آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
یوکرین کے سورج مکھی کے بیج چرانے کے لیے روس کس طرح سوشل میڈیا کا استعمال کر رہا ہے؟
- مصنف, آندریئی زخاروو اور ماریا کورنیوک
- عہدہ, بی بی سی
بی بی سی نے ایسے اہم شواہد دیکھے ہیں جس سے یہ پتا چلتا ہے کہ یوکرین کے مقبوضہ علاقوں میں روسی افواج مقامی کسانوں سے منظم طریقے سے نہ صرف یوکرین کے اناج پر قبضہ کر رہی ہیں بلکہ سورج مکھی کے بیج بھی لے رہی ہیں۔
ہم نے ان کسانوں سے بات کی ہے جنھوں نے اپنی فصلوں سے ہاتھ دھو لیا ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے نجی اور عوامی سطح پر سوشل میڈیا گروپس میں ہونے والی بات چیت کو ٹریک کیا ہے جس سے یہ پتا چلتا ہے کہ ان بیجوں کو کس طرح یوکرین کے جنوبی اور مشرقی مقبوضہ علاقوں سے روس منتقل کیا جا رہا ہے۔
دونوں ممالک سنہ 2021 میں سورج مکھی کے تیل کے دنیا کے سب سے بڑے برآمد کنندگان تھے۔ یوکرین نے 51 لاکھ ٹن تیل فروخت کیا تھا جبکہ روس نے 31 لاکھ ٹن تیل فروخت کیا۔
اب ایسا لگتا ہے کہ روسی تیل جزوی طور پر یوکرین کے بیجوں سے تیار کیا جا رہا ہے، جو کہ یوکرین کی زراعت کی علامتوں میں سے ایک ہے۔
جولائی کے وسط میں یوکرین کے مقبوضہ جنوب مشرق میں واقع شہر میلیٹوپول میں روس کے تعینات کیے گئے حکام نے مقامی کسانوں سے ملاقات کی۔ اور اس ملاقات کی فلم بندی بھی کی گئی۔
آندرے سیہوتا نے، جو اپنے آپ کو میلیٹوپول کے علاقے میں [روسی مسلط کردہ] فوجی سویلین انتظامیہ کا سربراہ کہتے ہیں، ایک اعلان کیا:
'ہم نے ریاستی اناج کمپنی بنائی ہے، جس نے اناج کے لیے مجوزہ قیمتیں مقرر کی ہیں اور ہم سورج مکھی کے بیجوں کی بھی قیمت مقرر کریں گے۔' سیہوتا نے کسانوں کو محتاط انداز میں دیکھتے ہوئے یہ باتیں کہیں۔
بہر حال ایسا کوئی قانونی ادارہ یوکرین یا روس میں رجسٹرڈ نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس میٹنگ کی ویڈیو کریملن کے حامی ایک ٹیلی گرام چینل پر شائع کی گئی ہے۔ اسے ایک کمرے میں فلمایا گیا جہاں ایک اسٹیج پر یوکرین کی دو اہم علامتیں آویزاں تھیں: گندم کے سٹوں کا کچھا اور سورج مکھی کا گلدستہ۔
یوکرین کے سورج مکھی کے بیجوں کی ٹریکنگ
تقریباً 500 شرکاء پر مشتمل ایک مربوط واٹس ایپ چیٹ میں، صارفین یوکرین کے مقبوضہ حصوں سے روس تک فصلوں کو منتقل کرنے کے آرڈر دیتے ہیں۔ اس گروپ کے ایک رکن نے چیٹ کے اسکرین شاٹس بی بی سی کے ساتھ شیئر کیے۔
جولائی 18 کے ایک پیغام میں گروپ کے ایک رکن نے لکھا: بیج۔ (یوکرین کے) زیپروززھیا کے علاقے چرنیہیوکا سے (روس کے علاقے) روستوو آن دون (جانا ہے)۔ بڑی مقدار میں۔'
اسی دن، ایک اور صارف کسی ایسے شخص کی تلاش میں تھا جو سورج مکھی کے بیج خود ساختہ لوہانسک پیپلز ریپبلک سے روس لے جا سکے۔
انھوں نے لکھا: 'ہم ٹرانسپورٹ ایسکارٹ فراہم کریں گے۔ وہاں کوئی لڑائی نہیں ہو رہی ہے، امن و سکون ہے۔ صرف روسی چوکیاں ہیں۔ آپ وہاں سے جلدی گزر جائیں گے۔'
بی بی سی نے آن لائن ڈیٹا بیس میں چیٹ سے حاصل کردہ درجن بھر ٹیلیفون نمبر کا پتا چلایا تو معلوم ہوا کہ وہ بنیادی طور پر ٹرک ڈرائیوروں یا کارگو ٹرانسپورٹیشن سے متعلق چھوٹے کاروباریون اور مالکان کے نمبر تھے۔
ان کے علاوہ بہت سے روسی یا ان کے ساتھ تعاون کرنے والے ٹیلی گرام کے کھلے چیٹس میں اناج کو ڈھونے والوں کی تلاش میں نظر آتے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار نے اپنی شناخت کو پوشیدہ رکھتے ہوئے ان سے کئی ٹرکوں کے مالک کی حیثیت سے بات کی۔
