چین کے لائیو سٹریمرز کی ذاتی زندگیوں کی جھلک، پیسے کمانے کے لیے یہ کیا جتن کرتے ہیں؟

Woman holds a carrier pigeon in her hand while surrounded with professional lighting and camera equipment.

،تصویر کا ذریعہHuang Qingjun

،تصویر کا کیپشن35 سالہ کوان روئی نے کبوتر کے بارے میں لائیو سٹریمنگ کرکے اپنے لیے ایک منفرد مقام بنایا ہے
    • مصنف, زبیدہ عبدالجلیل اور ٹیسا وونگ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

چین کے لائیو سٹریمرز کی دنیا۔۔۔ جہاں کبوتروں کے ماہر سے لے کر پروفیسر تک شامل ہیں، یہ چین کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی کمیونٹی میں سے ایک ہے۔ ان پر ایک نئی تصویری سیریز اس کمیونٹی کے کام اور زندگیوں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کرتی ہے۔

چینی فوٹوگرافر ہوانگ کِنگ جون عام چینیوں کی ذاتی زندگیوں کو عکس بند کرنے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ 2003 میں ان کے ایک انوکھے پروجیکٹ میں انھوں نے چین بھر سے لوگوں کے پاس موجود ان کی ذاتی اشیا کو عکس بند کرنا شروع کیا۔

اس پروجیکٹ سیریز کو جیا ڈانگ، یا فیملی سٹف کا نام دیا گیا۔ اس کے لیے وہ تقریباً دو دہائیوں تک مختلف صوبوں میں گئے اور مختلف خاندانوں کی ان کے تمام ساز و سامان کے ساتھ تصاویر بنائیں۔

اپنے منصوبے کے تازہ دور میں ہوانگ نے اپنے کمیرے لینس کا رخ ان لوگوں کی طرف کیا جو لائیو سٹریمنگ سے اپنی روزی کماتے ہیں۔

Man dressed in a straw hat and a grey robe sits at wooden bench, flanked with items like bicycles, aluminium tins and rubber masks.

،تصویر کا ذریعہHuang Qingjun

،تصویر کا کیپشنتیان رونگگو، 25، نے لائیو سٹریمنگ میں ایک مزاحیہ کردار ادا کرتے ہوئے شہرت حاصل کی جسے تیان بن دی مینٹر کہا جاتا ہے

کورونا کی وبا کے دوران لائیو سٹریمنگ کی مقبولیت میں اضافہ ہوا جس کے ذریعے تفریح فراہم کی گئی کیونکہ لاکھوں لوگ کئی ہفتوں تک اپنے گھروں تک محدود تھے۔

یہ صرف ناظرین ہی نہیں تھے جو اس سب سے جڑے ہوئے تھے۔ کاروباری افراد نے بھی سامان کی فروخت کے لیے آن لائن پلیٹ فارم کا اسستعمال کیا۔ فروری 2020 میں جب چین میں کووڈ 19 کی وبا عروج پر تھی، تاؤ باؤ نامی چینی پلیٹ فارم جس پر لائیو سٹریمنگ میں سب سے زیادہ خرید و فروخت ہوتی ہے اس کے ملک بھر میں نئے تاجروں کی تعداد میں 719 فیصد اضافہ ہوا۔

چونکہ چین کے مختلف صوبوں اور شہروں میں لاک ڈاؤن کا نفاذ اب بھی جاری ہے اس لیے لائیو سٹریمنگ کے لیے اب بھی بہت مواد موجود ہے۔

ہوانگ بی بی سی کو بتاتے ہیں، ’گذشتہ دو برسوں میں، لوگوں کی روزمرہ کی زندگی اور اشیا کے استعمال کی عادات میں بہت تبدیلی آئی ہے۔‘

’اب کووڈ وبا کے بعد کے دور میں لوگ سمارٹ فونز کے ذریعے معاشرے کو سمجھتے ہیں، اور مختصر نشریات اور لائیو سٹریمنگ افراد کے لیے اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کا ایک راستہ بن گیا ہے۔‘

A woman stands in front of a wooden worktable surrounded an array of tools to create and design kites

،تصویر کا ذریعہHuang Qingjun

،تصویر کا کیپشنپتنگ سازوں کے خاندان میں پیدا ہونے والی، 55 سالہ یانگ ہونگ وے اپنے لائیو سٹریمز میں اس 2,000 سال پرانی روایت کی تکنیکوں اور کہانیوں کے بارے میں بتاتی ہیں

شاید زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان لائیو سٹریمرز نے لوگوں کے تنہائی کے احساس کو دور کیا خاص طور پر ایسے وقت میں جب پابندیوں اور قرنطینہ نے بہت سے لوگوں کو انسانی تعلق اور محفل سے محروم کر دیا ہے۔

ہوانگ کا کہنا ہے کہ ’سامعین اور لائیو سٹریمر کے درمیان ’ٹھوس دوستی‘ جو لائیو سٹریم براڈ کاسٹ کے باعث بن گئی ہے، وہ بھی لوگوں کے جذبے کو برقرار رکھنے کی وجہ ہے۔‘

Man jumps in the air in front of a caravan. In front of him on a foldable table are his cooking utensils, foodstuffs and other essential items needed for living in a caravan.

