جاسنڈا آرڈن: اومیکرون وائرس کے مریضوں میں اضافہ، نیوزی لینڈ کی وزیرِاعظم نے اپنی شادی کی تقریب منسوخ کر دی

نیوزی لینڈ کی وزیرِاعظم جاسنڈا آرڈن نے کووڈ کی نئی پابندیوں کے اعلان کے بعد اپنی شادی کی تقریب منسوخ کر دی ہے۔

اومیکرون ویرینٹ کے پھیلنے کے بعد پورے ملک میں کووڈ کی انتہائی سخت پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔

نئی پابندیوں کے مطابق تقریبات میں زیادہ سے زیادہ وہ 100 افراد شریک ہو سکیں گے جنھوں نے ویکسین لگوا لی ہو۔ اس کے علاوہ دکانوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کے دوران ماسک پہننا لازم ہے۔

نیوزی لینڈ میں اب تک کووڈ کے 15104 مریض اور 52 اموات ہوئی ہیں۔

جاسنڈا آرڈن نے اتوار کے روز صحافیوں کو بتایا کہ ٹیلی ویژن ہوسٹ کلارک گیفورڈ کے ساتھ ان کی شادی کی تقریب منعقد نہیں ہو رہی۔

ان کا کہنا ہے ’میں باقی لوگوں سے مختلف نہیں ہوں، نیوزی لینڈ کے ہزراوں شہری اس وبا کے تباہ کن اثرات سے گزرے ہیں جن میں سے سب سے زیادہ تکلیف دہ کسی پیارے کے ساتھ اس وقت موجود نہ ہونا ہے جب وہ بیماری سے گزر رہا ہو۔‘

انھوں نے مزید کہا ’یہ سب میری اداسی سے کہیں بڑھ کر ہے۔‘

نئی پابندیاں اتوار کو مقامی وقت کے مطابق رات گیارہ بجے جی ایم ٹی سے نافذ ہوں گی۔

ان پابندیوں کے اطلاق کا فیصلہ اومیکرون کے متعدد مریضوں کی تصدیق کے بعد سامنے آیا ہے۔

شہر آکلینڈ میں ایک شادی میں شرکت کے بعد جنوبی جزیرے میں واقع گھر واپس آنے پر ایک ہی خاندان کے کئی افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔ ایک فلائٹ اٹینڈنٹ بھی وائرس سے متاثر ہوا۔ حکام کو خدشہ ہے کہ اس گروہ میں شامل افراد سے متاثر ہونے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گی۔

گھر کے اندر یا بند جگہوں پر منعقدہ تقریبات میں صرف وہی 100 افراد شامل ہو سکیں گے جنھوں نے ویکسین لگوائی ہو اور اگر ویکسین پاسز استعمال نہیں کیے گئے تو یہ تعداد 25 ہو گی۔ نیوزی لینڈ ہیرالڈ کی رپورٹ کے مطابق اس میں جم اور شادی کی تقریبات بھی شامل ہیں۔

چوتھی کلاس سے لے کر تمام جماعتوں کے طلبہ کا سکول میں ماسک پہننا لازم ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

کووڈ 19 کے آغاز سے ہی نیوزی لینڈ نے سخت قوانین کا اطلاق کیے رکھا ہے، جس کی وجہ سے وہاں اموات کی تعداد کم رہی۔ یہ دنیا کے ان پہلے ممالک میں سے ایک تھا جنھوں نے اپنی سرحدیں بند کیں اور لاک ڈاؤن کے ذریعے وائرس کو پھیلنے سے روکا۔

لیکن ڈیلٹا ویرینٹ کے بعد سے، نیوزی لینڈ کی وزیرِاعظم نے مکمل طور پر کووڈ کے خاتمے کی سٹریٹیجی کو تبدیل کر دیا اور زیادہ سے زیادہ شہریوں کے ویکسین لگوانے پر زور دیا۔

بتایا جا رہا ہے کہ ملک میں 12 سال سے زیادہ عمر کی تقریباً 94 فیصد آبادی کو مکمل طور پر ویکسین لگا دی گئی ہے اور ان میں سے 56 فیصد نے بوسٹر شاٹس بھی لگوا لیے ہیں۔

گذشتہ برس نیوزی لینڈ نے سرحدوں کو مرحلہ وار کھولنے کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا جس کے مطابق آخری مرحلے میں غیر ملکی مسافروں کو 30 اپریل سے ملک میں داخلے کی اجازت دینے کا کہا گیا تھا۔