ایمن الظواہری کی موت کے بعد اب القاعدہ کا کیا بنے گا؟

    • مصنف, فرینک گارڈنر
    • عہدہ, بی بی سی نامہ نگار برائے سکیورٹی امور

القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی اچانک ہلاکت، جو کہ مکمل طور پر غیر معمولی نہیں تھی، کے بعد ایک ناگزیر سوال نے جنم لیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اب القاعدہ کا کیا بنے گا؟

اہم سوال یہ بھی ہے کہ القاعدہ کیا ہے اور کیا سنہ 2022 میں یہ تنظیم اتنی اہم رہی بھی ہے یا نہیں۔

عربی میں القاعدہ کا مطلب ہے ’بنیاد‘۔ القاعدہ ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم ہے جس کا کام دنیا بھر میں مغربی مفادات پر حملے کرنا اور ایشیا اور افریقہ کے ان ممالک میں حکومتوں کو گرانا ہے جو اس تنظیم کے خیال میں مغربی ممالک کے قریب ہوں اور جہاں اسلام پر بطور مذہب اتنا عمل نہ ہو رہا ہو۔

اس تنظیم کی بنیاد سنہ 1980 کی دہائی کے اواخر میں افغانستان اور پاکستان کی سرحدی علاقے میں ان عرب رضاکاروں نے رکھی تھی جو پہلے ہی افغانستان میں سویت یونین کے خلاف برسرپیکار رہے تھے۔

کچھ عرصہ پہلے تک لوگوں کو ’القاعدہ‘ کے نام سے کافی واقفیت تھی اسے مغرب میں سب سے بڑے سکیورٹی خطرے کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔

اور اس کا سبب یہ تھا کہ اس تنظیم نے اس عرصے میں کافی ممالک میں موجود اپنے ٹارگٹس پر خوفناک، پیچیدہ اور کامیاب حملے کیے تھے۔ اور انھی کامیاب حملوں کے نتیجے میں اس تنظیم کی صفوں میں مزید متشدد پیروکاروں کو شامل ہونے کی ترغیب ملی تھی۔

سنہ 1998 میں اس تنظیم نے یکے بعد دیگرے کینیا اور تنزانیہ میں موجود امریکی سفارتخانوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں بہت سے شہری ہلاک ہوئے۔

سنہ 2000 میں القاعدہ نے عدن کی بندرگاہ میں امریکی بحری جہاز ’یو ایس ایس کول‘ کو بارود سے بھری ایک چھوٹی سپیڈ بوٹ سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اس جہاز پر سوار 17 ملاح ہلاک ہوئے اور اربوں ڈالر مالیت کا یہ امریکی جنگی بحری جہاز تباہ ہوا۔ پھر 11 ستمبر 2001 کو نیویارک میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں ’دنیا ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔‘

کئی ماہ کی خفیہ منصوبہ بندی کے بعد القاعدہ کے دہشت گردوں نے چار امریکی ایئرلائنز کو ہائی جیک کیا۔ اس میں سے دو مسافر طیاروں کو نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرایا گیا، جس کے نتیجے میں یہ دونوں عمارتیں آگ، شعلوں اور دھویں کی شکل میں زمین بوس ہو گئیں۔

تیسرے طیارے کو امریکی محکمہ دفاع کے مرکز پینٹاگون سے ٹکرایا گیا جبکہ چوتھے جہاز میں سوار مسافروں نے ہائی جیکرز پر قابو پا لیا اور یہ طیارہ ایک میدان میں کریش ہوا جس کے نتیجے میں جہاز میں سوار تمام مسافر اور عملے کے ارکان ہلاک ہو گئے۔

اس روز امریکہ میں تقریباً 3000 لوگ مارے گئے۔ ان حملوں کو ’نائن الیون‘ کہا گیا کیونکہ یہ حملے نویں مہینے کی گیارہ تاریخ کو ہوئے تھے۔

یہ امریکی سرزمین پر تاریخ کا سب سے بدترین حملہ تھا اور یہی حملہ امریکہ کی سربراہی میں دہشت گردی کے خلاف 20 سالہ متنازع جنگ کی بنیاد بنا۔

یہ بھی پڑھیے

نائن الیون کی منصوبہ بندی القاعدہ نے افغانستان کے پہاڑوں میں کی، افغانستان میں القاعدہ کو طالبان کی پشت پناہی ملی ہوئی تھی۔ آخر کار افغانستان پر حملہ کیا گیا، وہاں طالبان کی حکومت ختم ہو گئی اور القاعدہ کو وہاں سے نکال باہر کیا گیا۔

مگر امریکہ کو القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں مارنے کے لیے مزید دس برس انتظار کرنا پڑا۔

سوال یہ ہے کہ اسامہ کی ہلاکت کے بعد سے اب تک کیا ہوا اور اب القاعدہ کس حالت میں ہے؟

اعلیٰ سطح پر تبدیلی

اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد خالی القاعدہ کی سربراہی جلد ہی ایمن الظواہری نے لے لی۔

ایک سابق آنکھوں کے سرجن ایمن الظواہری 11 برس تک القاعدہ کے سربراہ رہے مگر اس دوران وہ نوجوان اور متشدد ذہن رکھنے والوں کے درمیان کبھی بھی ایک پیش رو کی کرشماتی شخصیت کی مانند نہیں رہے۔

ان کے ریکارڈ شدہ ویڈیو پیغامات جو القاعدہ کے پلیٹ فارمز سے نشر ہوتے ان میں ہمیشہ مغرب اور اس کے اتحادیوں پر حملے کرنے کی ترغیب دی جاتی اور یہ پیغام طویل اور بور کر دینے والے ہوتے تھے۔

