آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایلا کی المناک کہانی، ایک ٹرانس عورت جس نے برلن کے وسط میں سب کے سامنے خود کو آگ لگا لی
- مصنف, فرناک عامیدی
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
جب 40 سالہ ایرانی ٹرانسجینڈر ایلا نک بایان نے برلن کے مشہور الیگزینڈر پلاز سکوائر میں گذشتہ ستمبر خود سوزی کی تو ان کے قریبی دوستوں اور ساتھیوں کے لیے یہ ایک بہت بڑا صدمہ تھا۔
اس واقعے نے جرمنی کے میڈیا میں کچھ عرصے کے لیے ایک بحث چھیڑ دی تھی، جس کی وجہ سے کئی سوالات اٹھائے گئے لیکن ان میں سے جواب بہت کم ہی کے ملے۔
اس کے بعد ہو سکتا ہے کہ عوام کی اس میں دلچسپی کم ہو گئی ہو، لیکن جو لوگ ایلا کو اچھی طرح جانتے تھے ان کی کنفیوژن اور دکھ میں کوئی کمی نہیں آئی۔
ٹرانس کمیونٹی میں کچھ لوگ ایلا کے خود سوزی کے عمل کو احتجاج کے ایک طریقے کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن انھوں نے خود سوزی سے پہلے کوئی پیغام چھوڑا نہ کوئی وضاحت اور ان کے کچھ قریبی دوست یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کے پیچھے کوئی سیاسی مقصد بھی نہیں تھا۔
سو ایلا نے اتنا انتہائی قدم کیوں اٹھایا؟ ان کے ایران چھوڑنے کے بعد آخر ایسا کیا ہوا جس کی وجہ سے انھوں نے اپنی جان لینے کا فیصلہ کیا؟ اس کو سمجھنے کے لیے ان چیلنجز کو جاننا بہت ضروری ہے جس کی وجہ سے ان کی زندگی کا سفر الیگزینڈر پلاز سکوائر پر ختم ہوا۔
سابق مشرقی جرمنی کے شہر میگڈیبرگ میں سوشل ورکر ایڈنا کی ایلا سے ملاقات ہوئی تھی۔ اس شہر میں گذشتہ انتخابات میں پناہ گزین مخالف جماعت ’آلٹرنیٹیو فار ڈوشلینڈ‘ کو کافی حمایت ملی ہے۔
ایل ایک ٹرانسجینڈر تھیں، ان کی پیدائش پر انھیں دی جانے والی جینڈر شناخت سے اب ان کی شناخت مختلف تھی۔ وہ سنہ 2015 میں جرمنی آئیں اور ان کا سفر، ان جیسے بہت سے دوسرے ’کویئر‘ پناہ گزینوں کی طرح مشکلات سے بھرا پڑا تھا۔
وہ چار سال پہلے ایران سے غیر قانونی طور پر فرار ہو کر براستہ ترکی جرمنی پہنچی تھیں جو کہ ایرانی مہاجرین کے لیے ایک عام روٹ تھا کیونکہ وہ ترکی بغیر کسی ویزہ کے بھی داخل ہو سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شروع میں تو ایلا نے اپنی شناخت کے بارے میں کسی کو نہیں بتایا اور انھیں اپنے کیس ورکرز سے اس کے متعلق کچھ سوالات پوچھنے میں بھی تقریباً ایک سال لگا۔
ایڈنا یاد کرتی ہیں کہ وہ اس کلاس میں آئی تھیں جہاں وہ جرمن پڑھا رہی تھیں اور ’پوچھا کہ کیا یہاں بطور ایک گے فرد کے رہنا قانونی ہے۔ وہ پہلی مرتبہ تھا جب میں نے سوچا کہ میں کسی خاص چیز سے ڈیل کر رہی ہوں۔‘
لیکن وہ گے نہیں تھیں۔ ایران میں ایل جی بی ٹی پلس کمیونٹی کے بہت سے دیگر اراکین کی طرح سزاؤں کے ڈر سے انھوں نے بھی سیکھ لیا تھا کہ اپنے آپ کو اور اپنے احساسات کو کس طرح دبا کے رکھنا ہے۔
