہیں کیا۔

ان طیاروں میں نہ تو کوئی بم تھا اور نہ ہی یہ دشمن کے علاقے کی جاسوسی کے لیے نکلے تھے بلکہ اُن کا کام جرمنی کے زیر قبضہ علاقوں میں وائرلیس ٹرانسمیٹر اور جاسوسوں کو پہنچانا تھا۔ اِن جاسوسوں میں سے ایک نور عنایت خان بھی تھیں جو ماسکو میں پیدا ہونے والی انڈین نژاد لڑکی تھیں۔

ان طیاروں کی زیادہ سے زیادہ رفتار 212 میل فی گھنٹہ تھی۔ برطانیہ میں اپنے خفیہ ٹھکانے (ٹینگمیر) سے اُڑان بھرنے کے بعد یہ طیارے رات کی تاریکی میں ڈیڑھ گھنٹے کا سفر کر کے فرانس کے کھیتوں میں اُترے۔

یہ طیارے اپنے ساتھ اضافی ایندھن کے ٹینک بھی لے گئے تھے، جس کی وجہ سے وہ 1150 میل طویل سفر کر سکتے تھے۔

نور عنایت خان سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کرواتی تھیں

ان طیاروں کے اوپری حصے اور پروں کو اس طرح پینٹ کیا گیا تھا کہ رات کے اندھیرے میں ان طیاروں کو دیکھنا بہت مشکل تھا۔ یہ طیارے انگلینڈ کے بہترین پائلٹس اڑایا کرتے تھے۔

نور عنایت خان کی سوانح عمری ’کوڈ نیم میڈلن: اے صوفی سپائی ان نازی اکوپائڈ پیرس‘ کے مصنف آرتھر جے میگیڈا لکھتے ہیں کہ ’اس رات طیارے کو اڑانے والے پائلٹ فرینک رملز کی نظر جب خوش شکل، گندمی رنگت اور فرانسیسی زبان بولنے والی نور پر پڑی تو انھوں نے سوچا کہ ایک ایسی نوجوان خاتون کو فرانس کیوں بھیجا جا رہا جو نظروں میں آئے بغیر نہیں رہ سکتی؟‘

وہ لکھتے ہیں کہ ’جاسوسوں کے بارے میں عام خیال یہ تھا کہ وہ جتنے سادہ شکل ہوں اتنی ہی آسانی سے لوگوں سے گھل مل جائيں گے۔ بہترین جاسوسوں کی خاصیت یہ تھی کہ وہ لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول نہیں کرواتے لیکن نور عنایت خان اس کے بالکل برعکس تھیں۔‘

’اُن پر نظر پڑتے ہی کوئی انھیں نظر انداز نہیں کر سکتا تھا۔ ان کے ساتھ تربیت حاصل کرنے والے ایک جاسوس نے کہا تھا کہ نور کو دیکھنے کے بعد انھیں کوئی نہیں بھول سکتا تھا۔‘

نور عنایت کے والد ایک صوفی مبلغ تھے جبکہ ان کی والدہ ایک امریکی خاتون تھیں۔

نور عنایت خان یکم جنوری سنہ 1914 کو سوویت یونین کے دارالحکومت ماسکو میں پیدا ہوئی تھیں۔ اُن کے والد ہندوستانی تھے جن کا نام حضرت عنایت خان تھا اور وہ ایک صوفی مبلغ تھے۔ اُن کی والدہ امریکی نژاد اورا رے بیکر تھیں جنھوں نے اپنا نام بدل کر امینہ شاردہ بیگم رکھ لیا تھا۔

نور کا تعلق میسور کے بادشاہ ٹیپو سلطان کی اولاد سے تھا۔ یہ وہ دور تھا جب چھوٹے پیروں والی خواتین خوبصورت سمجھی جاتی تھیں۔ اسی لیے نور کی والدہ بچپن میں اُن کے پاؤں باندھ دیتی تھیں تاکہ وہ ہمیشہ چھوٹے ہی رہیں۔