وہ بڑے پیمانے پر کبھی بھی لوگوں میں مقبول بھی نہیں رہے تھے۔

القاعدہ کو ایک نئے گروپ، جو خود کو دولتِ اسلامیہ یا ’آئی ایس‘ کہتا ہے، سے بھی مسائل کا سامنا رہا۔ نوجوان جہادی جو بے صبری سے نئے حملوں کے منتظر رہتے تھے وہ ہمیشہ القاعدہ کی لیڈر شپ کا مذاق اڑاتے تھے اور کہتے تھے کہ جب وہ (القاعدہ) باتیں کر رہے ہوتے تھے تو ’آئی ایس‘ میدان میں عملی کارروائی کر رہی ہوتی تھی۔

بہتر انٹیلیجنس، کم کامیابیاں

نائن الیون کے حملے امریکہ کی انٹیلیجنس کی تاریخی ناکامی تھے۔

واشنگٹن پہلے سے ان حملوں کی پلاننگ سے آگاہی حاصل نہ کر سکی اور اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اپنی خفیہ معلومات ایف بی آئی اور دیگر ایجنسیوں کے ساتھ شیئر نہیں کرتی تھی اور جواباً دوسری ایجنسیاں اور ایف بی آئی بھی انٹیلیجنس شیئرنگ کو لے کر یہی رویہ اختیار کیے ہوئے تھی۔

مگر ان حملوں کے بعد یہ صورتحال بدل چکی ہے۔ امریکہ اور اس کی اتحادی ایجنسیاں اب بہت اچھی طرح آگاہ ہیں، وہ زیادہ سے زیادہ مشاورت کرتی ہیں اور القاعدہ اور ’آئی ایس‘ کی اندر کی معلومات کی موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ دہشت گردی کے حملوں کی کامیابی کے تناسب میں کمی۔

افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں

لیکن اس حقیقت سے کوئی فرار نہیں کہ گذشتہ برس افغانستان سے مغربی افواج کے انخلا نے وہاں القاعدہ کے لیے نئے مواقع پیدا کر دیے ہیں۔

یہ حقیقت کہ الظواہری کابل کے ایک سیف ہاؤس میں بہت آرام دہ زندگی گزار رہے تھے، اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ طالبان کے اندر موجود کٹر جہادی عناصر القاعدہ سے تعلق توڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

القاعدہ کے لیے افغانستان کی بڑی اہمیت ہے۔

یہی وہ ملک ہے جہاں سنہ 1980 کی دہائی میں نوجوان اسامہ بن لادن، جن کے پاس سرمائے کی کمی نہ تھی، سویت یونین کے خلاف لڑنے کے آئے تھے۔ اسامہ کا خاندان انجینیئرنک میں مہارت رکھتا تھا اور یہی مہارت اسامہ اپنے ساتھ افغانستان لے کر آئے خاص طور پر پہاڑوں میں پیچیدہ غاروں پر مشتمل کمپلیکس ترتیب دینے کا۔

یہاں وہ طالبان کی حفاظت میں سنہ 1996 سے سنہ 2001 تک رہے۔ اور یہی وہ جگہ ہے جہاں القاعدہ اپنی موجودگی کی بحالی کی خواہش رکھتی ہے اور دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ القاعدہ کے دوست اور پشت پناہ طالبان دوبارہ سے افغانستان میں اقتدار میں آ چکے ہیں۔

افریقہ: جہادیوں کا نیا میدانِ جنگ

القاعدہ کبھی جغرافیائی لحاظ سے بہت محدود اور منظم تنظیم تھی لیکن آج یہ گلوبل فرنچائز بن چکی ہے جس کے حامی دنیا بھر میں موجود ہیں، خاص طور پر ایسے ممالک میں جہاں حکومتیں انتہائی کمزور ہیں اور ناقص حکومتی نظام ہے۔

مثال کے طور پر صومالیہ میں القاعدہ سے منسلک ’الشباب‘ ایک بڑا جہادی گروپ ہے۔

القاعدہ اور دولت اسلامیہ جیسے گروپوں کے لیے افریقہ ایک نئے میدانِ جنگ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

وہ صرف ان حکومتوں کے خاتمے کے لیے نہیں لڑتے جنھیں وہ ’مرتد‘ تصور کرتے ہیں بلکہ وہ ایک دوسرے سے بھی لڑتے ہیں اور اس دو طرفہ لڑائی کی زد میں عام شہری بھی آتے ہیں۔

مشرق وسطیٰ

درحقیقت القاعدہ مشرق وسطیٰ کا ایک دہشت گرد گروپ رہا ہے۔

اس کی سینیئر ترین قیادت یعنی اسامہ بن لادن کا تعلق سعودی عرب سے تھا، ایمن الظواہری کا تعلق مصر سے تھا۔ باقی ماندہ قیادت کی اکثریت کا تعلق بھی عرب ممالک سے ہے۔ یہ جماعت اب بھی نمایاں طور پر شمال مغربی شام میں موجود ہے۔ وہاں امریکی ڈرون حملوں اور سپیشل فورسز کے چھاپوں کے ذریعے اس گروہ کے مشتبہ ٹھکانوں کو گاہے بگاہے نشانہ بنایا جاتا ہے۔

الظواہری کی موت کے بعد القاعدہ شائد اب اپنی قسمت کا جھنڈا ایک نئے لیڈر اور نئی سٹریٹیجی کے ساتھ لہرائے۔

کوئی احمق خفیہ ایجنسی ہی ہو گی جو یہ نتیجہ اخذ کرے گی کہ اس گروپ سے لاحق خطرہ، اس کے لیڈر ایمن الظواہری کے مر جانے سے ختم ہو جائے گا۔