ان کی پرورش جنوبی ایران کے ایک انتہائی قدامت پسند گھرانے میں ہوئی تھی اور ان کی جینڈر شناخت اور جنسی رجحانات کی معلومات کے متعلق بالکل رسائی نہیں تھی۔
’وہ میرے دفتر آئیں اور کہا کہ وہ کسی مسئلے پر مجھ سے بات کرنا چاہتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں گے نہیں ہوں لیکن میں خاتون بننا چاہتی ہوں۔‘ دونوں تقریباً دو گھنٹے تک بات کرتے رہے اور اس دوران ایلا نے پوچھا کہ وہ ٹرانس خاتون کے طور پر کس طرح رہ سکتی ہیں۔
کچھ مہینوں کے بعد دسمبر 2016 میں ایلا ایک مرتبہ پھر ایڈنا کے دفتر آئیں۔
’ان کی ظاہری حالت میں کچھ بھی نیا نہیں تھا سوائے نیل پالش کے، جو کہ ان کے بائیں ہاتھ کی ایک انگلی پر تھی۔‘ یہ ایلا کی جانب سے ایک چھوٹا اور پہلا قدم تھا۔
آہستہ آہستہ ایلا نے ان لوگوں کو اپنی جینڈر شناخت بتانا شروع کر دی جن کے سامنے وہ محفوظ محسوس کرتی تھیں، ایڈنا یا لیزا شلز کی طرح کے لوگ، جو میگڈیبرگ کے کمیونٹی سینٹر میں پناہ گزینوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے ان کے قریبی دوست بن گئے تھے۔
لیزا کہتی ہیں کہ ایلا ایک ہنستی مسکراتی ملنسار خاتون تھیں جو آسانی سے دوست بنا لیتی تھیں۔
’میں ایلا سے سینٹر میں ملی تھی۔ شروع میں تو وہ وہاں اپنی جرمن بہتر کرنے آئی تھیں۔ لیکن کچھ عرصے کے بعد انھوں نے مترجم بن کر ہماری بڑی مدد کی۔ وہ پانچ زبانیں بول سکتی تھیں: انگریزی، جرمن، عربی، ترک اور فارسی۔ وہ ایک مددگار اور دوستانہ مزاج کی حامل شخصیت تھیں۔‘
ان کے جینڈر کے اظہار کے متعلق لیزا کہتی ہیں کہ ’وہ ہمیشہ سے ایلا تھیں، لیکن شروع میں وہ اس طرح کی ایلا نہیں لگتی تھیں جیسی کہ اب ہم جانتے ہیں۔ وہ ایک عمل تھا۔‘
ایک ایسا عمل جسے اپنے پورے عروج پر آنے میں ایک سال سے زیادہ کا عرصہ لگا۔
لیزا یاد کرتی ہیں کہ انھوں نے کمیونٹی گارڈن میں بھی ہماری مدد کی: ’وہ ہمیشہ مختصر سکرٹ اور ایڑھی والے جوتے پہنے ہوئے کھیت میں آلو یا کوئی بھی پودا لگانے آ جاتی تھیں۔‘
لیکن حقیقت یہ ہے کہ تمام جگہیں ایلا کے لیے محفوظ نہیں تھیں۔ لیزا اور ایڈنا بتاتی ہیں کہ انھیں گلیوں میں ہراساں کیا گیا اور ڈرایا گیا۔
لیزا کہتی ہیں کہ ’وہ جہاں بھی گئیں لوگوں نے ان کے بارے میں بات کی اور کبھی کبھی ان پر زبانی جملے بھی کسے گئے۔ ’وہ چاہتی تھیں کہ انھیں عورت کے طور پر قبول کیا جائے، مگر جو وہ تھیں لوگوں نے اسے قبول نہیں کیا۔‘
میگڈیبرگ میں ایلا کے ایک اور دوست مائیکل وہ دن یاد کرتے ہیں جب نوجوانوں کے ایک گروہ نے ٹرین میں ان پر حملہ کیا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’حملہ آوروں کو اس بات کی پرواہ نہیں تھی کہ دوسرے مسافر انھیں دیکھ رہے ہیں۔ ان کو کالی مرچ کے سپرے سے اپنا دفاع کرنا پڑا۔‘ مائیکل کہتے ہیں کہ وہ یہ نہیں سمجھ پائے کہ حملہ آور کیا کہہ رہے تھے کیونکہ وہ فارسی میں بات کر رہے تھے، لیکن ایلا نے انھیں بتایا کہ وہ انھیں ریپ کی دھمکی دے رہے تھے۔