نور عنایت کی ایک اور سوانح عمری ’سپائی پرنسس: دی لائف آف نور عنایت خان‘ کی مصنفہ شرابنی باسو کہتی ہیں کہ ’نور ایک دبلی پتلی اور خوبصورت لڑکی تھیں۔ اُن کا قد صرف 5 فٹ 3 انچ تھا۔ انھیں موسیقی کا بہت شوق تھا۔ ان کے ایک بھائی کا نام ولایت خان تھا جنھیں وہ ’بھائی جان‘ کہہ کر پکارتی تھیں۔ اگرچہ نور کی والدہ امریکی تھیں لیکن نور کی پرورش ہندوستانی ماحول میں ہوئی تھی۔‘

’عنایت خان اپنے بھائیوں سے ہندی میں بات کرتے تھے اس لیے اُن کے دونوں بچے ہندی اور اُردو سمجھتے تھے۔ 12 سال کی عمر میں نور اپنے والدین کے ساتھ ہندوستان آئیں اور بنارس، جے پور گئیں۔ وہ دلی بھی گئیں جہاں انھوں نے صوفی بزرگ حضرت نظام الدین اولیا کے مزار پر حاضری دی۔ بیس سال کی عمر کے بعد نور نے یورپی لباس پہننا شروع کر دیا۔‘

وائرلیس آپریٹر کی تربیت

نور کے جاسوسی کے پیشے کی طرف راغب ہونے کی وجہ اُن کے بھائی ولایت خان تھے، جو رائل ایئر فورس میں نوکری کرتے تھے۔ انھی دنوں ’خواتین کی معاون فضائیہ‘ کا قیام عمل میں آیا تاکہ وہاں ایسی خواتین کو ملازمتیں دی جا سکیں جن کے گھر کے مرد میدان جنگ میں جا کر اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔

چنانچہ اس پروگرام کے تحت ہزاروں خواتین کو ٹیلی فون اور ٹیلی پرنٹر آپریٹر کے طور پر فضائیہ میں نوکریاں دی گئیں۔

نور کو 19 نومبر 1940 کو ’ایئر کرافٹ ویمن، سیکنڈ کلاس‘ کی نوکری مل گئی۔ نوکری ملنے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ روانی سے فرانسیسی بول سکتی تھیں۔

نوکری جوائن کرتے ہی انھیں 40 دیگر خواتین کے ساتھ وائرلیس آپریٹر کی تربیت کے لیے ہیروگیٹ بھیج دیا گیا۔ بعد ازاں انھوں نے ایڈنبرا میں وائرلیس ٹیلی گرافٹ کی تربیت بھی لی۔

ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کی حمایت

اس دوران وہ ہندوستان میں جاری آزادی کی جدوجہد کو بہت قریب سے دیکھ رہی تھیں۔

وہ جواہر لعل نہرو سے بہت متاثر تھیں۔ انھوں نے نہرو کی سوانح بھی خریدی جو اپنے بھائی ولایت کو اُن کی سالگرہ کے موقع پر تحفے کے طور پر دی۔

شرابنی باسو لکھتی ہیں کہ ’نور کا خیال تھا کہ ہندوستان کے سیاسی رہنماؤں کو ایسے وقت میں اپنی آزادی پر اصرار نہیں کرنا چاہیے جبکہ برطانیہ کی ساری توجہ لڑائی پر مرکوز ہے۔‘

’نور کا خیال تھا کہ اگر ہندوستان میں بسنے والے لوگ برطانیہ کا ساتھ دیں اور انھیں جنگ میں بہادری کے عوض تمغے ملیں تو انگریزوں کا اُن پر اعتماد بڑھ جائے گا۔ ان کے بھائی عنایت خان کو پختہ یقین تھا کہ اگر نور دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں میں بچ جاتیں تو وہ ہندوستان کی آزادی کو اپنا اصل ہدف بنا لیتیں۔‘

جاسوسی کا شعبہ اختیار کرنے سے قبل ایک افسر نے اُن سے پوچھا تھا کہ کیا وہ ہندوستانی لیڈروں کی برطانوی حکومت کے خلاف آزادی کی جنگ میں حمایت کرتی ہیں؟

اس سوال کے جواب میں نور عنایت نے اس امکان کو رد نہیں کیا۔ پھر اُن سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی یہ سوچ برطانوی راج کے حلف کے خلاف نہیں ہو گی؟

اس کے جواب میں نور نے سلیکشن بورڈ کے افسر کو بتایا کہ ’جب تک جرمنی کے ساتھ لڑائی جاری رہے گی وہ برطانوی حکومت کے ساتھ اپنی وفاداری برقرار رکھیں گی لیکن جنگ کے بعد وہ اپنی سوچ پر نظر ثانی کریں گی اور برطانیہ کے خلاف آزادی کی جدوجہد میں اپنے ملک کا ساتھ دے سکتی ہیں۔‘

