آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایل سلواڈور: وہ ملک جہاں اسقاط حمل یا حمل گرنے پر خواتین کو قید کر دیا جاتا ہے
- مصنف, والیریا پراسو اور فرنینڈو ڈوارٹے
- عہدہ, بی بی سی منڈو
کیرن کی آنکھ ایل سلواڈور کے ایک ہسپتال میں کھلی تو انھوں نے خود کو ایک بستر پر ہتھکڑی لگے پایا جہاں ان کے ساتھ پولیس اہلکار موجود تھے۔
کیرن بی بی سی کو بتاتی ہیں کہ ’میرے اردگرد بہت سے لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ میں نے اپنے بچے کی جان لے لی ہے اور میں اپنے کیے کی قیمت ادا کرنے جا رہی ہوں۔‘
حمل میں پیچیدگیوں کا شکار ہونے کے بعد انھیں ایمرجنسی روم میں جانا پڑا۔ تاہم کیرن، جو اس وقت 22 سال کی تھیں، نے اپنا بچہ کھو دیا۔
وہ بتاتی ہیں ’میں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ کیا ہوا تھا لیکن انھوں نے میری بات نہیں سنی۔۔۔ مجھ پر پہلے ہی مقدمہ چلایا جا چکا تھا اور سزا سنائی جا چکی تھی۔‘
سخت قانون سازی
وسطی امریکہ کے ملک ایل سلواڈور میں اسقاط حمل اور حمل گرنے کے خلاف سخت ترین قوانین نافذ ہیں، چاہے حمل سے ماں کی جان کو خطرہ لاحق ہو یا بچہ ریپ یا خونی رشتوں کے مابین ناجائز تعلقات کا نتیجہ ہو۔۔۔ یہ ریاست ہر قسم کی رکاوٹوں کو ممنوع قرار دیتی ہیں۔
قتل کے الزام میں کیرن کو 30 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ وہ ’لاس 17‘ گروہ کی رکن کے طور پر مشہور ہوئیں۔ یہ وہ خواتین تھیں جنھیں اسقاط حمل یا مردہ بچوں کو جنم دینے کے بعد قید کیا گیا تھا۔
چھ سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنے کے بعد کیرن کو دسمبر 2021 میں تین دیگر خواتین کے ساتھ رہا کیا گیا۔ انھیں ایک مہم کے بعد رہائی ملی جس کی حمایت مشہور شخصیات نے کی تھی۔ ان میں اداکارہ فریرا اور ملا جوووچ بھی شامل تھیں۔
قید ہونے سے قبل کیرن ایک دو سالہ بچے کی ماں تھیں، انھوں نے نو سال کی عمر تک اس بچے کو نہیں دیکھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’جب انھوں نے مجھے بتایا کہ میں 30 سال جیل میں گزاروں گی، تو مجھے لگا میری دنیا تباہ ہو گئی ہے۔ میں نے اپنے بیٹے کے بارے میں سوچا کہ کیا وہ یہ سب برداشت کر پائے گا۔‘
سنٹر فار ویمنز ایکویلیٹی، امریکہ میں قائم ایک گروپ جو کہ لاطینی امریکہ میں انتخاب کے حامی مہمات کی حمایت کرتا ہے، کا کہنا ہے کہ ملک میں گذشتہ دو دہائیوں میں کم از کم 180 خواتین کے خلاف مقدمہ چلایا گیا ہے یا انھیں جیل بھیج دیا گیا۔
’میں اپنے مردہ بیٹے کو اپنی بانہوں میں لینا چاہتی تھی‘
ان میں سے ایک سنتھیا بھی تھیں، 2009 میں ان کے گھر پر قبل از وقت پیدائش کے بعد ان کے بچے کی موت ہو گئی جس کے بعد سنتھیا کو قتل کے الزام میں قید کیا گیا تھا۔ انھیں 2019 میں رہا کیا گیا۔
سنتھیا نے بی بی سی کو بتایا کہ ایمبولینس کے بجائے پولیس نے ایمرجنسی کال کا جواب دیا۔ جب وہ ہسپتال پہنچیں تو بے ہوش ہو چکی تھیں۔ کیرن کی طرح انھیں بھی ہتھکڑی لگی ہوئی تھی۔
ہسپتال سے انھیں براہ راست پولیس سٹیشن کے ایک سیل میں لے جایا گیا، انھیں اپنے رشتہ داروں سے بات کرنے یا بچے کی لاش دیکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس وقت ان کی عمر 20 سال تھی۔