میگڈیبرگ میں ایلا کے لیے اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی ٹرانس خاتون کے طور پر زندگی گذارنا آسان نہیں تھا، جہاں انھیں پانچ مرتبہ اپنی رہائش بدلنی پڑی۔ مائیکل کے مطابق شہر میں ان کی آخری رہائش گاہ خواتین کی پناہ گاہ تھی، یہ بھی انھیں اس لیے چھوڑنی پڑی کہ کچھ لوگ نہیں چاہتے تھے کہ وہ وہاں رہیں۔
2019 کے موسم خزاں میں، ایلا نے اس امید پر کہ شاید انھیں وہاں زیادہ تنگ نہ کیا جائے برلن جانے کا فیصلہ کیا۔
برلن میں کویئر افراد کے لیے بہت سی محفوظ جگہیں ہیں اور وہ ایل جی بی ٹی کیو کمیونٹی کے لیے زیادہ آزادانہ خیال رکھنے کے لیے جانا جاتا ہے۔
کاوی کرمان شاہی، لیمگراس تنظیم کے لیے کام کرتے ہیں جو برلن میں ٹرانس اور کویئر لوگوں کی مدد کرتی ہے، کہتے ہیں کہ ان میں سے بہت سی جگہوں پر مختلف وجوہات کی بنا پر مہاجرین کو رسائی نہیں ہیں۔
’پناہ کے متلاشی اور پناہ گزینوں کا انحصار حکومت کی مالی مدد پر ہے، جو زیادہ نہیں ہے۔ لہذا وہ ان بارز، کیفے اور کلبوں میں جانے کی مالی استطاعت ہی نہیں رکھتے جنھیں ’کویئر سپیسز‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر جگہیں سفید فام ہم جنس پرست مردوں کے لیے بنائی گئی ہیں، نہ کہ مثال کے طور پر دوسرے 'رنگ‘ کی ٹرانس خواتین کے لیے۔ اس کے علاوہ، زبان کا مسئلہ بھی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
شروع میں ایلا کی پناہ کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی، جو کرمان شاہی کے مطابق ایک عام بات ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ایران میں ٹرانس افراد کو صنفی تفویض کی سرجری تک رسائی حاصل ہے اور بعد میں وہ ’آزادانہ‘ زندگی گزارتے ہیں، یہ ایک غلط مفروضہ ہے جو ان کی پناہ کی درخواست کو کمزور کرتا ہے۔
کاوے کہتے ہیں کہ حقیقت میں ایران میں ٹرانس جینڈر افراد کی پہلے لازمی تھیراپی ہوتی ہے جو کاؤنسلروں کے ذاتی تعصبات کے رحم و کرم پر ہوتی ہے۔ اور جو لوگ آپریشن کروانا چاہتے ہیں انھیں بھی اجازت کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔
کرمان شاہی کہتے ہیں کہ ’جو تھیراپی سیشن یہ تعین کیا کرتے تھے کہ آیا کسی کو آپریشن کی ضرورت ہے، وہ مناسب نہیں ہیں اور ایران میں کاؤنسلرز اور تھیراپسٹ کے پاس تازہ ترین معلومات بھی نہیں ہیں۔ بہت سے لوگ مجبوراً ہارمون تھراپی اور سرجری کو قبول کرتے ہیں۔ ایرانی قانون کے تحت، شناختی کارڈ (پیدائشی جینڈر سے ہٹ کے کسی جینڈر کے لیے) صرف ان لوگوں کو جاری کیے جاتے ہیں جو (جنسی تفویض کے) آپریشن سے گزرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ بہت سے ٹرانس جینڈر لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہے۔‘
باران ایک ایرانی ٹرانس خاتون ہیں جو 2017 سے ترکی میں رہ رہی ہیں۔ انھیں پناہ گزین کا درجہ تو دیا گیا ہے، لیکن انھیں کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
