آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
خواتین کا عالمی دن 2022: اس دن کی تاریخ کیا ہے اور یہ کیوں منایا جاتا ہے؟
ہو سکتا ہے کہ آپ نے خواتین کے عالمی دن کے بارے میں میڈیا میں یا دوستوں کو بات کرتے سنا ہو۔ مگر یہ دن ہے کس لیے؟ یہ کب ہوتا ہے؟ کیا یہ جشن ہے یا احتجاج؟ کیا مردوں کا بھی عالمی دن ہوتا ہے؟ اور اس سال اس موقعے کی مناسبت سے کون کون سی تقریبات ہوں گی؟
تقریباً ایک صدی سے لوگ 8 مارچ کو خواتین کے لیے ایک خاص دن کے طور پر مناتے ہیں۔
اس کی وجہ جاننے کے لیے مزید پڑھیے۔
1۔ یہ شروع کیسے ہوا؟
خواتین کا عالمی دن ایک مزدور تحریک کے طور پر شروع ہوا تھا اور اب یہ اقوام متحدہ کی جانب سے تسلیم شدہ ایک سالانہ دن ہے۔
اس دن کا آغاز 1908 میں نیو یارک شہر سے ہوا جب 15000 خواتین نے کم گھنٹے کام، بہتر تنخواہوں اور ووٹ کے حق کے لیے مارچ کیا۔ اس سال بعد سوشلسٹ پارٹی آف امریکہ نے پہلا قومی یومِ نسواں منایا۔
اس کو عالمی سطح پر لے جانے کا خیال کلارا زتکن نامی خاتون کا تھا جو کہ ایک کمیونسٹ اور خواتین کے حقوق کی کارکن تھیں۔ انھوں نے 1910 میں کوپن ہیگن میں انٹرنیشنل کانفرنس آف ورکنگ ویمن میں یہ خیال پیش کیا۔ وہاں 17 ممالک سے 100 خواتین موجود تپیں جنھوں نے متفقہ طور پر اس کی تائید کی۔
یہ پہلی مرتبہ آسٹریا، ڈنمارک، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ میں 1911 میں منایا گیا۔ اس کے سو سال 2011 میں منائے گئے چنانچہ اس سال ہم 111واں یومِ خواتین منائیں گے۔
سنہ 1975 میں اسے سرکاری طور پر تسلیم کیا گیا جب اقوام متحدہ نے اسے منانا شروع کر دیا۔ سنہ 1996 میں پہلی مرتبہ اس کو ایک تھیم دیا گیا جب اقوام متحدہ نے اسے ‘ماضی کا جشن اور مستقبل کی منصوبہ بندی‘ کے عنوان سے منایا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
2۔ آٹھ مارچ کی تاریخ کیوں؟
کلارا نے خواتین کے عالمی دن کے لیے کوئی خاص تاریخ منتخب نہیں تھی۔
اور یہ 1917 تک متعین بھی نہیں ہوئی تھی جب پہلی عالمی جنگ کے دوران روسی خواتین نے ‘روٹی اور امن‘ کے مطالبات کے ساتھ ہڑتال کر دی اور چار دن کے بعد روسی سربراہ کو حکومت چھوڑنی پڑی اور خواتین کو ووٹ کا عبوری حق مل گیا۔
جس دن روس میں خواتین کی ہڑتال شروع ہوئی تھی وہ جولیئن کیلنڈر میں 23 فروری تھی جو موجودہ کیلنڈر میں 8 مارچ ہے اور اسی لیے یہ آج کی تاریخ کو منایا جاتا ہے۔
3۔ لوگ جامنی رنگ کیوں پہنتے ہیں؟
عالمی یومِ خواتین کے رنگوں میں جامنی، ہرا، اور سفید شامل ہیں۔
جامنی رنگ انصاف اور وقار کی علامت ہے۔ ہرا رنگ امید ظاہر کرتا ہے۔ سفید پاکیزگی کے لیے رکھا گیا ہے تاہم یہ قدرے متنازع ہے۔ یہ رنگ برطانیہ میں 1908 میں ویمنز سوشل این پولیٹیکل یونین سے نکلے ہیں۔
4۔ کیا مردوں کا عالمی دن ہوتا ہے؟
جی بالکل! 19 نومبر کو مردوں کا عالمی دن ہوتا ہے۔ مگر یہ 1990 کی دہائی میں شروع ہوا ہے اور اقوام متحدہ کی جانب سے تسلیم شدہ نہیں ہے۔ مگر برطانیہ سمیت 80 ممالک میں لوگ اسے مناتے ہیں۔
