آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
چین دنیا کی دوسری بڑی خلائی طاقت بن کر کن اہداف کو حاصل کرنا چاہتا ہے؟
- مصنف, وین یوہان سانگ اور جانا توشنسکی
- عہدہ, بی بی سی نیوز
تین چینی خلابازوں نے ملک کے نئے خلائی سٹیشن پر کام کرنے کے لیے چھ ماہ کے مشن پر کام شروع کر دیا ہے۔ یہ آنے والی دہائیوں میں خود کو ایک سرکردہ خلائی طاقت بنانے کی جانب چین کا ایک تازہ ترین قدم ہے۔
تیانگانگ خلائی سٹیشن کیا ہے؟
گذشتہ برس چین نے اپنے تیانگانگ یا ‘آسمانی محل‘ خلائی سٹیشن کے پہلے ماڈیول کو مدار میں شامل کیا ہے۔ چین رواں برس کے اختتام تک مزید ماڈیولز، جیسے مینگٹیان سائنس لیب کو شامل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اگلے برس، چین ایک خلائی دوربین لانچ کرے گا، جسے ژنتیاں کہتے ہیں۔ یہ خلائی سٹیشن کے قریب سے پرواز کرے گا، اور سروس اور ایندھن بھرنے کے لیے اس سٹیشن پر اترے گا۔
تیانگانگ کی اپنی پاور، انجن، لائف سپورٹ سسٹم اور اس پر رہائشی کوارٹرز ہوں گے۔
سوویت یونین (موجود روس) اور امریکہ کے بعد چین تیسرا ملک ہے جس نے خلابازوں کو خلا میں بھیج دیا اور ایک خلائی سٹیشن بھی بنایا۔
چین کے تیانگانگ کے لیے بڑے عزائم ہیں اور امید ہے کہ یہ بین الاقوامی خلائی سٹیشن (آئی ایس ایس) کی جگہ لے گا، جو سنہ 2031 میں ختم ہونے والا ہے۔
تاہم امریکہ کی طرف سے چینی خلابازوں کو آئی ایس ایس سے باہر کر دیا گیا ہے کیونکہ امریکی قانون نے اس کی خلائی ایجنسی ناسا پر چین کے ساتھ ڈیٹا شیئر کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
چین کا چاند اور مریخ تک پہنچنے کا پلان
چین کے عزائم بس ادھر ہی ختم نہیں ہوجاتے ہیں بلکہ کچھ برسوں میں چین زمین کے قریب سیارچوں کے نمونے حاصل کرنا چاہتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ 2030 تک اس کا مقصد چاند پر اپنے پہلے خلابازوں کو بھیجنا ہے اور مریخ اور مشتری سے نمونے جمع کرنے کے لیے تحقیقات کرنا ہے۔
دوسرے ممالک کیا کر رہے ہیں؟
جس طرح چین خلا میں اپنا کردار بڑھا رہا ہے اب دیگر بھی کئی ممالک چاند پر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ناسا سنہ 2025 کے بعد سے امریکہ اور دیگر ممالک کے خلابازوں کے ساتھ چاند پر واپس جانے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس نے پہلے ہی کینیڈی سپیس سینٹر میں اپنا نیا دیوہیکل ایس ایل ایس راکٹ بھیج دیا ہے۔
جاپان، جنوبی کوریا، روس، انڈیا اور متحدہ عرب امارات بھی اپنے اپنے اس چاند پر جانے کے مشن پر کام کر رہے ہیں۔ نئی دہلی پہلے ہی چاند پر جانے کے اپنے دوسرا بڑے مشن شروع کر دیا ہے اور اب انڈیا سنہ 2030 تک اپنا خلائی سٹیشن بنانا چاہتا ہے۔
یورپین سپیس ایجنسی، جو چاند کے مشن پر ناسا کے ساتھ کام کر رہی ہے، چاند کے مصنوعی سیاروں کے نیٹ ورک کی منصوبہ بندی بھی کر رہی ہے تاکہ خلابازوں کے لیے زمین کے ساتھ رابطے میں آسانی ہو۔
خلا کے لیے قواعد کون بناتا ہے؟
• 1967 کا اقوام متحدہ کا آؤٹر سپیس ٹریٹی کے تحت خلا میں کہیں بھی کوئی ایک ملک دعویٰ نہیں کر سکتا۔
• 1979 کا یو این مون ایگریمنٹ کے مطابق خلا کا تجارتی طور پر استحصال نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس معاہدے پر امریکہ، چین اور روس نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
• اب امریکہ اپنے آرتیمس معاہدوں کو فروغ دے رہا ہے، جن کے تحت دنیا چاند کی معدنیات کو باہمی تعاون کے ساتھ استعمال کر سکتی ہے۔