جنوب مشرقی یوکرین سے فصلوں کو لے جانے کے لیے ٹرک تلاش کرنے والی روسی مرسل ایلینا نے ہمیں بتایا کہ 'بیج چوری کے نہیں ہیں۔'
انھوں نے کہا کہ 'ان پر [روس کی طرف سے مسلط کردہ] فوجی سویلین انتظامیہ کا کنٹرول ہے۔ یہ صاف شفاف لین دین ہیں۔ بیج قانونی طور پر خریدے گئے ہیں۔'
جنوبی یوکرین میں روسی کی تعینات کردہ ایک انتظامیہ نے ان فصلوں کو ضبط کر لیا ہے یا ان کے الفاظ میں اسے 'قومی (ملکیت) بنا لیا ہے جنھیں انھوں نے سرکاری ملکیت والے یوکرینی اداروں میں پایا ہے یا پھر جنگ کی صورت میں جہاں انھیں عسکری ضرورتوں کے لیے ذخیرہ کیا گیا تھا۔ یہ وہ فصلیں ہو سکتی ہیں جنھیں ایلینا کے بقول 'قانونی طور پر خریدا گیا' ہے۔
دیگر اشتہارات ملک کے مشرق میں موجود خارکیو کے علاقے کے مقبوضہ حصے کے بارے میں ہیں۔
بی بی سی کی نظر سے جو اشتہارات گزرے ہیں ان میں سے ایک میں کہا گیا ہے: 'لوڈنگ پوائنٹ - کوپیانسک، یوکرین کا خارکیو کا علاقہ، ان لوڈنگ - وورونز کا علاقہ [روس]۔ جلدی! کل لوڈ ہو رہا ہے۔'
اس اشتہار کو وکٹر نامی شخص نے پوسٹ کیا تھا اور انھوں نے اپنی شناخت ایک روسی تاجر کے طور پر کی تھی۔ انھوں نے بھی ہمیں یقین دلانا چاہا کہ بیج 'سرکاری طور پر' خریدے گئے ہیں۔
انھوں نے بی بی سی کے صحافی کو، جس نے خود کو اناج کی گاڑیوں کے مالک کے طور پر متعارف کرایا تھا، بتایا کہ 'آپ کے پاس پورے دستاویزات ہوں گے۔' لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان دستاویزات میں کیا ہے۔
روسی یوکرین کے بیج کیسے 'خرید' رہے ہیں؟
یوکرین کے کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر ان کی فصلوں کو 'ضبط' نہیں بھی کیا جاتا ہے، تو وہ انھیں مارکیٹ کی قیمت سے بہت کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔
ہم نے جنوبی یوکرین کے ایک مقبوضہ علاقے کے ایک کسان سے بات کی۔ انھوں نے قبضے کے بعد وہ مقبوضہ علاقے چھوڑ دیا ہے لیکن ان کے ملازمین اب بھی وہاں موجود ہیں۔ اس لیے انھوں نے اپنا نام ظاہر نہ کیے جانے کی درخواست کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مئی کے آخر میں روسی فوجی ان کے گودام میں آئے اور ان کی اجناس کو ضبط کر لیا۔
انھوں نے کہا: 'ہمارے گودام میں سورج مکھی کے 1,200 ٹن بیج اور 860 ٹن گندم تھی۔ اور انھوں [روسیوں] نے سب کچھ لوٹ لیا۔'
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے بتایا: 'پہلے تو انھوں نے ہمارے گارڈ کے ساتھ شائستہ رہنے کی کوشش کی۔ انھوں نے کہا: یہ ہمارا نہیں بلکہ ہمارے کمانڈر کا حکم ہے۔ لیکن یہ واضح نہیں تھا کہ ان کا کمانڈر کہاں تھا۔ انھوں نے صرف اچھے ہونے کا دکھاوا کیا۔ انھوں نے ساری فصل بھر لی اور لے گئے۔ وہ کوئی قیمت دینے والے نہیں تھے۔ اور گارڈ کیا کر سکتے تھے؟ ان لوگوں نے انھیں مارا پیٹا۔'
کسان کے حساب سے چوری کی گئی فصلوں کی کل قیمت 820,000 (جنگ سے پہلے کی شرح پر) ڈالر تھی۔ ان کے مطابق ان کے اوزار بھی چلے گئے جو ان کے مطابق 18 لاکھ ڈالر کی مالیت تھی۔
جنوبی یوکرین کے زاپوریزھیا علاقے کی کسانوں کی ایک ایسوسی ایشن کی سربراہ ولیریا ماتویینکو کہتی ہیں کہ اگر کسان قابض حکام کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کرتے ہیں تو بس ان سے بیج اور دیگر فصلیں لے لی جاتی ہیں۔
اور اگر کوئی کسان مقبوضہ علاقوں میں اپنی زرعی مصنوعات بیچنا چاہتا ہے، تو اسے روس کے مسلط کردہ 'فوجی شہری انتظامیہ' کے تحت رجسٹر ہونا پڑتا ہے۔
