چین کے لائیو سٹریمرز کی ذاتی زندگیوں کی جھلک، پیسے کمانے کے لیے یہ کیا جتن کرتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہHuang Qingjun
- مصنف, زبیدہ عبدالجلیل اور ٹیسا وونگ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
چین کے لائیو سٹریمرز کی دنیا۔۔۔ جہاں کبوتروں کے ماہر سے لے کر پروفیسر تک شامل ہیں، یہ چین کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی کمیونٹی میں سے ایک ہے۔ ان پر ایک نئی تصویری سیریز اس کمیونٹی کے کام اور زندگیوں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کرتی ہے۔
چینی فوٹوگرافر ہوانگ کِنگ جون عام چینیوں کی ذاتی زندگیوں کو عکس بند کرنے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ 2003 میں ان کے ایک انوکھے پروجیکٹ میں انھوں نے چین بھر سے لوگوں کے پاس موجود ان کی ذاتی اشیا کو عکس بند کرنا شروع کیا۔
اس پروجیکٹ سیریز کو جیا ڈانگ، یا فیملی سٹف کا نام دیا گیا۔ اس کے لیے وہ تقریباً دو دہائیوں تک مختلف صوبوں میں گئے اور مختلف خاندانوں کی ان کے تمام ساز و سامان کے ساتھ تصاویر بنائیں۔
اپنے منصوبے کے تازہ دور میں ہوانگ نے اپنے کمیرے لینس کا رخ ان لوگوں کی طرف کیا جو لائیو سٹریمنگ سے اپنی روزی کماتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہHuang Qingjun
کورونا کی وبا کے دوران لائیو سٹریمنگ کی مقبولیت میں اضافہ ہوا جس کے ذریعے تفریح فراہم کی گئی کیونکہ لاکھوں لوگ کئی ہفتوں تک اپنے گھروں تک محدود تھے۔
یہ صرف ناظرین ہی نہیں تھے جو اس سب سے جڑے ہوئے تھے۔ کاروباری افراد نے بھی سامان کی فروخت کے لیے آن لائن پلیٹ فارم کا اسستعمال کیا۔ فروری 2020 میں جب چین میں کووڈ 19 کی وبا عروج پر تھی، تاؤ باؤ نامی چینی پلیٹ فارم جس پر لائیو سٹریمنگ میں سب سے زیادہ خرید و فروخت ہوتی ہے اس کے ملک بھر میں نئے تاجروں کی تعداد میں 719 فیصد اضافہ ہوا۔
چونکہ چین کے مختلف صوبوں اور شہروں میں لاک ڈاؤن کا نفاذ اب بھی جاری ہے اس لیے لائیو سٹریمنگ کے لیے اب بھی بہت مواد موجود ہے۔
ہوانگ بی بی سی کو بتاتے ہیں، ’گذشتہ دو برسوں میں، لوگوں کی روزمرہ کی زندگی اور اشیا کے استعمال کی عادات میں بہت تبدیلی آئی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’اب کووڈ وبا کے بعد کے دور میں لوگ سمارٹ فونز کے ذریعے معاشرے کو سمجھتے ہیں، اور مختصر نشریات اور لائیو سٹریمنگ افراد کے لیے اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کا ایک راستہ بن گیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہHuang Qingjun
شاید زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان لائیو سٹریمرز نے لوگوں کے تنہائی کے احساس کو دور کیا خاص طور پر ایسے وقت میں جب پابندیوں اور قرنطینہ نے بہت سے لوگوں کو انسانی تعلق اور محفل سے محروم کر دیا ہے۔
ہوانگ کا کہنا ہے کہ ’سامعین اور لائیو سٹریمر کے درمیان ’ٹھوس دوستی‘ جو لائیو سٹریم براڈ کاسٹ کے باعث بن گئی ہے، وہ بھی لوگوں کے جذبے کو برقرار رکھنے کی وجہ ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہHuang Qingjun

،تصویر کا ذریعہHuang Qingjun
اپنی پہلی تصویری سیریز میں، مسٹر ہوانگ کو چین کے کچھ دور دراز علاقوں کا سفر کرنا پڑا تاکہ لوگوں کو اپنے لیے پوز کرنے پر آمادہ کر سکیں۔ ان میں سے کچھ نے اپنی زندگی میں کبھی تصویر نہیں کھنچوائی تھی اور بہت سے ایسے تھے جن کے پاس کیمرہ بھی نہیں تھا۔
وہ عموماً اپنی معمولی لیکن قیمتی چیزیں دکھاتے تھے جیسے کہ ایک ٹیلی ویژن، چند برتن، کچھ جوڑے اور پہنے ہوئے جوتے۔
لیکن اب ان کی توجہ کا مرکز مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے ٹیکنالوجی سے وابستہ لوگوں کا ایک گروپ ہے، جس میں کیمسٹری کے پروفیسر اور فوڈ ڈیلیوری مین سے لے کر کبوتر کے شوقین اور نوڈل بیچنے والے شامل ہیں۔
اس بار ان کی تصویروں کا موضوع بننے والے بہت سے لوگ خود کو کیمرے کے سامنے لاتے ہوئے، پیشہ ور فلم سازی کے آلات، الیکٹرانک آلات اور کھیلوں کے سامان کے گرد گھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہHuang Qingjun
یہ بھی پڑھیے
ہوانگ کا کہنا تھا ’لائیو سٹریمرز کے سامان پر توجہ دیں ۔۔۔ اور وہ اوزار جن پر وہ اپنی روزی روٹی کے لیے انحصار کرتے ہیں، ہم اس دور کی تبدیلیوں کو دیکھ سکتے ہیں۔‘
’چینی معاشرے کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ، چینی لوگوں کے معیار زندگی میں بھی بڑی تبدیلیاں آئی ہیں، اور زیادہ تر خاندان اس ترقی سے حاصل ہونے والے فائدوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔‘
عالمی بینک کا تخمینہ ہے کہ دو دہائیوں میں چین کی فی کس مجموعی قومی آمدنی دس گنا سے زیادہ بڑھ گئی ہے، جو 2000 میں 940 ڈالر سے 2020 میں 10550 ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جس سے متوسط طبقے میں اضافہ ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہHuang Qingjun
لیکن فوٹوگرافر ہوانگ کا مزید کہنا ہے کہ کووڈ 19 کی وبا نے بہت سے لوگوں کو زندگی گزارنے کے انداز و اطوار پر دوبارہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔
’اب لوگوں نے ماحول کی اہمیت کو تسلیم کر لیا ہے، اور ہر گھر نے اپنے کوڑے کو ری سائیکلنگ کے لیے چھانٹنا شروع کر دیا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’چونکہ وبائی مرض میں بہت زیادہ غیر یقینی صورتحال ہے، اس کا لوگوں کی آمدنی اور گھریلو استعمال کی اشیا پر بھی بہت اثر پڑا ہے۔‘
ہوانگ کو امید ہے کہ ضرورت سے زیادہ اصراف سے دُوری کا یہ بتدریج رجحان ان کی سیریز کی اگلی قسط کے لیے تحریک کا کام کرے گا۔
’مجھے امید ہے کہ میں مستقبل میں ایک کم سے کم اصراف کی طرز زندگی کا موضوع کر سکتا ہوں۔‘
وہ کہتے ہیں ’اور میری فیملی سٹف سیریز کا آخری کام میرے اپنے سامان سے متعلق ہو گا۔‘

،تصویر کا ذریعہHuang Qingjun

،تصویر کا ذریعہHuang Qingjun