سنتھیا یاد کرتی ہیں کہ ’میں اپنے مردہ بیٹے کو اپنی بانہوں میں لینا چاہتی تھی لیکن انھوں نے مجھے اجازت نہیں دی۔ انھوں نے مجھے اس کی تدفین میں شرکت کی بھی اجازت نہیں دی۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ان کے ’جرم‘ کی نوعیت کی وجہ سے جیل میں دوسری قیدیوں نے ان پر حملہ کیا اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔
کیرن کا کہنا ہے کہ انھیں بھی ایسے ہی تجربات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن جیل میں ان کی قسمت اچھی رہی، ان کے ساتھ ایسی خواتین تھیں جنھیں اسقاط حمل کے الزام میں جیل بھیجا گیا تھا۔
وہ یاد کرتی ہیں کہ ’ہم 10 سے زیادہ تھیں اور کچھ خواتین کو دوسری قیدیوں کی جانب سے بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
’لیکن ہم نے ایک دوسرے کی حمایت کے لیے ایک گروپ بنانے کا فیصلہ کیا۔‘
یہ مسئلہ دوسری خواتین کو متاثر کر رہا ہے
اس بات کی تصدیق کرنا ممکن نہیں ہے کہ ان تمام خواتین کو اسقاطِ حمل کے باعث سزا دی گئی، لیکن کارکنوں کا کہنا ہے کہ موجودہ قانون سازی ان خواتین پر ظلم و ستم کا باعث بنتی ہے جنھوں نے اسقاط حمل کی درخواست نہیں کی۔
ایل سلواڈور میں خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے مزید کہا کہ یہ مسئلہ ان خواتین کو بھی متاثر کرتا ہے جن کے پاس نجی طور پر صحت کی سہولیات تک رسائی کے لیے مالی وسائل نہیں ہیں۔
اسقاط حمل کے حق میں سلواڈور کی ایک مشہور کارکن مورینا ہیریرا کہتی ہیں ’ایل سلواڈور کی غریب خواتین اس قانون سازی سے سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں جو ان کی بدنامی کا باعث بنتی ہے اور یہ بہت سی خواتین کو خفیہ طور پر اسقاط حمل پر مجبور کرتی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ان قید خواتین کو رہا کیا جانا چاہیے، لیکن ان کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم کا بھی خاتمہ ہونا چاہیے۔‘
کارکنوں اور متاثرہ خواتین کے مطابق غریب خواتین کے لیے قانونی مدد کی بھی کمی ہے۔
سنتھیا کا دعویٰ ہے کہ ان کے مقدمے کی سماعت کے وقت انھیں عدالت میں بولنے کی اجازت نہیں تھی۔ وہ یہ بھی دعویٰ کرتی ہیں کہ جب وہ جیل میں عدالت میں پیش ہونے کا انتظار کر رہی تھیں تو کوئی بھی سرکاری وکیل ان سے ملنے نہیں گیا اور نہ ہی انھیں کیس کے بارے میں بتایا۔
’اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ میرے خلاف کیا الزامات ہیں۔ مجھے عدالت میں پتہ چلا کہ مجھ پر قتل کا الزام لگایا جا رہا ہے۔‘
بی بی سی نے سلواڈور حکام سے ان دعوؤں پر تبصرہ کرنے کو کہا ہے لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔
یہ بھی پڑھیے
یو ایس این جی او سینٹر فار ری پروڈکشن رائٹس کے مرتب کردہ ڈیٹا بیس کے مطابق، ایل سلواڈور لاطینی امریکہ کے ان سات ممالک میں سے ایک ہے جو بغیر کسی استثنیٰ کے اسقاط حمل پر پابندی لگاتے ہیں۔
ہونڈورس، جمیکا، نکاراگوا، ہیٹی، ڈومینیکن ریپبلک اور سورینام دیگر ہیں (دنیا بھر میں بغیر کسی استثنیٰ کے پابندی والے ممالک کی تعداد 24 ہے)۔
ایک کمزور ’گرین ٹائیڈ‘ نامی تحریک
حالیہ برسوں میں متعدد لاطینی امریکی ممالک (بشمول میکسیکو، ارجنٹائن اور کولمبیا) نے ٹائیڈ گرین نامی تحریکوں کے شدید دباؤ کے بعد، اسقاط حمل کی زیادہ آزادانہ قانون سازی کی ہے۔
آرجنٹائن میں ابھرنے والی تحریک لاطینی امریکہ میں تولیدی صحت اور حقوق میں اصلاحات کے حوالے سے کامیاب رہی ہے۔