اس کے منتظمین کے مطابق ‘یہ دن مردوں کی جانب سے اس دنیا میں مثبت اثرات، اپنی فیملی اور کمیونٹی میں مثبت اثرات کا جشن ہے‘ اور اس کا مقصد صنفی تعلقات میں بہتری لانا ہے۔
5۔ خواتین کا عالمی دن کیسے منایا جاتا ہے؟
خواتین کا عالمی دن کئی ممالک میں قومی تعطیل کا دن ہے، بشمول روس کے جہاں 8 مارچ کے آس پاس تین چار دنوں میں پھولوں کی فروخت دگنی ہو جاتی ہے۔
چین میں حکومت کی جانب سے خواتین کو آدھے دن کی چھٹی دی جاتی ہے مگر بہت سی کمپنیاں یہ چھٹی اپنے ملازموں کو نہیں دیتیں۔
اٹلی میں اس دن مموسا بلوسمز پھول دیے جاتے ہیں۔ اس روایات کا آغاز کیسے ہوا یہ تو کسی کو معلوم نہیں مگر کہا جاتا ہے کہ یہ روم میں دوسری عالمی جنگ کے بعد شروع ہوا۔
امریکہ میں مارچ کا مہینہ تاریخِ نسواں کے مہینے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے ایک صدارتی اعلان بھی کیا جاتا ہے جس میں سال بھر کی خواتین کی کامیابیوں کو اعزاز دیا جاتا ہے۔ اس سال کورونا وائرس کی وجہ سے تقریبات آن لائن کی جانی ہیں۔
6۔ اس سال خواتین کے عالمی دن کا عنوان کیا ہے؟
اقوام متحدہ نے 2022 کے لیے اس دن کا عنوان رکھا ہے ‘ایک پائیدار کل کے لیے صنفی مساوات‘۔ اس سال تقریبات میں یہ دیکھا جائے گا کہ خواتین ماحولیاتی تبدیلی سے کیسے نمٹ رہی ہیں۔
مگر دنیا بھر میں اس کے علاوہ عنوانات بھی رکھے گئے ہیں۔ #BreakTheBias لوگوں کو ایسی دنیا تصور کرنے کا کہہ رہا ہے جہاں امتیازی سلوک، دقیانوسی سوچ اور تعصب نہ ہو۔
7۔ ہمیں اس کی ضرورت کیوں ہے؟
گذشتہ ایک سال میں دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے ہم کچھ پیچھے چلے گئے ہیں۔ افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے سے لاکھوں افغان خواتین کی زندگی بدل گئی ہے۔ لڑکیوں کو سکول جانے سے روکا گیا ہے، خواتین کے امور کی وزارت ختم کر دی گئی اور بہت سی خواتین کی ملازمتیں ختم ہوئیں۔
برطانیہ میں پولیس اہلکار سارہ ایورارڈ کے قتل کے بعد خواتین کے تحفظ پر بحث شروع ہوئی۔ امریکہ میں اسقاطِ حمل کے حق پر قدغنیں لگائی جا رہی ہیں۔
کورونا وائرس کی عالمی وبا نے بھی خواتین کے حقوق پر منفی اثر ڈالا ہے۔ عالمی اقتصادی فورم کی 2021 کی صنفی رپورٹ کے مطابق صنفی امتاز ختم کرنے کے لیے درکار تحمینے کو 99.5 سال سے بڑھا کر 135.6 سال کر دیا گیا ہے۔
سنہ 2021 میں اقوام متحدہ کی 13 ممالک میں ایک تحقیق میں پتا چلا کہ ہے تقریباً ہر دو میں سے ایک (45 فیصد) خواتین نے یا تو خود تشدد سہا یا پھر کسی جاننے والی خاتون کے بارے میں تشدد کی کہانیاں سنیں۔
سنہ 2021 میں کورونا وائرس کی وبا کے باوجود عالمی دن کی ریلیاں نکالی گئی تھیں۔
کملا ہیرس 2021 میں پہلی امریکی نائب صدر بنیں۔
تیونس میں پہلی مرتبہ خاتون صدر کو چنا گیا جبکہ ایسٹونیا، سوئیڈن، ساموئا، اور تیونس میں پہلی مرتبہ خواتین وزیرِ اعظم کے عہدوں پر پہنچیں۔
اور اس کے علاوہ می ٹو موومنٹ کو کون بھول سکتا ہے جو کہ 2017 میں ہالی وڈ میں شروع ہوئی تھی مگر اب دنیا بھر میں پھیل چکی ہے!