آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
تین ماہ تک کوما میں رہنے والی یوٹیوبر: ’ڈاکٹر نے کہا کہ تمھارا زندہ ہونا غیرمعمولی ہے‘
- مصنف, چارلی جونز
- عہدہ, بی بی سی نیوز
برطانوی یوٹیوب سٹار گریس وکٹری بچے کی پیدائش کے فوراً بعد کوما میں چلی گئیں۔
31 سال کی گریس حمل کے دوران کووڈ کے سبب اتنی بیمار ہو گئی تھیں کہ انھیں تین ماہ تک ادویات کی مدد سے سلا کر رکھا گیا۔ اس دوران دل کا دورہ پڑنے کے بعد ان کے بچنے کے صرف پانچ فیصد امکان ہی بتائے جا رہے تھے۔
اس غیر معمولی سفر کے دوران گریس نے خود کیا کچھ محسوس کیا اور کیا سیکھا، انھوں نے بی بی سی کو بتایا۔
’میں کوما میں فضا میں اڑ رہی تھی‘
میں سات ماہ کی حاملہ تھی جب میری طبیعت زیادہ خراب رہنے لگی۔ یہ دسمبر 2020 کی بات ہے اور میرے بیٹے کی پیدائش فروری میں ہونی تھی۔
میں ہسپتال پہنچی تو پتا چلا کہ میرا آکسیجن لیول بہت کم تھا۔ میں نے ڈاکٹر سے کہا کہ میرے بیٹے کو سرجری کی مدد سے دنیا میں لے آئیں۔ کرسمس کی شب وہ آپریشن سے پیدا ہوا۔
لیکن اس کے بعد مجھے اس تک واپس لوٹنے میں بہت جدوجہد کرنا پڑی۔
جب میں اس کی پیدائش کے بارے میں سوچتی ہوں تو لگتا ہے کہ وہ سب کچھ تو کتنا آسان تھا۔ بہت سکون اور امن کے ساتھ وہ اس دنیا میں آ گیا۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے اسے چھوا بھی تھا۔ پھر ڈاکٹروں کو لگا کہ مجھے انتہائی نگہداشت کے یونٹ بھیجا جانا چاہیے۔
اگلے روز میں ادویات کی مدد سے کوما میں جانے کے لیے تیار ہو گئی۔ زندگی بچانے کے لیے ڈاکٹروں کو وہی صحیح قدم لگا۔ مجھے یاد ہے میرا پارٹنر لی رو رہا تھا اور مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اتنا پریشان کیوں ہو رہا تھا۔ میں اس وقت یہ نہیں سمجھ پا رہی تھی معاملہ کتنا سنجیدہ تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کوما کے دوران مجھے ایسا لگا جیسے میں کوئی بہت طویل خواب دیکھ رہی ہوں۔ میں نے ہرے رنگ کی روشنی اور روحانی چیزیں دیکھیں۔ میری خدا سے بات بھی ہوئی۔ میں اڑ سکتی تھی اور میں اڑ کر ملائیشیا تک چلی گئی۔
تقریباً ایک ماہ بعد مجھے دل کا دورہ پڑا اور ڈاکٹروں نے بتایا کہ تقریباً پانچ منٹ کے لیے میرے میں زندگی کی علامات واضح نہیں تھیں۔
مارچ میں جب میں کوما سے واپس ہوش میں آئی تو میرے ڈاکٹر نے کہا ’آپ ہمارے لیے معمہ ہیں۔ آنے والے کئی برسوں تک تمہارے بارے میں باتیں ہوتی رہیں گی کیونکہ تمہارا زندہ ہونا غیر معمولی ہے۔‘
مجھے لگتا ہے میں آج اس لیے زندہ ہوں کیونکہ بہت سارے لوگ میری زندگی کی دعا مانگ رہے تھے۔ پھر وہ سوشل میڈیا پر میرے چاہنے والے ہوں، میرے دوست یا میرے خاندان والے۔
یہ بہت ہی غیر معمولی بات ہے کہ اس درمیان میرے دماغ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور تقریباً ایک ماہ تک مجھے میرے زندہ ہونے پر یقین نہیں ہوا۔ پھر مجھے احساس ہوا کہ میں کس سفر کو پار کر کے زندگی کی جانب لوٹی تھی۔ مجھے یہ بات عجیب لگ رہی تھی کہ مجھے دوبارہ چلنا سیکھنا پڑے گا۔
اور مجھے اس بارے میں احساس ندامت بھی پریشان کر رہا تھا کہ میں اپنے بیٹے کے پاس اتنا عرصہ موجود نہیں رہی۔