جب افسر نے اپنا کلپ (بروچ) نور کو دیا

فرانس کے لیے روانہ ہونے سے قبل ایک سینیئر افسر ویرا اٹکنز نے نور کو ایک فرانسیسی شناختی کارڈ اور ایک چھوٹا پستول ’ویبلی ایم 1907‘ دیا۔ یہ پستول چار انچ لمبا تھا اور باہر سے واٹر گن جیسا لگتا تھا۔

آرتھر میگیڈا لکھتے ہیں کہ ’اٹکنز نے نور کی ہر جیب کی تلاشی لی۔ وہ ہر طرح کے لیبل، کاغذات، سگریٹ، سنیما اور ٹرین ٹکٹ جیسی ہر وہ چیز ہٹا دینا چاہتی تھیں جس سے یہ پتا چلے کہ وہ لندن سے آئی ہیں۔ جاسوسی کے مشن پر روانہ کرنے سے قبل ان کے بال فرانسیسی انداز میں کاٹے گئے اور درزی سے ان کے فرانسیسی طرز کے کپڑے سلوائے گئے تھے۔‘

جب نور نے اٹکنز کو الوداع کیا تو انھوں نے اُن کے لباس پر سلور برڈ بروچ کی تعریف کی۔ اٹکنز نے فوراً بروچ اُتار کر نور کے ہاتھ میں دے دیا۔ نور کا قد اتنا چھوٹا تھا کہ وہ خود جہاز میں سوار بھی نہیں ہو سکتی تھیں اور ایک ایئر مین کو انھیں کمر سے اٹھا کر جہاز میں بٹھانا پڑا تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

نور برطانیہ کو خفیہ معلومات بھیجنے لگیں

نور کو فرانس میں جہاز سے اُترتے ہی ایک سائیکل دے دی گئی۔ وہ سات میل سائیکل چلاتے ہوئے ’اِتیش‘ نامی گاؤں پہنچیں۔ وہاں سے وہ 200 میل دور پیرس جانے کے لیے ٹرین میں سوار ہوئیں۔

فرانس میں نور کا نیا نام ’ژاں میری رینیا‘ تھا۔ اپنی مہم پر نکلنے سے پہلے نور نے اس نام کو ان گنت بار لکھنے کی مشق کی تاکہ جب ضرورت پڑے تو یہ اُن کے پرانے نام کی طرح فطری طور پر اُن کے قلم سے نکلے۔ برطانیہ کے جاسوسی حلقوں میں ان کو ایک نیا نام ’میڈلین‘ بھی دیا گیا تھا۔

نور کے فرانس پہنچنے کے چند ہی دن میں نازیوں نے نور کے نیٹ ورک کے لگ بھگ تمام جاسوس ایجنٹوں کو گرفتار کر لیا تھا۔ اگلے چند ماہ کے دوران نور فرانس میں واحد برطانوی ایجنٹ رہ گئی تھیں۔

انھوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر جرمن فوجیوں کے بارے میں خفیہ معلومات انگلستان بھجوائیں۔ وہ فرانسیسی ریذیڈنٹ موومنٹ کی سرگرمیوں کی مکمل خبریں بھی برطانیہ کو پہنچاتی رہیں۔ انھوں نے ان کے لیے برطانوی جاسوسوں کے قاصد کا کام بھی کیا۔

نور کا سوٹ کیس پیراشوٹ سے گرایا گیا

آرتھر میگیڈا لکھتے ہیں کہ ’خفیہ سیل سنیما کے لیے کام کرتے ہوئے، نور ہر اتوار کو صبح 9:05 بجے لندن پیغامات بھیجتی تھیں۔ بدھ کو پیغامات بھیجنے کا وقت 2:10 ہوتا تھا جبکہ لندن سے انھیں ہر روز صبح 6 بجے اور دوپہر 1 بجے پیغامات بھیجے جاتے تھے۔

وہ اپنے فلیٹ کا دروازہ اسی وقت کھولتی تھیں جب آنے والا ان سے کوڈ ورڈ میں پوچھتا ’کیا میں اورا کی بیٹی ژاں میری سے مل سکتا ہوں؟‘

