مالٹا میں اسقاط حمل پر پابندی: جوڑا جو اپنی بیٹی کے دل کی دھڑکن رک جانے کی دعائیں مانگ رہا ہے

،تصویر کا ذریعہJay Weeldreyer
- مصنف, سارہ مونیٹا
- عہدہ, بی بی سی نیوز
جان لیوا انفکیشن ہونے سے پہلے تک اینڈریا اور جے نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ اپنی ہونے والی بیٹی کے دل کی دھڑکن رک جانے کی دعائیں مانگ رہے ہوں گے۔
یہ امریکی جوڑا مالٹا میں چھٹیاں منانے گیا ہوا تھا، جب 16 ہفتوں کی حاملہ اینڈریا کو خون آنے لگا۔ ڈاکٹرز نے انھیں بتایا کہ ان کے پلیسنٹا کا کچھ حصہ بچہ دانی سے الگ ہو گیا ہے اور شاید ان کا حمل مکمل نہ ہو سکے۔
لیکن بچے کی دل کی دھڑکن اب بھی قائم تھی اور مالٹا میں قانون کے مطابق آپ ایسی حالت میں حمل ضائع نہیں کر سکتے۔
گذشتہ ہفتے یہ جوڑا ہسپتال کے ایک کمرے میں پھنس کر رہ گیا اور انتظار کرتا رہا۔
جے ویلڈریئر نے فون پر بتایا کہ ’ہم یہاں بیٹھے ہیں اور شاید ہسپتال تبھی حرکت میں آئے گا جب وہ لیبر میں جائیں گی، یا اگر بچے کے دل کی دھڑکن رک جاتی ہے تو وہ لوگ مدد کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ کچھ نہیں کریں گے۔‘
ان کی آواز سے تھکاوٹ اور غصہ جھلک رہا تھا۔ وہ اینڈریا کی حالت کے بارے میں پریشان ہیں، جو کسی بھی وقت تیزی سے بدل سکتی ہے۔
’خون بہنے اور پلیسنٹا کے بچہ دانی سے الگ ہونے کی وجہ سے اس کی اندرونی جھلی پھٹ گئی ہے اور بچے کی نال بچہ دانی کے سرے سے باہر نکل آنے کی وجہ سے اینڈریا انفیکشن کے غیر معمولی خطرے کا شکار ہیں۔ اس سب سے بچا جا سکتا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بچہ زندہ نہیں رہ سکتا، اس کی صورتحال بدلنے کے لیے کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ ہم اسے چاہتے تھے، ہم اب بھی اسے چاہتے ہیں، ہم اس سے پیار کرتے ہیں، ہماری خواہش ہے کہ وہ زندہ رہے لیکن وہ نہیں رہے گی۔
’ہم اس مقام پر ہیں جہاں ہم اپنی بیٹی کو کھو رہے ہیں جسے ہم بے حد چاہتے ہیں بلکہ ہسپتال اینڈریا کو لاحق خطرے کو بڑھا رہا ہے۔‘
ان کی واحد امید اب برطانیہ کے لیے ہنگامی طبی انخلا ہے۔ جس کی ادائیگی ان کے ٹریول انشورنس کے ذریعے کی جانی ہے۔
سنہ 2017 میں ایک اور سیاح کو ہنگامی طور پر اسقاط حمل کے لیے فرانس بھجوانا پڑا تھا لیکن مالٹا کی مقامی خواتین کے لیے یہ سہولت موجود نہیں۔

،تصویر کا ذریعہJay Weeldreyer
'یہاں کی خواتین کم ہی آواز اٹھاتی ہیں'
جب اسقاط حمل کی بات آتی ہے تو اس جزیرے پر حمل کو ختم کرنا مکمل طور پر غیر قانونی ہے، بشمول جب جنین کے زندہ رہنے کا کوئی امکان نہ ہو۔
یہ ایک ایسا قانون ہے جس کے خلاف مالٹا کی ایک وکیل اور خواتین کے حقوق کی فاؤنڈیشن کی سربراہ ڈاکٹر لارا دمتری جیوک برسوں سے لڑ رہی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’یہاں کی خواتین شاذ و نادر ہی آواز اٹھاتی ہیں۔‘
'عام طریقہ کار یہ ہے کہ ڈاکٹر یا تو جسم کو اپنے طور پر جنین کو باہر نکالنے کا وقت دیتے ہیں، یا اگر مریض بہت بیمار ہو جاتا ہے اور انفیکشن کے باعث سیپسس پیدا ہوتا ہے تو وہ مداخلت کر کے ماں کی جان بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ اوسطاً ہر سال اس طرح کے دو یا تین کیس ہوتے ہیں لیکن اینڈریا کی کہانی سامنے آنے کے بعد بہت سی خواتین نے سوشل میڈیا پر آ کر اپنے ذاتی تجربات شیئر کرنا شروع کیے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
دمتری کا کہنا ہے کہ قانون کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس طرح کا عمل صرف خواتین کی صحت کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ان کے خاندانوں کے لیے بھی ایک نفسیاتی دھچکا ہے۔
بی بی سی نے اس حوالے سے مالٹا کی حکومت اور ہسپتال کی انتظامیہ دونوں سے رابطہ کیا تاہم اب تک کوئی جواب نہیں ملا۔
چھ دن کے بعد، دو خوفناک چیزوں میں سے کسی ایک کے ہونے کا انتظار کرتے ہوئے، جے نے بتایا کہ وہ اور ان کی بیوی دونوں تھک چکے ہیں۔
وہ کہتے ہیں ’یہ عمل اینڈریا کو خطرے میں ڈالے بغیر اور ہمیں غمزدہ کیے بغیر، دو گھنٹوں میں کیا جا سکتا تھا۔
’اس کے بجائے اس می تاخیر کی جا رہی ہے، آپ کو تاریک خیالات جکڑ لیتے ہیں اور آپ سوچتے ہیں کہ یہ سب کیسے ختم ہو سکتا ہے؟‘