• روس اور چین اس وجہ سے اس معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے کہ امریکہ کو خلا کے لیے قوانین بنانے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔
چین کی خلا میں کیا تاریخ ہے؟
چین نے اپنا پہلا مصنوعی سیارہ سنہ 1970 میں مدار میں بھیجا۔ اس سے قبل چین نے ثقافتی انقلاب کی وجہ سے بڑے پیمانے پر مشکلات کا سامنا کیا۔
اس مرحلے تک خلا میں جانے والی دوسری طاقتیں امریکہ، سوویت یونین، فرانس اور جاپان تھیں۔
گذشتہ ایک دہائی میں چین نے 200 سے زائد راکٹ لانچ کیے ہیں۔
چین نے چٹان کے نمونے جمع کرنے اور واپس کرنے کے لیے پہلے ہی چاند پر ایک بغیر پائلٹ مشن بھیجا ہوا ہے، جسے چانگ فائیو (ثhang'e 5 C ) پکارا جاتا ہے۔ چین نے چاند کی سطح پر ایک چینی جھنڈا بھی گاڑا، جسے جان بوجھ کر پچھلے امریکی جھنڈوں سے سائز میں بڑا رکھا گیا۔
چین نے شین ژاؤ 14 کے آغاز کے ساتھ ہی اب 14 خلابازوں کو خلا میں بھیج دیا ہے۔ اس کے مقابلے میں امریکہ کے 340 اور سوویت یونین (موجودہ روس) کے 130 سے زیادہ خلا باز خلا میں موجود ہیں۔
مگر چین کو ان تجربات میں نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ سنہ 2021 میں چین کے راکٹ کا ایک حصہ مدار سے نکل کر بحر اوقیانوس میں جا گرا اور سنہ 2020 میں دو راکٹوں کی لانچنگ میں ہی اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
چین کے خلائی پروگرام کے لیے پیسے کون دے رہا ہے؟
چین کے سرکاری خبر رساں ادارے شنوا کے مطابق کم از کم تین لاکھ افراد نے چین کے خلائی منصوبوں پر کام کیا ہے جو کہ اس وقت ناسا کے لیے کام کرنے والوں سے تعداد میں تقریباً 18 گنا زیادہ تعداد بنتی ہے۔
چائینیز نیشنل سپیس ایڈمنسٹریشن سنہ 2003 میں دو بلین یوآن یعنی 300 ملین ڈالر کے ابتدائی سالانہ بجٹ کے ساتھ قائم کی گئی تھی۔
تاہم، چینی میڈیا کے مطابق سنہ 2016 میں چین نے اپنی خلائی صنعت کو نجی کمپنیوں کے لیے بھی کھول دیا ہے۔ اور یہ اب دس بلین یوآن یعنی 1.5 بلین ڈالر سالانہ سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
چین خلا کا رخ کیوں کر رہا ہے؟
چین ٹیلی کمیونیکیشن، ہوائی ٹریفک کے انتظام، موسم کی پیش گوئی اور نیویگیشن وغیرہ کے لیے اپنی سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور دیگر مقاصد کے لیے تیار کرنے کا خواہاں ہے۔
لیکن اس کے متعدد سیٹلائٹس کے فوجی مقاصد بھی ہیں۔ یہ سیٹلائٹس حریف طاقتوں کی جاسوسی میں چین کی مدد کر سکتے ہیں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کو گائیڈ کر سکتے ہیں۔
پورٹسماؤتھ یونیورسٹی میں خلائی منصوبے کی مینیجر لوسنڈا کنگ کا کہنا ہے کہ چین صرف ہائی پروفائل خلائی مشنوں پر توجہ مرکوز نہیں کر رہا ہے: وہ خلا کے تمام پہلوؤں پر کام کر رہا ہے۔
ان کے پاس اپنے منصوبوں کو مالی مدد دینے کے لیے سیاسی محرکات اور وسائل ہیں۔
چین کے چاند سے متعلق منصوبوں کا ایک جزوی مقصد لیتھیم کی طرح کی چاند کی سطح سے نایاب زمینی دھاتیں نکالنا ہے۔
تاہم لندن یونیورسٹی میں لندن انسٹی ٹیوٹ آف سپیس پالیسی اینڈ لا کے ڈائریکٹر پروفیسر سعید مستشر کا کہنا ہے کہ وہ چاند پر بار بار کان کنی کے مشن بھیجنے کے لیے چین کو شاید ادائیگی نہیں کرے گا۔
اس کے بجائے، وہ کہتے ہیں کہ چین کا خلائی پروگرام باقی دنیا کو متاثر کرنے کی خواہش کی بنیاد پر ہے۔ یہ طاقت کے دکھلاوے اور تکنیکی ترقی کا مظاہرہ ہے۔
ایڈیشنل رپورٹنگ جرمی ہوویل اور ٹم باؤلر