وہ خاص طور پر ایران سے اس لیے فرار ہوئی تھیں کیونکہ وہ صنفی تفویض کی سرجری نہیں کروانا چاہتی تھیں، لیکن ان کے خاندان نے انھیں مجبور کیا کہ وہ ہارمون تھراپی کروائیں، جو بعد میں ان میں ڈپریشن کا سبب بنا۔
باران کہتی ہیں کہ ’میں اپنے جسم اور اپنے جنسی اعضا سے خوش تھی؛ میں ہارمونز لینے یا آپریشن کروانا نہیں چاہتی تھی۔‘ لیکن ان کے گھر والوں نے اصرار کیا اور ڈاکٹروں نے کہا کہ اگر سرجری کروانے سے انکار کرتی ہیں تو وہ عورت نہیں ہیں۔
باران کہتی ہیں کہ ترکی میں حالات کچھ زیادہ مختلف نہیں تھے۔ جو پولس افسر ان کی پناہ کی درخواست کا انچارج تھا وہ ٹرانس جینڈر لوگوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ ’اس نے مجھے بتایا کہ مجھے آپریشن کرانا چاہیے اور اسے ختم کرنا چاہیے۔‘
جرمنی میں بھی انھیں ایسے ہی تجربات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے متعلق انھیں شکایت ہے کہ ان سے ان کی صنفی شناخت پر اکثر سوالات کیے جاتے ہیں۔
لیزا شلز جولائی 2021 میں برلن میں ایلا سے ملنے گئی تھیں، اس سے چند ماہ بعد ایلا نے اپنی جان لے لی تھی۔
وہ یاد کرتی ہیں کہ ’انھوں نے اپنی ہارمون تھراپی شروع کر دی تھی اور آپ ان میں تبدیلی کی پہلی علامات دیکھ سکتے تھے۔ وہ بہت اچھی لگ رہی تھی اور انھوں نے ایک شاندار لباس پہنا ہوا تھا۔‘ وہ خوش نظر آئیں اور انھوں نے لیزا کو اپنے پسندیدہ سوشی ریستوران میں مدعو بھی کیا۔
لیزا کہتی ہیں کہ ’میں جانتی تھی کہ انھیں سوشی کتنی پسند تھی اور اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ وہاں جانا کتنا اچھا لگتا تھا، اس لیے یہ میرے لیے اعزاز کی بات تھی۔‘
اس وقت ایلا ایک تربیتی کورس کر رہی تھی جسے کرنے کے بعد وہ ٹیسلا پروڈکشن پلانٹ میں ملازمت کے لیے درخواست دے سکتی تھیں۔ کیفے اور ریستورانوں میں نت نئی ملازمتوں کے بعد آخر کار انھیں مستقل ملازمت اور آمدنی تلاش کرنے کا موقع ملا تھا۔
لیزا کہتی ہیں کہ وہ ایلا کے لیے خوش تھیں۔
لیکن ایلا خوش نہیں تھی۔
بہت سے ایرانی ٹرانس پناہ گزین امید کرتے ہیں کہ مغربی ممالک انھیں قبول کریں گے، لیکن اکثر حقیقت ان کی توقعات سے مختلف ہوتی ہے۔
جرمن قانون کے مطابق پناہ کے متلاشی ٹرانس افراد کی شناخت ان کی پیدائشی جنس اور نام سے کی جاتی ہے اور اسے اس وقت تک نہیں بدلا جاتا جب تک انھیں پناہ گزین کا درجہ نہیں مل جاتا۔ اس میں کئی سال لگ سکتے ہیں، یعنی اس تمام کاغذی کارروائی میں ایلا کو ایک ’مرد‘ کے طور پر شناخت کیا گیا ہو گا۔
ایلا کے لیے، اپنی شناخت منوانے کی طویل اور مایوس کن جدوجہد ان کے نئے آبائی شہر میں بھی جاری رہی۔
لیزا کہتی ہیں کہ ’میں نے برلن میں دوستوں سے سنا کہ وہاں کی گلیوں میں بھی انھیں ہراساں کیا گیا تھا۔‘