نور جب فرانس پہنچیں تو وہ اپنا ٹرانسمیٹر اپنے ساتھ نہیں لے جا سکیں۔ 21 جون کو بی بی سی نے اپنی نشریات میں کوڈ لینگویج میں ’کمشنر بیکمز سٹاک بروکر‘ کا پیغام دیا۔

اس کا مطلب یہ تھا کہ اس رات دو ریڈیو سیٹ اور نور کا سوٹ کیس پیراشوٹ کے ذریعے کھیتوں میں گرایا جائے گا۔ نور اس جگہ پہنچ گئیں جہاں ان چیزوں کو پیراشوٹ کے ذریعے گرایا جانا تھا۔

ریڈیو سیٹ بحفاظت نیچے اُتر گیا لیکن نور کا سوٹ کیس درخت میں پھنس گیا اور ان کے کپڑے باہر نکل کر درخت کی شاخوں میں پھنس گئے۔ نور اور ان کے دو ساتھی کسی طرح درخت پر چڑھ گئے اور وہ کپڑے ٹہنیوں سے واپس اُتار کر سوٹ کیس میں رکھے۔‘

ساتھی کی غداری سے نور پکڑی گئیں

اُن کے ایک ساتھی کی غداری کی وجہ سے نور کو جرمن ایجنٹس نے پکڑ لیا۔ جس شخص نے انھیں پکڑا اس کا نام پیئر کارتو تھا۔ جب انھوں نے اپنے فلیٹ کا دروازہ کھولا تو کارتو وہاں پہلے سے موجود تھا۔

شرابنی باسو لکھتی ہیں کہ ’جیسے ہی کارتو نے نور کی کلائی پکڑی، انھوں نے اسے اتنی زور سے کاٹ کھایا کہ اس کا خون بہنے لگا۔ کارتو نے انھیں صوفے پر دھکیل کر ہتھکڑی لگانے کی کوشش کی لیکن وہ نور پر قابو نہ رکھ سکے۔‘

آخر کار انھوں نے اپنا پستول نکالا اور نور کو دھمکی دی کہ اگر وہ اپنی پوزیشن سے ذرا بھی ہلیں تو وہ اُن پر گولی چلا دیں گے۔ ایک ہاتھ میں پستول پکڑے انھوں نے دوسرے ہاتھ سے فون نمبر ڈائل کیا اور کہا کہ مدد کے لیے مزید لوگوں کو بھیجا جائے۔‘

بعد میں ارنسٹ ووگٹ نے اس واقعے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھا کہ ’جب میں وہاں پہنچا تو پیئر کمرے کے سب سے دور کونے میں میڈلین کو کور کیے کھڑا تھا اور میڈلین صوفے پر شیرنی کی طرح بیٹھی تھیں۔

اُن کی آنکھوں سے غصہ جھلک رہا تھا اور وہ بار بار پیئر کو ’سیلز باخ‘ (گندا جرمن) کہہ کر مخاطب کر رہی تھیں۔ کارتو کی کلائی سے بہت خون بہہ رہا تھا۔‘

گرفتار ہوتے ہی فرار کی کوشش

پکڑے جانے کے بعد نور کو گسٹاپو (جرمن خفیہ ایجنسی) کے دفتر لے جایا گیا۔ انھوں نے شروع سے ہی جرمن انٹیلیجنس افسران پر واضح کر دیا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے، وہ ایک لفظ نہیں بولیں گی۔

جب انھیں جیل بھیجا گیا تو انھوں نے عجیب و غریب درخواست کی کہ وہ نہانا چاہتی ہیں۔ جرمن اُن سے بہت سے راز اگلوانا چاہتے تھے اس لیے وہ فوراً راضی ہو گئے لیکن گارڈز نے باتھ روم کا دروازہ تھوڑا سا کُھلا رکھا تاکہ وہ اُن پر نظر رکھ سکیں۔

شرابنی باسو لکھتی ہیں کہ ’لیکن نور نے وہاں بہت شور مچایا اور کہا کہ وہ مکمل غسل کرنا چاہتی ہیں اور نہیں چاہتیں کہ گارڈ انھیں برہنہ دیکھیں۔ جرمن دروازہ بند کرنے پر راضی ہو گئے مگر دروازہ بند ہوتے ہی نور باتھ روم کی کھڑکی سے چھلانگ لگا کر اس کے ساتھ والی بالکونی کی کھڑکی کے نیچے آ گئیں۔ وہ کسی بلی کی مانند چل رہی تھیں۔‘

