مائیکل جارڈن: امریکی سپورٹس لیجنڈ کی عالیشان پراپرٹی جو آدھی قیمت پر بھی فروخت نہیں ہو رہی

کھیل کی دنیا کے امیر ترین اور پسندیدہ کھلاڑی ہونے کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ امریکی باسکٹ بال لیجنڈ مائیکل جارڈن کو ان مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا جو کسی عام شخص کو درپیش ہوتی ہیں۔

گذشتہ 10 سال سے مائیکل جارڈن شکاگو سے 40 کلومیٹر دور ہائی لینڈ پارک میں اپنے پر تعیش حویلی نما گھر کو بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ جگہ، جس کی تعمیر سنہ 1995 میں ان کی خواہش پر مکمل ہوئی تھی، نوے کی دہائی میں مائیکل جارڈن کی پناہ گاہ سمجھی جاتی تھی۔

یہ وہ وقت تھا جب مائیکل جارڈن شکاگو بلز باسکٹ بال ٹیم کے کپتان تھے اور تین بار نیشنل باسکٹ بال ایسوسی ایشن ٹائٹل جیت چکے تھے۔ یہی نہیں، سپانسر شپ معاہدوں اور دیگر ذرائع آمدن کی مدد سے وہ ایک خطیر رقم کما چکے تھے۔

مشہور شخصیات کے تناظر میں بھی ان کا ہائی لینڈ مینشن نہایت شاندار ہے۔ پانچ ہزار سکوائر میٹر پر پھیلے اس مینشن میں نو کمرے اور 19 باتھ روم ہیں ایک سینیما، فٹنس جم، ٹینس کورٹ حتیٰ کہ ایک ان ڈور باسکٹ بال کورٹ بھی ہے۔

اس کا گیراج اتنا وسیع ہے کہ اس میں 14 گاڑیاں سما سکتی ہیں۔

مائیکل جارڈن سنہ 2003 میں حتمی طور پر باسکٹ بال کیریئر سے سبکدوش ہو گئے تھے۔ اب وہ فلوریڈا ریاست کے شہر جوپیٹر میں ایک اور حویلی نما گھر میں رہتے ہیں۔

انھوں نے اس پراپرٹی کو سنہ 2012 میں فروخت کرنے کا ارادہ ظاہر کر دیا تھا جس کی قیمت 29 ملین امریکی ڈالر رکھی گئی تھی۔

لیکن اب یہ رقم تقریباً آدھی ہو چکی ہے۔ کپماس نامی سٹیٹ ایجنٹ، جو اسے فروخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کی ویب سائٹ پر اب اس پراپرٹی کی قیمت 14.9 ملین یعنی تقریباً ڈیڑھ کروڑ امریکی ڈالر ہے۔ پاکستانی روپے میں یہ تین ارب سے زیادہ کی رقم بنتی ہے۔

2013 میں اس گھر کو اس سے بھی کم قیمت پر فروخت کرنے کی کوشش کی گئی تھی جو ناکام ہو گئی۔ اس وقت اس کی قیمت 13 ملین ڈالر رکھی گئی تھی۔

حال ہی میں نیٹ فلکس نے مائیکل جارڈن کے شکاگو بلز میں آخری سیزن پر ایک ڈاکومینٹری بنائی جس کے بعد ان کی زندگی میں لوگوں کی دلچسپی ایک بار پھر سے بڑھ گئی تھی۔ اس وقت یہ توقع ظاہر کی گئی کہ شاید اب کوئی ان کی اس عالی شان حویلی کو خرید لے لیکن ایسا نہیں ہوا۔

امریکہ میں پراپرٹی ماہرین کا ماننا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ مینشن کیوں نہیں فروخت ہو رہا۔

ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ہائی لینڈ کا علاقہ اصل مسئلہ ہے کیونکہ یہ شکاگو ڈاؤن ٹاون سے قریب نہیں۔

’یہ دودھ کی خریداری جیسا نہیں‘

مارکیٹ واچ نامی مالیاتی ویب سائٹ سے انٹرویو میں لگژری پراپرٹی کنسلٹنٹ ایڈم روزن فیلڈ نے یہ بھی کہا کہ ’مائیکل جارڈن کی حویلی ان کی خواہش کے مطابق بنائی گئی تھی اس لیے یہ ضرروی نہیں کہ ایک عام خریدار کے لیے بھی یہ اتنی ہی دلچسپی رکھتی ہو۔‘

’کسی کی مرضی اور خواہش کے حساب سے بنی پراپرٹی کو بیچنا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

مائیکل نورمنڈ بھی لگژری پراپرٹی فروخت کرنے کا کام کرتے ہیں۔ انھوں نے ’ہالی وڈ رپورٹر‘ میگزین کو بتایا کہ ’اس طرح کی پراپرٹی کو خریدنا ایسا ہی ہے جیسے آپ آرٹ خرید رہے ہیں۔‘

’ایک طرف عام گھر ہوتے ہیں جو پہلے بھی کئی بار فروخت ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب اس طرح کے نہایت مہنگے اور بڑے گھر ہوتے ہیں جن کی کوئی مثال نہیں ہوتی۔‘

’یہ دودھ کی خریداری جیسا نہیں، جہاں آپ آن لائن دیکھ کر طے کر سکتے ہیں کہ قیمت کیا ہے۔‘

سیلیبرٹیز کی مایوسی

فوربز میگزین کی امیر ترین افراد کی تازہ ترین فہرست کے مطابق مائیکل جارڈن کے اثاثہ جات کی مالیت اس وقت تقریبا 1.7 ارب امریکی ڈالر ہے۔

شاید ان پر اس گھر کو بیچنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

اس کے باوجود اب وہ مشہور شخصیات کی ایک ایسی فہرست میں شامل ہو چکے ہیں جن کو اس بات کا ادراک ہو رہا ہے کہ ان کے خوابوں کا محل خریدنے میں کسی کو دلچسپی نہیں۔

ان سے پہلے مشہور ہالی وڈ اداکار ٹام کروز بھی ایسے ہی تجربے سے گزر چکے ہیں۔ انھوں نے سنہ 2014 میں کولیریڈو میں اپنی رینچ 59 ملین ڈالر کی قیمت کے ساتھ بیچنے کی کوشش کی۔

وہ اسے بیچنے میں کامیاب ہوئے بھی لیکن اس کام میں ان کو سات سال لگے اور آخر میں اس کی قیمت بھی 39 ملین ڈالر لگی تھی۔