’بچے کو پکڑ کر ایسا نہیں لگتا تھا کہ وہ میرا ہی تھا‘
میں اب بھی ان ابتدائی دنوں کے بارے میں سوچ کر رنجیدہ ہو جاتی ہوں جب میں اپنے بیٹے سائپرس کے پاس موجود نہیں تھی۔
اس کی پہلی مسکراہٹ، پہلی بار اس کا رونا، اسے پہلی بار نہلانا، میں ان میں سے کچھ بھی نہیں دیکھ سکی۔ میں اسے اپنا دودھ نہیں پلا سکی۔ لوگ ہمیشہ کہتے ہیں کہ اسے یہ سب یاد بھی نہیں رہے گا لیکن مجھے تو یاد ہے۔
اس کی پیدائش کے بعد میں نے اسے آئی سی یو میں محض ایک گھنٹہ ہی دیکھا۔ کوئی اور اس کا خیال رکھ رہا تھا اور یہ سب فیس ٹائم ویڈیو میں دیکھنا بہت تکلیف دہ تھا۔
مجھے ایسا لگتا ہی نہیں تھا جیسے وہ میرا اپنا بیٹا ہو۔ ظاہر ہے میں بہت کمزور ہو گئی تھی۔ ٹیوب کے ذریعے مجھ میں غذا پہنچائی جا رہی تھی۔ مجھے جراثیم کا بھی ڈر تھا اس لیے میں اسے پیار بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔
یہ بھی پڑھیے:
لیکن کوما سے نکلنے کے بعد جب مجھے ری ہیب ہسپتال بھیجا گیا، تب مجھے ایک اصل ماں کی طرح محسوس ہونا شروع ہوا۔ میرا اپنا ایک الگ کمرا تھا اور وہ مجھ سے دوپہر دو بجے سے رات آٹھ بجے تک ملنے آتا تھا۔ میں اسے اپنے جسم سے لپٹا کر رکھتی تھی۔
میں اس واقعے سے پہلے چلڈرن کیئر میں کام کرتی تھی اور مجھے پتا تھا کہ ماں اور بچے کے درمیان تعلق میں ابتدائی دنوں کا کتنا بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔
ہسپتال سے فارغ ہونے سے پہلے میں نے اپنے سر کے بال اتار دیے۔ مجھے ڈر تھا کہ نجانے کون سی ادویات اب بھی میرے بالوں میں موجود ہوں اور میرے ساتھ گھر چلی جائیں۔ میں اپنے جسم سے ہسپتال کی خوشبو اور ہسپتال میں رہنے کا احساس، سب کچھ ختم کر دینا چاہتی تھی۔
’میں خدا کے بارے میں کنفیوز ہوں‘
ڈاکٹروں کو میرے زندہ ہونے پر شدید حیرانی ہے۔ میں اپنے انگوٹھے کی مدد سے ابھی تک کچھ پکڑ نہیں پاتی ہوں لیکن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ یہ ٹھیک ہو جائے گا اور اگر نہیں ہوا تو سرجری کی مدد سے ٹھیک کیا جا سکتا ہے لیکن سچ پوچھیے تو اس سے میری زندگی متاثر نہیں ہو رہی۔
میرے پھیپھڑوں سمیت جسم کے دیگر اعضا بھی ٹھیک کام کر رہے ہیں۔ میرے ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ اپنی میٹنگز میں میرے دماغ کے سی ٹی سکین کے بارے میں حیرانی سے بات کرتے ہیں کیونکہ اس کا مکمل طور پر ٹھیک رہنا کسی کرشمے سے کم نہیں۔
ٹریکیوسٹومی (سانس لینے میں مدد کے لیے گردن میں سوراخ) کا نشان اب بھی میری گردن پر نظر آتا ہے لیکن ڈاکٹر کہتے ہیں کہ میں اگر چاہوں تو اس سرجری کی مدد سے اسے چھپایا جا سکتا ہے۔ میری آواز بھی کافی بھاری ہو گئی ہے لیکن مجھے اس کی پرواہ نہیں۔
ذہنی طور پر زندگی کی جانب دوبارہ لوٹنے میں مجھے زیادہ مدد کی ضرورت پڑی۔ میں جس ذہنی کیفیت سے گزر رہی ہوں اس میں مجھے خدا سے نارازی کا احساس بھی ہوتا ہے اور میں خود کو خدا سے زیادہ نزدیک نہیں پاتی۔
جو میں نے دیکھا اور محسوس کیا اس کی بنیاد پر مجھے لگتا ہے کہ روحیں ہوتی ہیں لیکن میں اس غصے اور جھنجلاہٹ سے انکار نہیں کر سکتی جو میں محسوس کرتی ہوں۔ جو ہوا سو ہوا لیکن مجھے اس بات کی بہت تکلیف ہے کہ میں کن مشکلات سے گزری۔
’دوبارہ کووڈ نے مجھے خوف زدہ کر دیا‘