’انھوں نے بھاگنے کی کوشش میں کوئی وقت نہیں لیا۔ یہ محض اتفاق تھا کہ جرمن افسر ووگٹ قریب ہی ایک اور بیت الخلا میں تھے۔ وہاں انھوں نے کھڑکی سے باہر دیکھا تو یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے کہ نور باہر گٹر کے پاس کھڑی تھیں۔ وہ اسی کھڑکی کی طرف بڑھ رہی تھیں جہاں وہ کھڑے ہوئے تھے۔‘

’انھوں نے نور کو وہاں تک آنے دیا اور پھر آہستہ سے ان سے کہا، میڈلین، بیوقوفی مت کرو۔ تم خود کو مار ڈالو گی۔ اپنی ماں کے بارے میں سوچو۔ اپنا ہاتھ میری طرف بڑھاؤ۔ ووگٹ نے ان کا کندھا پکڑا اور گھسیٹ کر نیچے لے گئے اور پھر نور کو ان کے سیل واپس پہنچا دیا۔‘

یہ بھی پڑھیے

فضائی حملے کی وجہ سے فرار ہونے کی دوسری کوشش

اپنے کمرے میں جا کر نور اس طرح پکڑے جانے پر رو پڑیں۔ انھوں نے اپنے آپ کو کوسنا شروع کیا کہ پکڑے جانے کے بجائے انھیں خودکشی کر لینی چاہیے تھی۔ کچھ دیر بعد جب ایک گارڈ ان کے لیے کھانا لے کر آیا تو انھوں نے کھانا کھانے سے انکار کر دیا۔

انھوں نے رات کا کھانا بھی نہیں کھایا۔ ووگٹ نے انھیں اپنے کمرے میں آنے کا حکم دیا۔ وہاں انھوں نے انھیں انگریزی چائے اور سگریٹ پیش کی۔ انھوں نے چائے پی اور یکے بعد دیگرے کئی سگریٹ پھونک دیے لیکن کھانے کو ہاتھ نہیں لگایا۔ نور ایک مشکل قیدی تھیں۔

وہ جیل میں اکثر ہلکے بھورے رنگ کا جمپر پہنتی تھیں۔ انھیں ان کپڑوں میں ہی گسٹاپو کے اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا۔ چند روز بعد انھوں نے جیل سے فرار ہونے کی ایک اور کوشش کی۔

وہ جیل کی چھت تک بھی پہنچ چکی تھیں لیکن یہ ان کی بدقسمتی تھی کہ اسی وقت برطانوی طیاروں نے اس علاقے پر فضائی حملہ کیا۔ حملے کا زور ختم ہونے کے بعد اہلکاروں نے جب اُن کے کمرے کی تلاشی لی تو نور وہاں نہیں ملیں۔

اس کے بعد جرمن فوجیوں نے اس پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ نور کو پکڑ لیا گیا اور جرمن سپاہیوں نے انھیں مارا پیٹا اور دوبارہ سیل نمبر 84 میں لے آئے۔

26 نومبر 1943 کو نور کو فرانس سے جرمنی جلاوطن کر دیا گیا۔ برلن کی براہ راست ہدایات کے بعد نور کو خطرناک ترین قیدیوں میں شامل کیا گیا۔

نور کو ہتھکڑیوں اور بیڑیوں سے باندھ کر رکھا گیا

جرمنی کی فورزیم جیل میں نور کے ہاتھ پاؤں بیڑیوں سے بندھے ہوئے تھے۔ ایک تیسری زنجیر سے ان کے ہاتھ پاؤں کو جوڑ دیا گیا تھا۔ وہ نہ سیدھی ہو سکتی تھیں اور نہ بیٹھ سکتی تھیں۔

ان لوگوں نے انھیں تقریباً بھوکا رکھا تھا۔ انھیں کھانے کے لیے صرف آلو کے چھلکے اور گوبھی کا سوپ دیا گیا۔ گسٹاپو نے انھیں ایک لمحے کے لیے بھی سکون سے نہیں بیٹھنے دیا۔ وہ ان سے سوال پر سوال پوچھتے رہے کہ اپنے ساتھیوں کے نام بتائیں لیکن نور نے ایک لفظ نہیں کہا۔

