افغانستان کا وہ گاؤں جہاں زلزلے کے جھٹکے اب بھی روز آتے ہیں لیکن مدد کے لیے کوئی نہیں آیا

    • مصنف, یوگیتا لیمائے
    • عہدہ, بی بی نیوز، پکتیکا، افغانستان

اگر آپ اس جگہ کو تلاش نہیں کر رہے تو عین ممکن ہے کہ آپ دویگڑ گاؤں کو دیکھ ہی نہ پائیں۔ یہاں کے پہاڑوں پر پھیلے مٹی کے مکانات ان پہاڑوں کے ہی رنگ جیسے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ انھی کا حصہ ہیں۔

پاکستان کی سرحد سے تقریباً 20 میل دور افغانستان کے جنوب مشرقی پکتیکا صوبے کا یہ گاؤں گذشتہ ہفتے آنے والے زلزلے کے مرکز سے بھی صرف 20 میل ہی دور تھا۔

یہاں کے زیادہ تر مکانات اس زلزلے میں تباہ ہو چکے ہیں۔ جو مکان اس زلزلے میں گرنے سے بچ گئے تھے، ان کی بنیادیں بھی ہل چکی ہیں اور اب یہ اتنے خطرناک ہیں کہ ان میں رہنا ممکن نہیں رہا۔

اس گاؤں کی آبادی تقریباً 250 افراد پر مشتمل ہے لیکن یہ اتنا دور افتادہ علاقہ ہے کہ یہاں اب تک طالبان کی حکومت یا ریلیف اداروں میں سے کوئی بھی مدد لے کر نہیں پہنچ سکا۔ ہم سے پہلے یہاں پر کوئی صحافی بھی نہیں آیا۔

گاؤں کے شمالی کونے پر 20 سال کے عرفات خیل کا گھر پہاڑی کی ڈھلوان پر واقع تھا۔ اب یہاں صرف ملبہ ہے۔ پتھر، کھڑکیاں اور ذاتی استعمال کی اشیا ملبے میں بکھری پڑی ہیں۔

’اس رات مجھے ایک دھماکے جیسی آواز آئی تھی اور پھر کوئی چیز زور سے میرے سر پر گری۔ مجھے لگا میں مرنے والا ہوں لیکن پھر کسی طرح میں ملبے سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔‘

انھوں نے ہمیں بتایا کہ ’میں نے مٹی اور پتھروں کو ہٹایا تو مجھے میری والدہ ملیں لیکن جب میں نے ان کو چھوا تو وہ مر چکی تھیں۔‘

عرفات کے چہرے پر کرب نمایاں نظر آتا ہے۔ ان کی والدہ زرتارا 50 سال کی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس رات زلزلہ آنے سے پہلے ہی انھوں نے اپنے سونے کی جگہ والدہ سے تبدیل کی تھی۔

’وہ مجھے بہت یاد آتی ہیں۔‘

اس زلزلے میں عرفات کے بھائی کی بیوی اور دو بچے بھی ہلاک ہوئے تھے۔ ایک اور خاندان کا 12 سالہ بچہ بھی ہلاک ہوا۔ درجنوں افراد زخمی ہیں۔

زپر خان کے چار پوتے ہسپتال میں زیر علاج ہیں جن میں سے ایک کے سر پر چوٹ آئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’ہم نے جو بنایا تھا، جس کے لیے کام کیا تھا، وہ سب تباہ ہو چکا ہے۔ ہمیں مدد کی ضرورت ہے۔‘

گاؤں میں اب تک کسی نے بھی ملبے کو ہٹانے کی کوشش نہیں کی۔ گاؤں کے رہنما تاج علی خان کہتے ہیں کہ ان کو ’خوف ہے کہ ایک اور زلزلہ آ سکتا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’زلزلے کے بعد سے بہت جھٹکے آئے ہیں۔ ہر دن کم از کم دو جھٹکے آتے ہیں۔ کل رات 11 بجے بھی ایک جھٹکا محسوس ہوا جس نے ہم سب کو نیند سے جگا دیا۔ اسی لیے ہم باہر سو رہے ہیں، کوئی بھی اپنے گھر میں جانے کی اور اپنا بچا کھچا سامان نکالنے کی ہمت نہیں کر رہا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’گاؤں میں اتنی بھوک اور اتنا دکھ ہے۔ کوئی بھی ہماری مدد کے لیے نہیں آیا۔‘

لوگوں نے زمین میں بانس گاڑ کر ان پر پلاسٹک کی شیٹ اور چادریں باندھ لی ہیں۔ عورتیں عارضی خیموں میں قیام پذیر ہیں۔ مرد کھلے آسمان تلے سوتے ہیں۔

ان پہاڑی علاقوں میں طوفان بھی آتے رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اس گاؤں سے تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع علاقے گیان میں مدد پہنچ چکی ہے جس میں خوراک اور دیگر امدادی سامان شامل ہے۔ اس مقام تک پہنچنا بھی گھنٹوں کا سفر ہے جو مٹی سے بنے کچے راستوں اور دریا کو پار کر کے ہوتا ہے۔ ٹرکوں کے لیے یہ سفر اور بھی سست رفتار ہوتا ہے۔

لیکن دویگڑ گاؤں گیان سے بھی اونچے مقام پر ہے۔

تاج علی خان نے بتایا کہ ’روزانہ ہمارے لوگ گیان جاتے ہیں اور مدد مانگتے ہیں لیکن ہر دن خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں۔ میں دنیا سے درخواست کرتا ہوں کہ ہماری مدد کریں۔ ہمیں کھانا چاہیے، اپنے گھر دوبارہ بنانے کے لیے رقم چاہیے۔‘

اس زلزلے سے پہلے بھی یہاں کے لوگ خوشحال نہیں تھے بلکہ مشکل سے ہی گزر بسر ہوتا تھا۔ کچھ مزدوری کرتے تھے اور کچھ قریبی پہاڑیوں پر موجود جنگلات سے میوہ چنتے تھے۔

مقامی افراد نے بتایا کہ شمال اور مشرق کی جانب پہاڑوں میں اور بھی ایسے متاثرہ دیہات ہیں جہاں اب تک کسی قسم کی کوئی مدد نہیں پہنچی۔

افغانستان کو صرف خوراک اور امدادی سامان ہی نہیں بلکہ ان دشوار گزار مقامات تک رسائی حاصل کرنے میں بھی مدد درکار ہے۔

شاید کوئی فضائیہ یا پھر تربیت یافتہ ایمرجنسی رسپانس ٹیم ایسا کر سکے لیکن طالبان کے پاس ایسے وسائل نہیں۔

جب بھی کسی غریب ملک میں کوئی قدرتی آفت تباہی مچاتی ہے تو دنیا بھر سے ملک امدادی سرگرمیوں میں مدد کے لیے تجربہ کار ٹیمیں یا عسکری وسائل بھجوانے کا وعدہ کرتے ہیں لیکن افغانستان کی حکومت کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔

اس وقت یہاں کے لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے جن کو یہ خوف لاحق ہے کہ کسی بھی وقت ایک نیا زلزلہ آ سکتا ہے۔