ہیریرا کہتی ہیں کہ ’حالیہ برسوں میں یہ تحریک زیادہ سرگرم ہوئی ہے، لیکن گرین ٹائیڈ تحریک دیگر لاطینی امریکی ممالک کی طرح ایل سلواڈور تک نہیں پہنچی ہے۔‘
ایل سلواڈور نے آئینی اصلاحات کے پیکج کے ایک حصے کے طور پر طبی طور پر ضروری اسقاط حمل کو قانونی حیثیت دینے کے امکان پر غور کیا ہے، لیکن صدر بوکیل کے فیصلے کے بعد یہ منصوبہ گذشتہ ستمبر میں ختم ہو گیا تھا۔
تاہم صدر بوکیل نے اس سے قبل اپنی 2018 کی صدارتی مہم کے دوران اسقاط حمل کے قانون میں ایسی تبدیلیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بچہ کھو دینے والی خواتین کو مجرم قرار دینے کے خلاف ہیں۔
اگرچہ رائے شماری بتاتی ہے کہ سلواڈور میں رہنے والوں کی اکثریت ایسے حمل جہاں ماں کی صحت کو خطرہ ہو یا وہ مالی طور پر بچے کا خرچ برداشت کرنے کی سکت نہ رکھتی ہو تو اس صورت میں اسقاط حمل کو قانونی حیثیت دینے کی حمایت کرے گی، لیکن قدامت پسند سیاست دانوں اور مذہبی رہنماؤں کی جانب سے سخت مزاحمت کا خدشہ ہے۔
’یہ ایک ایسا چکر ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا‘
بوکیل کی تبدیلی کے تناظر میں بچہ کھونے والی خواتین ایل سلواڈور میں قید رہ سکتی ہیں۔ ابھی پچھلے مہینے ایک خاتون جن کی شناخت صرف ’ایسمی‘ کے نام سے ہوئی تھی، انھوں نے اپنا بچہ کھو دیا اور انھیں 30 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
سنتھیا کہتی ہیں ’مجھ جیسی خواتین کو مسلسل جیلوں میں ڈالا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا چکر ہے جو لگتا ہے کہ کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے۔‘
اپنی رہائی کے بعد سنتھیا کو اپنے مجرمانہ ریکارڈ کی وجہ سے نوکری تلاش کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا لیکن ایک این جی او کی گرانٹ کی مدد سے وہ کپڑے بیچ کر روزی کمانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
سنہ 2020 میں انھوں نے ایک لڑکی مارسیلا الزبتھ کو جنم دیا۔ سنتھیا کہتی ہیں ’جب میں حاملہ ہوئی تو میں گھبرا گئی، ڈر لگتا تھا کہ اگر پیچیدگیاں ہوئیں تو میں دوبارہ اس سب سے گزروں گی۔‘
’لیکن وہ صحت مند اور بغیر کسی پریشانی کے پیدا ہوئی تھی، میں خوش ہوں۔‘
کیرن کہتی ہیں کہ انھیں آج بھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ معاشرہ انھیں شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے، لیکن وہ اپنی توجہ جیل میں شروع کی جانے والی پڑھائی ختم کرنے اور اپنے بیٹے کے وقت بِتانے پر مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔
وہ خوفزدہ تھیں کہ اتنے عرصے تک الگ رہنے کے بعد وہ انھیں پہچاننے اور ساتھ رہنے سے انکار کر دے گا، لیکن جب وہ گھر واپس پہنچیں تو انھوں نے ایک انتہائی پیارے بچے کو اپنا منتظر پایا۔ اب کیرن کی کوشش ہے کہ اس کی ہر ضرورت پوری کر سکیں۔
تاہم وہ ابھی تک جیل میں قید (یا جنھیں ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے) خواتین کے بارے میں پریشان رہتی ہیں۔ اپنی کہانی سنا کر وہ ان خواتین کی مدد کرنا چاہتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں ’کچھ ایسی چیزیں ہیں جو اب بھی مجھے تکلیف دیتی ہیں اور جو میں کبھی نہیں بھولوں گی۔ لیکن ان کے بارے میں بات کرنے سے دوسروں کو ان مقدمات سے بچایا جا سکتا ہے اور میرے ان ساتھیوں کی بھی مدد ہوتی ہے جو ابھی تک سلاخوں کے پیچھے ہیں۔‘