انھیں قید تنہائی میں رکھا گیا۔ وہ نہ کھا سکتی تھیں اور نہ ہی خود کو صاف رکھ سکتی تھیں۔ یہ کام ایک اور خاتون کیا کرتی تھیں جنھیں نور سے ایک لفظ بھی نہ بولنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

جیل کی کوٹھری میں پڑی نور کو دن اور وقت کا کوئی اندازہ نہیں رہا تھا۔ وہ پیش کیے جانے والے ناشتے اور دن اور رات کے کھانے سے وقت کا اندازہ لگاتی تھیں۔

ان کی کوٹھڑی کا دروازہ کبھی نہیں کُھلا۔ بھوک سے بہت کمزور ہونے کے باوجود نور کے حوصلے نہیں ٹوٹے تھے۔ زنجیروں میں جکڑے جانے کے باوجود وہ اپنی کوٹھڑی میں آہستہ آہستہ چلتی تھیں تاکہ دماغ متحرک رہے۔

پوائنٹ بلینک رینج سے گولی مار دی گئی

12 ستمبر کو نور کو ڈاکاؤ حراستی کیمپ لے جایا گیا۔ اس کے مرکزی دروازے پر لکھا تھا ’اربائت ماچٹ فرے‘ یعنی ’کام آپ کو آزاد کر دے گا۔‘ یہ ستم ظریفی تھی کیونکہ اس کیمپ سے بہت کم لوگ ہی زندہ نکل پاتے تھے۔

یہاں سنہ 1933 سے 1945 تک 30 ہزار لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا گيا تھا۔ اس رات نور کو بہت تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

شرابنی باسو کہتی ہیں کہ ’جرمن سپاہی ان کے سیل میں گھس آئے اور انھیں مارا پیٹا۔ پھر انھوں نے نور کے سارے کپڑے اُتار دیے۔ رات بھر انھوں نے ان کے جسم کے نازک حصوں کو اپنے موٹے جوتوں سے روندا۔ پھر ایک سپاہی نے انھیں گھٹنے کے بل بیٹھنے کو کہا اور اپنی پستول، پوائنٹ بلینک رینج سے ان کے سر کے پچھلے حصے پر گولی چلا دی۔‘

’نور عنایت خان کے مرنے سے پہلے آخری الفاظ ’لبرتے‘ تھے جس کا مطلب ’آزادی‘ تھا۔ اس وقت ان کی عمر صرف 30 سال تھی۔‘

’اس کے بعد اُن کی لاش کو کھینچ کر بھٹی میں پھینک دیا گیا، چند منٹ بعد عینی شاہدین نے شمشان گھاٹ کی چمنیوں سے دھواں اٹھتے دیکھا۔ انگلینڈ میں اس رات ان کی والدہ اور بھائی کو ایک ہی خواب آیا جس میں انھوں نے دیکھا کہ نور یونیفارم پہنے کھڑی تھیں اور ان کے چاروں طرف نیلی روشنی تھی اور وہ انھیں بتا رہی تھی کہ اب وہ آزاد ہیں۔‘

فرانس اور برطانیہ کی تعریف

نور کو سنہ 1949 میں برطانیہ کا سب سے بڑا اعزاز ’جارج کراس‘ دیا گیا۔ فرانس نے انھیں اپنے اعلیٰ ترین شہری اعزاز سے نوازا۔

فرانسیسی حکومت نے پیرس میں ان کے گھر ’فضل منزل‘ کے باہر تختی لگوا‏ئی۔ ہر سال باسٹیل ڈے پر ایک فرانسیسی فوجی بینڈ اُن کے اعزاز میں ایک دُھن بجاتا ہے۔

سنہ 2006 میں انڈیا کے اس وقت کے وزیر دفاع پرنب مکھرجی نے پیرس میں اُن کے گھر جا کر نور کو خراج عقیدت پیش کیا۔

8 نومبر 2012 کو لندن کے گارڈن سکوائر گارڈن میں برطانیہ کی شہزادی این نے اُن کے کانسی کے مجسمے کی نقاب کشائی کی۔

سنہ 2014 میں برطانیہ کی رائل میل نے نور عنایت خان کے اعزاز میں ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