آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
گوسٹ فلائٹس: ایئرلائنز کو بنا مسافروں کے پروازیں کیوں چلانا پڑتی ہیں؟
- مصنف, کرٹینا جے اورگز
- عہدہ, بی بی سی نیوز ، منڈو
کوئی ایسا طیارہ کیوں اڑائے گا جس میں کسی کو سوار ہی نہ کیا گیا ہو؟ ایک ایئرلائن پائلٹ اور عملے کو ایسی پرواز کی ادائیگی کیوں کرے گی، کمرشل ہوائی جہاز اپنا ٹینک ایندھن سے بھر کر سامان یا مسافروں کے بغیر ہی کیوں ٹیک آف کرے گا؟
کیا واقعی ایسا ہوتا ہے؟
جی ہاں، یورپ میں ہر ماہ درجنوں ایسے طیارے ٹیک آف کرتے ہیں جو بنیادی طور پر خالی ہوتے ہیں یا اپنی گنجائش کے 10 فیصد سے بھی کم ہوتے ہیں۔ انھیں ’گوسٹ فلائٹس‘ یا بھوت پروازیں کہا جاتا ہے۔
بہت سے ہوائی اڈوں پر ایئر لائنز کو مقررہ اوقات میں اپنے ٹیک آف اور لینڈنگ کے حقوق کو برقرار رکھنے کے لیے طے شدہ پروازوں کا کم از کم 80 فیصد اڑانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس سے انھیں منسوخی کے لیے 20 فیصد تک مارجن ملتا ہے۔
اگر ان کے آپریشن اس تناسب پر پورا نہیں اترتے ہیں، تو وہ سلاٹ کو برقرار رکھنے کے لیے خالی طیاروں کو اڑانے پر مجبور ہو جاتے ہیں یا اگلے سال ان کے لیے بہترین تجارتی اوقات ضائع ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔
لندن سے صبح 6 بجے ٹیک آف کرنا بالکل ویسا نہیں ہے جیسا کہ 8 یا 9 بجے ٹیک آف ہوتا ہے۔
اور نہ ہی دوپہر 5 بجے میڈرڈ میں اترنا اور صبح ایک بجے اترنا ایک جیسا ہے، ایسے میں جب میٹرو پہلے ہی بند ہو چکی ہے اور شہر کے مرکز سے رابطے مشکل ہوں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان پر آنے والی لاگت بھی ایک جیسی نہیں ہے۔
’اسے استعمال کریں یا کھو دیں‘
لہٰذا سب سے زیادہ گنجان ہوائی اڈوں میں اور تمام ہوائی ٹریفک کو منظّم کرنے کے لیے، یورپی کمیشن اور امریکہ کی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) ’اس پر (سلاٹ) کا استعمال کریں یا اسے کھو دیں‘ کے اصول کا اطلاق کرتی ہے۔
ایئرپورٹس کونسل انٹرنیشنل کے مطابق ’گوسٹ فلائٹس وہ ہوتی ہیں جو ایئر لائنز کی طرف سے رضاکارانہ طور پر چلائی جاتی ہیں تاکہ ان کے سلاٹس کے تاریخی حقوق کو محفوظ رکھا جا سکے۔‘
یہ ادارہ، جو حکومتوں کے سامنے ہوائی اڈوں کے مفادات کی نمائندگی کرتا ہے، مزید کہتا ہے کہ ’گوسٹ پروازیں فروخت کے لیے پیش نہیں کی جاتیں، مسافروں کو لے کر نہیں جاتیں اور ایئرلائنز کے لیے آمدنی پیدا نہیں کرتیں۔‘
بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ان بھوت پروازوں سے کسی کو فائدہ نہیں ہوتا اور یہ ایک غیر ضروری اور فضول عمل ہے۔
گوسٹ فلائٹس کا نظام ہوائی اڈوں پر ان کی زیادہ سے زیادہ ممکنہ صلاحیت کے مطابق سلاٹس کی مربوط تقسیم کے علاوہ ایئر لائنز کے درمیان مسابقت کو یقینی بناتا ہے اور صارفین کو فائدہ ہوتا ہے۔
ورلڈ ایسوسی ایشن آف ایئر پورٹ کے صدر ڈیاگو آر گونزالیز کا کہنا ہے کہ ’یہ پروازیں ہیں جو، ترجیحی طور پر، اقتصادی معنی نہیں رکھتیں اور ماحولیاتی لحاظ سے کم اہم ہیں۔ ان میں مٹی کا تیل بہت زیادہ جلایا جاتا ہے جس کا موسمیاتی تبدیلیوں پر واضح اثر پڑتا ہے۔‘
روایتی اور کم قیمت والی ایئر لائنز
اس میں تجارتی پہلو یقیناً کلیدی ہے۔
