روس، یوکرین کشیدگی: ’اموات کی تعداد کی طرح کسی بھی قسم کی دراندازی معمولی نہیں ہوتی‘، یوکرین کا جو بائیڈن کو جواب

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلینسکی نے صدر بائیڈن کے بیان کے جواب میں کہا ہے کہ کوئی بھی حملہ چھوٹا نہیں ہوتا۔
انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’جیسا کہ اموات کی کوئی بھی تعداد معمولی نہیں ہوتی اور اپنے پیاروں کو کھونے کے غم کی ناپ تول نہیں ہوتی، اسی طرح کسی بھی قسم کی دراندازی معمولی نہیں ہوتی۔‘
واضح رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعرات کو کہا تھا کہ انھیں لگتا ہے کہ ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن یوکرین میں ’داخل ہوں گے‘ مگر وہ ایک ’بڑی تباہ کن جنگ‘ نہیں چاہتے۔
گذشتہ کئی ماہ سے روس یوکرین کی سرحدوں پر اپنی فوجی تعیناتیوں میں اضافہ کر رہا ہے۔ یوکرین کے ساتھ سرحد پر تقریباً ایک لاکھ روسی فوجی تعینات ہیں لیکن روس نے حملے کی منصوبہ بندی کرنے کی تردید کی ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے مغربی ممالک سے کئی مطالبے کیے ہیں جن میں یہ بھی شامل ہے کہ یوکرین کو نیٹو میں شامل نہیں کیا جائے گا اور یہ کہ یہ اتحاد مشرقی یورپ میں اپنی عسکری سرگرمیاں بند کر دے۔
روس اور یوکرین کے درمیان سنہ 2014 سے کریمیا کے معاملے پر تنازع جاری ہے اور مشرقی یوکرین میں روس نواز علیحدگی پسند یوکرین کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔
روس نے سنہ 2014 میں روس نواز حکومت کے خاتمے کے بعد جزیرہ نما کریمیا پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا تھا۔
اب یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تازہ صورتحال ایک مرتبہ پھر اس تنازع کو ہوا دے گی جو اب تک 13 ہزار زندگیاں لے چکا ہے اور 20 لاکھ کے قریب جس کے باعث دربدر ہو چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہReuters
صدر جو بائیڈن نے کیا کہا تھا؟
یوکرین میں روسی مداخلت کے خطرے پر پریس کانفرنس کے دوران بائیڈن کا کہنا تھا کہ ’مجھے لگتا ہے وہ (یوکرین میں) داخل ہوں گے۔ انھیں کچھ تو کرنا ہوگا۔‘
مگر انھوں نے متنبہ کیا کہ روسی صدر کو مغرب کی ’آزمائش‘ پر ’انتہائی بڑی قیمت ادا کرنی ہوگی۔‘
وائٹ ہاؤس نے اس بیان کی وضاحت میں کہا ہے کہ ’اگر روسی فوج یوکرین کی سرحد میں داخل ہوئی تو اس پر امریکہ اور اس کے اتحادی متحد اور سنجیدہ ردعمل دیں گے۔‘
بائیڈن سے اس کانفرنس کے دوران یہ پوچھا گیا تھا کہ پوتن کے کیا ارادے ہو سکتے ہیں۔ بائیڈن نے جواب میں کہا کہ ’کیا مجھے لگتا ہے کہ وہ مغرب کو آزمائیں گے؟ امریکہ اور نیٹو کو اس شدت سے آزمائیں گے جو وہ کر سکتے ہیں؟ جی ہاں۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ ایسا کریں گے لیکن انھیں اس کی بڑی قیمت ادا کرنی ہوگی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’انھوں نے ایسی پابندیاں نہیں دیکھیں جن کا میں نے ان کی مداخلت کی صورت میں عہد کیا ہے۔‘ بائیڈن نے کہا ہے کہ مداخلت کس سطح پر کی جاتی ہے اس کے مطابق سزا دی جائے گی۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے پوتن اس بات سے باخبر ہیں کہ یہ جنگ بے قابو ہو سکتی ہے اور اس میں جوہری جنگ کے بھی خدشات ہیں۔ ’وہ ایسی اچھی حالت میں نہیں کہ دنیا پر غلبہ حاصل کر سکیں۔‘