موت کے منہ سے باہر آنا اتنا مشکل نہیں تھا۔ میں نے اپنے والدین کے درمیان گھریلو تشدد دیکھا تھا، اس لیے مشکلات کا سامنا کر کے زندہ رہنا میرے لیے نیا نہیں تھا لیکن اس واقعے کے بعد زندہ رہنا اور زندہ رہنے کے لیے چیزوں کو دوبارہ سیکھنا ہسپتال میں رہنے سے زیادہ مشکل ثابت ہوا۔
اس برس جنوری میں مجھے دوبارہ کووڈ ہو گیا۔ میں نے اپنے ڈاکٹر کو میسیج کیا کیونکہ میں بہت خوف زدہ تھی۔ حالانکہ اس بار مجھے صرف زکام ہی ہوا تھا۔ اب مجھے ویکسین بھی لگ چکی ہے۔ ڈاکٹروں کے لیے بھی مجھے ٹیکہ لگانا ایک مشکل فیصلہ تھا کیونکہ انھیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میرا جسم کس قسم کے رد عمل واضح کرے گا لیکن سب کچھ ٹھیک رہا۔
کووڈ کے دوران میرے ساتھ جو ہو چکا تھا وہ سب سے خوفناک تھا، اور ایسا دوبارہ ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔ میں اب صحت مند محسوس کرتی ہوں اور کووڈ کے بارے میں سوچ کر پریشان نہیں ہوتی۔
خوف کے سائے میں جینا میرے لیے ممکن نہیں۔ میں موت کے منہ سے واپس لوٹی ہوں، اب ڈر ڈر کر جینے کا کوئی فائدہ نہیں۔
اس دوران تھیراپی سے مجھے بہت مدد ملی۔ اس کے بغیر میں زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔ اس نے مجھے بہت سہارا دیا۔ میں اور لوگوں کو بھی مشورہ دوں گی کہ کسی کا ساتھ ہونا اور ایسے حالات میں اس کا سہارا بہت ضروری ہے۔
’جلد بیٹی کی ماں بننے والی ہوں‘
ماں ہونا ایک بے حد غیر معمولی احساس ہے۔ سائپرس بہت اچھا بچہ ہے۔ ہم بہت خوش ہیں ہمارے ہاں ایک اور بار اولاد کی خوشی آنے والی ہے۔ اکتوبر میں ہمارے ہاں بیٹی پیدا ہونی ہے۔
میں جن تجربات سے گزری انھوں نے زندگی کی جانب میرا نظریہ تبدیل کر دیا۔ میں ماضی میں بہت زیادہ کام کرتی تھی۔ زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے مسلسل محنت کرتے رہنے کا جو ماحول ہے، مجھے اس کی عادت ہو گئی تھی لیکن اب میری ترجیحات مختلف ہیں۔
اب میں ایک ایسی ماں ہوں جو اپنے بچے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اس کے پاس موجود رہتی ہے۔ رشتے میرے لیے کام سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔
مجھے فخر ہے کہ میں ذہنی صحت کی ایپ ’مائنڈ‘ کی برانڈ امبیسڈر ہوں اور میں چاہوں گی کہ ہسپتال میں کام کرنے والی نرسوں کو ذہنی صحت سے متعلق سہارا دیا جائے۔
مستقبل میں میں چاہوں گی کہ میں ہسپتالوں میں جا کر مریضوں کی جو بھی تھوڑی بہت مدد ممکن ہو، کر سکوں۔ مثال کے طور پر، ان کے پاس سیاہ فام افراد کے بالوں کے لیے کوئی پروڈکٹ نہیں تھے۔ زندگی اور موت کی جنگ کے درمیان بھی مجھے یہ بات بہت مایوس کرتی تھی۔
مجھے نہیں معلوم کہ اس سب کے علاوہ مجھے زندگی میں آگے کیا کرنا ہے۔ بیماری نے مجھے حال میں جینا سکھایا ہے، اس لیے اب میں مستقبل کے بارے میں زیادہ نہیں سوچتی۔
میں اپنے ارد گرد ضروری حدود بنانے میں اب بہتر ہو گئی ہوں اور خود پر زیادہ بھروسہ کرتی ہوں۔
اس پورے تجربے نے مجھے بہت کچھ سکھایا ہے۔ اگر یہ سب نہ ہوتا تو شاید میں اپنی طرز زندگی میں تبدیلی نہ لاتی، اس لیے میں بہت شکرگزار ہوں۔
گریس وکٹری نے یہ سب کچھ بی بی سی نامہ نگار چارلی جونز کو بتایا۔