ٹرانس فوبیا، یعنی ٹرانس جینڈر لوگوں کے خلاف تعصب، تشدد کا باعث بن سکتا ہے۔ 2021 مرڈرڈ ٹرانس پیپل آبزرویٹری کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ گذشتہ سال دنیا بھر میں 370 سے زیادہ ٹرانس اور صنفی طور پر متنوع افراد کو قتل کیا گیا، جن میں سے 96 فیصد ٹرانس خواتین تھیں۔
14 ستمبر کو، برلن میں لیزا کے ساتھ اس خوشگوار ملاقات کے چند ماہ بعد ایلا نے اپنی جان لے لی۔ اس خبر نے ان کے دوستوں کو گہرا صدمہ پہنچایا۔
لیزا کہتی ہیں کہ اس کی کچھ سمجھ نہیں آئی۔ مجھے لگا کہ وہ ٹھیک ٹھاک تھیں۔ وہ ایک نئی نوکری اور اچھی زندگی کی منتظر تھی۔ یہ سب چونکا دینے والا تھا۔‘
مائیکل ان آخری لوگوں میں سے ایک تھے جو ایلا سے ان کی خودکشی سے چند دن پہلے ستمبر میں ملے تھے۔ ایلا کی سالگرہ نومبر میں تھی اور جب مائیکل نے ان سے پوچھا کہ وہ کیا تحفہ پسند کریں گی تو ایلا نے کہا کہ سرمائی کوٹ۔
انھیں یقین ہے کہ جس وقت وہ دونوں شاپنگ کرنے گئے تھے اس وقت ایلا نے اپنی جان لینے کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’وہ پیسے کے معاملے میں بہت زیادہ محتاط تھیں۔ اگر انھوں نے اس وقت خودکشی کا منصوبہ بنایا ہوتا تو وہ مجھے وہ کوٹ خریدنے نہ دیتیں۔ اس کی کوئی تُک نہیں بنتی۔‘
انھوں نے اپنا ملک چھوڑنے سے لے کر سیاسی پناہ حاصل کرنے کی طویل افسر شاہی تک متعدد رکاوٹوں کا سامنا کیا۔
لیکن نفرتیں ختم نہیں ہوئیں۔ اس سال جنوری میں ایلا کی قبر پر، جو برلن کے ایک قبرستان میں ہے، نامعلوم حملہ آوروں نے توڑ پھوڑ کی۔ وہ وہاں پٹرول کا ایک کین اور آگ بجھانے والا سامان بھی چھوڑ کر گئے۔
ہم کبھی نہیں جان پائیں گے کہ ایلا نے اپنی جان اس طرح سب کے سامنے کیوں لینے کا فیصلہ کیا، شاید انھوں نے کسی وقت فیصلہ کیا ہو کہ اب آگے بڑھنا بے سود ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ انھیں متعدد رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، جو کہ اکثر ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی تھیں: اپنے آبائی ملک سے فرار ہونے سے لے کر سیاسی پناہ کے عمل کی طویل بیوروکریسی تک اور پھر طبی، نفسیاتی اور قانونی مشاورت کا بظاہر نہ ختم ہونے والا سلسلہ۔ اس کے علاوہ امتیازی سلوک اور بدسلوکی کا کبھی نہ رکنے والا طوفان بھی ان مشکلات میں شامل ہے۔
زیادہ اوقات انھوں نے اس کا سامنا اپنے چہرے پر مسکراہٹ کے ساتھ کیا لیکن قریبی اور محبت بھری دوستیاں بنانے کے باوجود، شاید بہت سے دوسرے ایسے تھے جنھوں نے ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔
بی بی سی نے جرمنی کے فیڈرل آفس فار مائیگریشن اینڈ ریفیوجیز سے ایلا کے معاملے پر تبصرہ کرنے کے لیے رابطہ کیا۔ انھوں نے ہمیں بتایا کہ اگرچہ وہ کسی مخصوص کیس پر تبصرہ نہیں کر سکتے، تاہم سیاسی پناہ کے ہر کیس کا قانون کے اصولوں کے مطابق جائزہ لیا جاتا ہے، اور جن افراد کی پناہ کی درخواست ناکام ہو جاتی ہے انھیں ہمیشہ اپیل کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