گونزالیز کہتے ہیں ’سلاٹس مقررہ اوقات یا شفٹ ہوتی ہیں۔ اگر وہ انھیں استعمال نہیں کرتے تو ان پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ اگلے سال ایئرپورٹ اتھارٹی انھیں کسی دوسری کمپنی کو تفویض کرتی ہے اور ایئر لائنز کے لیے یہ مارکیٹ شیئر کھونے جیسا ہے۔‘
وکیل کے لیے، روایتی ایئر لائنز اور حال ہی میں مارکیٹ میں آنے والی ایئرلائنز کے درمیان ایک بولی لگتی ہے، جو کیریئرز کو ضابطے کی تعمیل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کی ترغیب دیتی ہے، چاہے وہ خالی پرواز ہی کیوں نہ ہو۔
وہ کہتے ہیں ’جو ایئر لائنز مارکیٹ پر حاوی ہیں وہ ایسا کرتی ہیں کیونکہ ان کے پاس بہترین نظام الاوقات ہیں، جو سب سے مہنگے ہیں۔ یہ وہ راستے ہیں جو سہولت کے لحاظ سے مرکزی اوقات میں ہوائی اڈوں پر پہنچتے ہیں۔‘
’چونکہ ایک غالب کیریئر جس کا شیڈول کے مطابق روٹ پر کوئی مقابل نہیں ہوتا وہ قیمتیں کم نہیں کرتا۔‘
انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر ولی والش کہتے ہیں کہ ’یہ کاروباری ماڈل ایئر لائنز کو سلاٹ برقرار رکھنے کے لیے کم صلاحیت پر یا خالی رہتے ہوئے پرواز کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔‘
’اگر آپ ریگولیٹڈ صلاحیت کے ساتھ دو ہوائی اڈوں کے درمیان اڑان بھرتے ہیں، تو آپ کو پرواز نہ کرنے کے لیے دونوں کی اجازت لینا ہو گی۔‘
ایئر لائنز اس اصول میں زیادہ لچک کا مطالبہ کرتی ہیں۔
لیکن خالی جہاز اڑانے سے پہلے متاثرہ ایئر لائن مسافروں کو پرواز کی طرف راغب کرنے کی کوشش میں قیمتیں بھی کم کر سکتی ہے۔
یہ ایک نادر پالیسی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ماحولیاتی نقصان
ایروناٹیکل انڈسٹری کے اس نازک توازن میں ماحولیاتی نقصان میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ہوا بازی کاربن کے عالمی اخراج میں تقریباً دو فیصد کے لیے ذمہ دار ہے لیکن مجموعی طور پر یہ شعبہ انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے گلوبل وارمنگ میں تقریباً 3.5 فیصد کا حصے دار ہے۔
اور یہ ایک ایسا شعبہ ہے جو ترقی کرتا رہے گا۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے مطابق، 2000 کے بعد سے، اخراج میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے اور توقع ہے کہ اگلی دو دہائیوں تک ہر سال صنعت 4 فیصد سے زیادہ بڑھے گی۔
گرین پیس کے مطابق ’یورپ میں گوسٹ فلائٹس‘ سے ماحولیاتی نقصان ’14 لاکھ زیادہ کاروں کے سالانہ اخراج کے برابر‘ ہے۔
ہوا بازی کی صنعت نے 2050 تک کاربن کے اخراج کا خاتمہ کرنے کا عہد کیا ہے۔
لاطینی امریکہ میں ایسا نہیں ہوتا
لاطینی امریکہ اور کیریبین میں صورتحال مختلف ہے۔
اس بات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ ایک حد تک گنجائش رکھنے والے ہوائی اڈوں پر یہ سلاٹ سسٹم نافذ ہے۔
گونزالیز کہتے ہیں ’ظاہر ہے کہ کچھ ممالک جیسے برازیل، میکسیکو، پیرو اور کولمبیا میں ہوائی اڈے مخصوص اوقات میں گنجان ہوتے ہیں لیکن ابھی اس خطے میں ایسا نہیں ہو رہا ہے کیونکہ ہوائی اڈوں کی صلاحیت اس نہج تک نہیں پہنچی ہے جہاں انھیں پابندیوں کی ضرورت ہو۔‘
اگرچہ وبا کے بعد مسافروں کی تعداد بہتر ہو رہی ہے تاہم ہوائی جہازوں کی نقل و حرکت کی تعداد اتنی نہیں بڑھی کہ ہوائی اڈوں کو اقدامات کرنے پر مجبور کیا جائے۔