،تصویر کا ذریعہHuang Qingjun

،تصویر کا کیپشن31 سالہ اداکار ما شوئی کو شہرت اس وقت ملی جب اس نے کارواں میں رہنے کے لیے اپنا اپارٹمنٹ چھوڑ دیا اور اپنی روزمرہ کی زندگی کے بارے میں لائیو سٹریمنگ شروع کی
Man stands in front of a roadside hawker stall while taking a shot of himself. In front of him are trays of eggs, cooking oil, bottles of sauces and produce to cook cold grilled noodles.

،تصویر کا ذریعہHuang Qingjun

،تصویر کا کیپشن38 سالہ لو فینگ نے ٹھنڈے نوڈلز فروخت کرنے والے اپنے فوڈ ٹرک سے اپنی نشریات سے آن لائن شائقین اور حقیقی زندگی کے صارفین کو اپنی طرف متوجہ کیا

اپنی پہلی تصویری سیریز میں، مسٹر ہوانگ کو چین کے کچھ دور دراز علاقوں کا سفر کرنا پڑا تاکہ لوگوں کو اپنے لیے پوز کرنے پر آمادہ کر سکیں۔ ان میں سے کچھ نے اپنی زندگی میں کبھی تصویر نہیں کھنچوائی تھی اور بہت سے ایسے تھے جن کے پاس کیمرہ بھی نہیں تھا۔

وہ عموماً اپنی معمولی لیکن قیمتی چیزیں دکھاتے تھے جیسے کہ ایک ٹیلی ویژن، چند برتن، کچھ جوڑے اور پہنے ہوئے جوتے۔

لیکن اب ان کی توجہ کا مرکز مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے ٹیکنالوجی سے وابستہ لوگوں کا ایک گروپ ہے، جس میں کیمسٹری کے پروفیسر اور فوڈ ڈیلیوری مین سے لے کر کبوتر کے شوقین اور نوڈل بیچنے والے شامل ہیں۔

اس بار ان کی تصویروں کا موضوع بننے والے بہت سے لوگ خود کو کیمرے کے سامنے لاتے ہوئے، پیشہ ور فلم سازی کے آلات، الیکٹرانک آلات اور کھیلوں کے سامان کے گرد گھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

A man takes a selfie while standing in front of his truck, with trucking equipment and supplies laid out in front of it

،تصویر کا ذریعہHuang Qingjun

،تصویر کا کیپشن40 سالہ لاؤ سان چین کے ہر صوبے میں اندازاً 30 لاکھ کلومیٹر کا سفر کر چکے ہیں اور ہزاروں لوگ ٹرک چلانے اور ڈرائیونگ کے بارے میں ان کی نشریات کو دیکھتے ہیں

یہ بھی پڑھیے

ہوانگ کا کہنا تھا ’لائیو سٹریمرز کے سامان پر توجہ دیں ۔۔۔ اور وہ اوزار جن پر وہ اپنی روزی روٹی کے لیے انحصار کرتے ہیں، ہم اس دور کی تبدیلیوں کو دیکھ سکتے ہیں۔‘

’چینی معاشرے کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ، چینی لوگوں کے معیار زندگی میں بھی بڑی تبدیلیاں آئی ہیں، اور زیادہ تر خاندان اس ترقی سے حاصل ہونے والے فائدوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔‘

عالمی بینک کا تخمینہ ہے کہ دو دہائیوں میں چین کی فی کس مجموعی قومی آمدنی دس گنا سے زیادہ بڑھ گئی ہے، جو 2000 میں 940 ڈالر سے 2020 میں 10550 ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جس سے متوسط طبقے میں اضافہ ہوا ہے۔

Professor stands in front of table in a lab laden with beakers, cylinders, titration equipment and other lab equipment, all filled with colourful liquids

،تصویر کا ذریعہHuang Qingjun

،تصویر کا کیپشن64 سالہ برطانوی ڈیوڈ ایونز کیمسٹری کے پروفیسر ہیں جنہوں نے اپنی مختصر سائنس ویڈیوز کے لیے 10 ملین فالورز حاصل کیے ہیں

لیکن فوٹوگرافر ہوانگ کا مزید کہنا ہے کہ کووڈ 19 کی وبا نے بہت سے لوگوں کو زندگی گزارنے کے انداز و اطوار پر دوبارہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔

’اب لوگوں نے ماحول کی اہمیت کو تسلیم کر لیا ہے، اور ہر گھر نے اپنے کوڑے کو ری سائیکلنگ کے لیے چھانٹنا شروع کر دیا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’چونکہ وبائی مرض میں بہت زیادہ غیر یقینی صورتحال ہے، اس کا لوگوں کی آمدنی اور گھریلو استعمال کی اشیا پر بھی بہت اثر پڑا ہے۔‘

ہوانگ کو امید ہے کہ ضرورت سے زیادہ اصراف سے دُوری کا یہ بتدریج رجحان ان کی سیریز کی اگلی قسط کے لیے تحریک کا کام کرے گا۔

’مجھے امید ہے کہ میں مستقبل میں ایک کم سے کم اصراف کی طرز زندگی کا موضوع کر سکتا ہوں۔‘

وہ کہتے ہیں ’اور میری فیملی سٹف سیریز کا آخری کام میرے اپنے سامان سے متعلق ہو گا۔‘

Food deliveryman Gao Zhixiao, 33, does his broadcasts late at night after he's done with his deliveries

،تصویر کا ذریعہHuang Qingjun

Picture of Zhang Meili

،تصویر کا ذریعہHuang Qingjun

،تصویر کا کیپشن21 سالہ خاتون باڈی گارڈ ژانگ میلی اپنی زیادہ تر خواتین فالوورز کے ساتھ دفاع کی مہارتیں بانٹ رہی ہیں