ماتویینکو کہتی ہیں کہ 'بہت سے کسان رجسٹر نہیں کرانا چاہتے تھے، اس لیے انھوں نے بیج اپنے گوداموں میں رکھے ہوئے تھے۔ اگر کوئی بڑا کسان رجسٹر نہیں کرنا چاہتا تو ان کا سب کچھ ضبط کر لیا جاتا تھا۔ [روسی] گوداموں میں داخل ہوتے ہیں اور سب کچھ لاد کر لے جاتے ہیں۔ وہ بس ایک خط لے کر آتے ہیں جس میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ 'آپ کے ادارے کو روسی فیڈریشن کے حق میں قومی بنا لیا گیا ہے۔'
جبکہ دوسری جانب یوکرین کے مقبوضہ علاقوں میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسان سورج مکھی کے بیج کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ روسی فی ٹن 150 ڈالر کی پیشکش کر رہے ہیں جبکہ جنگ سے پہلے یہ قیمت 600-700 ڈالر ہوا کرتی تھی۔
جنوبی یوکرین کے مقبوضہ خیرسون علاقے میں بھی یہی صورتحال ہے۔ مقامی کسانوں کی انجمن کے سربراہ اولیگزینڈر ہورڈینکو کہتے ہیں: 'کسان [بیج] بیچتے ہیں کیونکہ انھیں ڈیزل، ایندھن اور کھاد خریدنے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اگر وہ [روسی] اس طرح کم قیمت پیش کرتے رہے تو پھر اگلے بوائی کے موسم شروع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔'
یوکرین کے سورج مکھی کے بیجوں کا روس کیا کر رہا ہے؟
سورج مکھی کے بیجوں سے بنی اہم مصنوعات تیل ہے۔ بی بی سی نے جتنے بھی اشتہارات کا تجزیہ کیا ہے ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوکرین کے بیج لے جانے والے ٹرکوں کی منزل روس میں تیل نکالنے کے پلانٹ تھے۔
مقبوضہ خارکیو کے علاقے سے فصلیں پہنچانے کے لیے ٹرک متلاشی وکٹر نے کہا: 'ہم براہ راست پلانٹ لے جاتے ہیں، ہم گوداموں میں [بیج] نہیں اتارتے۔'
ایک اشتہار میں ان بیجوں کی منزل روس کے جنوب مغربی وورونز کے علاقے کا ایک گاؤں ورخنیایا خاوا تھا، جہاں روسی کمپنی 'بلاگو' کے تیل نکالنے کا پلانٹ ہے۔
اناج برداروں کی خدمات حاصل کرنے کے اشتہارات میں ایک اور مقام کا ذکر ہے جو روس کے مغربی روستوو کے علاقے میں واقع گیگانٹ گاؤں ہے، جہاں روسی کمپنی 'ریسورس' کا تیل تیار کرنے کا پلانٹ ہے۔
تیسرے اشتہار میں روستوف آن ڈان کی لوگوایا کی نو نمبر گلی کا پتا ہے۔ یہ روس کے جنوب میں ملک کی اہم زرعی صنعتی کمپنیوں میں سے ایک کا پتہ ہے۔
بی بی سی نے تبصرے کے لیے ان کمپنیوں سے رابطہ کیا، لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
یہ بھی خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ روس یوکرین سے تیار سورج مکھی کا تیل بھی اسمگل کر سکتا ہے۔
زیپورززھیا کے علاقے میں کسانوں کی تنظیم کی سربراہ ولیریا ماتویینکو کا کہنا ہے کہ مقبوضہ میلیتوپول میں تیل نکالنے کے پلانٹ کو سورج مکھی کا تیل بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جسے بعد ازاں کریمیا کے راستے روس پہنچایا جاتا ہے۔
ایک مقامی کسان نے بی بی سی کو بتایا کہ 'پراسیسنگ جاری ہے، اور آپ اسے سونگھ بھی سکتے ہیں۔ وہاں بہت اچھی خوشبو پھیلی ہے جسے آپ تین کلومیٹر کے فاصلے سے بھی سونگھ سکتے ہیں۔'
ایک خاتون جو اب بھی مقبوضہ میلیتوپول میں ہیں انھوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انھوں نے سازو سامان کو پلانٹ کے اندر اور باہر جاتے دیکھا ہے۔
ہم نے میلیتوپول میں تیل نکالنے والے پلانٹ کے مالک سرہی زیلیو سے پوچھا تو انھوں نے ہمیں بتایا کہ پلانٹ کام نہیں کر رہا تھا۔ جب ہم نے اس سے مقامی دعوؤں کے بارے میں پوچھا کہ اس پر قبضہ کر لیا گیا تھا اور اب اسے روسی افواج چلا رہی ہیں تو انھوں نے فون بند کر دیا۔