انھوں نے پوتن سے مذاکرات کے امکانات بھی ظاہر کیے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
’روس نہایت مختصر نوٹس پر یوکرین پر حملہ کر سکتا ہے‘
اس سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا تھا کہ روس 'نہایت مختصر نوٹس' پر یوکرین پر حملہ کر سکتا ہے۔ اُنھوں نے خبردار کیا کہ ایسا کرنے کی صورت میں روس پر سخت پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
وہ یوکرین کے دارالحکومت کیف کے دورے کے دوران بات چیت کر رہے تھے۔
امریکہ اور یوکرین کے 'قریبی تعلقات' پر زور دیتے ہوئے بلنکن نے کہا کہ روسی جارحیت کو روکنے کے لیے 'جارحانہ' سفارت کاری کی جائے گی۔
انٹونی بلنکن نے کہا کہ روس نے یوکرین کی سرحدوں پر فوجوں کی تعیناتی 'بلا اشتعال اور بلاوجہ' کی ہے۔
’ہم جانتے ہیں کہ نہایت مختصر نوٹس پر ان فوجوں میں اضافے کے منصوبے موجود ہیں جس کے باعث صدر پوتن کو نہایت مختصر نوٹس پر یوکرین کے خلاف مزید جارحانہ اقدامات کرنے کی صلاحیت مل جائے گی۔‘
اُنھوں نے روس پر ’انتخابات میں دخل اندازی سے لے کر جعلی معلومات اور سائبر حملوں سمیت ہر چیز کے ذریعے‘ یوکرین کے جمہوری اداروں کو کمزور کرنے اور یوکرینی معاشرے کو تقسیم کرنے کا الزام عائد کیا۔
اُنھوں نے کہا کہ ’تازہ ترین جارحیت کو روکنے اور مذاکرات و امن کو فروغ دینے کے لیے جارحانہ سفارتی کوششیں‘ کی جائیں گی۔ ساتھ ہی ساتھ اُنھوں نے حملے کی صورت میں روس پر سخت تر پابندیوں سے بھی خبردار کیا۔
واضح رہے کہ جمعے کو برلن میں یورپی اتحادیوں سے گفتگو کے بعد انٹونی بلنکن جنیوا میں روسی وزیرِ خارجہ سے ملاقات کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
روس کا کیا کہنا ہے؟
جنیوا میں امریکہ کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں روسی وفد کی قیادت کرنے والے روسی نائب وزیرِ خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا کہ اُن کے ملک کا ’کسی جارحانہ اقدام کا ارادہ‘ نہیں ہے۔
اُنھوں نے ماسکو میں ایک میٹنگ میں کہا کہ وہ یوکرین پر حملہ نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے
مگر ساتھ ہی ساتھ اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ماسکو کو یوکرینی سرحدوں سے اپنی فوجیں ہٹانے کے لیے مجبور نہیں کر سکتا۔
’وہ ہماری سرزمین پر ہیں اور ہم غیر ملکی دباؤ کے باعث اُن کی نقل و حرکت میں کوئی تبدیلی نہیں کریں گے۔‘
سرگئی ریابکوف نے واشنگٹن سے یوکرین کے لیے فوجی حمایت روکنے کا مطالبہ کیا۔
اُنھوں نے کہا کہ اس سے روسی سلامتی کو براہِ راست خطرہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انٹونی بلنکن کے دورہ کیف کو 'یوکرین کی خود مختاری اور زمینی سلامتی کے لیے امریکی عزم کا اعادہ' کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا تھا۔
یوکرین کے وزیرِ خارجہ اولیکسی ریزنیکوف نے مغربی حکومتوں سے ماسکو پر فوری پابندیوں کے نفاذ کا مطالبہ کیا ہے۔
بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے خبردار کیا کہ اُن کے ملک پر روسی حملہ خون ریزی اور یورپ میں بڑے پیمانے پر ہجرت کو جنم دے سکتا ہے۔
منگل کو برطانیہ کے فراہم کردہ ہلکے ٹینک شکن میزائل بھی یوکرین پہنچے۔ برطانوی وزیرِ دفاع بین والیس نے کہا تھا کہ 'جائز اور حقیقی تشویش' موجود ہے کہ روسی فوجیوں کو حملے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔












