نیا سال 2022: دنیا بھر میں لوگ نئے سال کی تقریبات کیسے مناتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہANDREW KELLY
دنیا بھر کے ملکوں میں 31 دسمبر کی شام نئے سال 2022 کا جشن مختلف اوقات میں اپنے عروج پر پہنچا جب وہاں رات کے بارہ بجے۔ مگر کچھ ملکوں میں نیا سال مختلف دنوں میں منایا جاتا ہے کیونکہ وہ مختلف کلینڈر استعمال کرتے ہیں۔
نیا سال جب کبھی بھی منایا جائے تو یہ نیت کی جاتی ہے کہ یہ خوش قسمتی کا سال برکتیں لے کر نازل ہو۔
ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ مختلف ملکوں میں لوگ نیا سال کیسے مناتے ہیں۔۔۔
بِگ بینگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نئے سال کا جشن منانے کا سب سے مقبول طریقہ آتش بازی کا نظارہ ہے۔ ایسے آتش بازی کے مظاہرے دنیا بھر کے بہت سے ملکوں میں کیے جاتے ہیں جب مختلف ملکوں میں گھڑیاں رات کے بارہ بجاتی ہیں۔
نیوزی لینڈ، جہاں سب سے پہلے دن نکلتا ہے، کے شہر آکلینڈ کے سکائی ٹاور سے ایک انتہائی دلکش آتش بازی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور اس کے بعد آسٹریلیا کے سڈنی ہاربر ٹاور پر بھی یہی دیکھنے کو ملتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برازیل کے دارالحکومت ریو ڈی جنیرو میں مشہور کوپاکبانا ساحل سمندر پر سال نو کے موقع پر آسمان آتش بازی سے چمک اٹھتا ہے۔ ہانگ کانگ میں وکٹوریا ہاربر کے علاوہ دبئی کے برج خلیفہ میں بھی سال نو پر آتش بازی سے دوسروں ملکوں پر سبقت لینے کی کوشش کی جاتی ہے۔
بڑی گیند کا گِرنا
نیویارک میں ٹائمز سکوائر سال نو کے جشن کا مرکز ہوتا ہے اور وہاں بارہ بجنے سے کچھ دیر پہلے الٹی گنتی کی جاتی ہے۔
لیکن ہر کسی کی نظریں جس چیز پر جمی ہوتی ہیں اس کو ’بال ڈراپ‘ یا گیند کا گرنا کہتے ہیں جب ایک چمکتی ہوئی گیند ایک پول کے اوپر سے نیچے گرائی جاتی ہے جو کہ نئے سال کی آمد کا اعلان ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کے نتیجے میں امریکہ کے دوسرے شہروں میں نیا سال شروع ہونے پر دیگر اشیا گرانے کی روایات ہیں۔
ریاست انڈیانا کے ونسینز علاقے میں لوگ اونچی جگہوں سے خربوزے گِرا کر نئے سال کا استقبال کرتے ہیں۔
اس سال کیونکہ کورونا وائرس کی پابندیاں لاگو ہیں، اس لیے کچھ عوامی مقامات پر یہ تقریبات منسوخ کر دی گئی ہیں اور کئی جگہوں پر انھیں محدود کر دیا گیا ہے تاکہ زیادہ لوگ ایک جگہ جمع نہ ہوں۔ لیکن کووڈ کے باوجود سال نو کا جشن منانے کے محفوظ طریقے بھی ہیں۔
انار پھوڑنا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یونان اور ترکی میں انار کو خوشحالی اور برکت کا ایک نشان تصور کیا جاتا ہے۔
اور روایتی طور پر بہت سے لوگ نئے سال کی آمد پر اپنے گھروں کے باہر انار پھوڑتے ہیں تاکہ آنے والے سال میں ان کے گھر خیر اور برکت نازل ہو۔
گھنٹیاں بجانا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کچھ ملکوں، مثلاً جاپان اور کوریا، میں نئے سال کی آمد پر گھنٹیاں بجانے کا رواج ہے۔
جاپان میں 108 مرتبہ گھنٹیاں بجائی جاتی ہیں تو یہاں آپ بہت شور سننے کے لیے تیار رہیں۔
برتن اور پلیٹیں توڑنا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگر آپ اپنے گھر کے دروازے سے باہر نکلیں اور آپ کو ٹوٹی ہوئی پلیٹ نظر آئے تو یہ خوش قسمتی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
ڈنمارک میں لوگ نصف شب کے بعد اپنے گھروں کے باہر یہ دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ اسے خوش قسمتی سمجھا جاتا ہے۔
اگر آپ کا تعلق ڈنمارک سے ہے تو آپ اپنے کسی عزیر کے گھر کے دروازے پر جا کر پلیٹ توڑ دیں تاکہ اگلے بارہ مہینوں میں ان کے ہاں خیر و برکت رہے۔
دالیں کھانا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برازیل میں نئے سال کے موقع پر دالیں کھانے کی روایت ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ دالوں کو پیسے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کا مطالب نئے سال میں آپ کو خوشیاں نصیب ہوں گی اگر آپ اس کی آمد پر دالیں کھائیں گے۔
بارہ انگور

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images
سپین میں جب رات کے بارہ بجتے ہیں تو لوگ انگور کھاتے نظر آتے ہیں۔ کیونکہ وہاں روایت ہے کہ نصف شب پر بارہ بجنے پر گھڑی کی ہر گھنٹی کے ساتھ ایک انگور کھایا جائے.
خیال یہ ہے کہ ایسا کرنے سے اگلے بارہ مہینوں میں آپ کو ہر ماہ خوشی نصیب ہوگی۔
ریچھ کی کھال پہننا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
رومانیا میں یہ روایت ہے کہ لوگ ریچھ کی کھال پہن کر ناچتے ہیں تاکہ آنے والے سال میں بدی کی قوتیں قریب نہ آئیں اور انھیں دور بھگایا جا سکے۔
رومانیا میں لوک داستانوں میں ریچھوں کو بدی سے دور رکھنے اور بیماریوں سے شفایاب کرنے میں اہم سمجھا جاتا ہے۔
خالی بکسے لے کر چلنا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لاطینی امریکہ کے کچھ ملکوں میں سال نو پر لوگ آپ کو خالی بیگ اٹھا کر جاتے دکھائی دیں گے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ’سوٹ کیس‘ کا مطلب ہے کہ آنے والا سال آپ کے لیے مہمات کا سال ثابت ہو۔
فرنیچر پھینکنا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ نیا سال غیر ضروری اور پرانی چیزوں کے بغیر شروع کیا جائے۔
کچھ لوگ تو اپنا پرانا فرنیچر کھڑکیوں سے باہر پھینک دیتے ہیں۔
مگر نئے سال کی تقریبات صرف یکم جنوری تک محدود نہیں، جیسا کہ ہم آگے پڑھیں گے۔۔۔
پیسوں کا تحفہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسے عام طور پر ’خوش قسمتی کے پیسے‘ کہا جاتا ہے جو نئے قمری سال پر بڑے اپنے خاندان کے بچوں اور نوجوان افراد میں تقسیم کرتے ہیں۔ یہ روایت چین، کوریا اور ویتنام سے تعلق رکھنے والے لوگ مناتے ہیں۔
ان تہذیبوں میں پیسے دینے کا طریقہ مختلف ہے۔ چین میں سرخ لفافوں میں پیسوں کا تحفہ دیا جاتا ہے۔ جبکہ کوریا میں سفید لفافے پر بچے کا نام بھی لکھا ہوتا ہے۔
پانی برسا کر

،تصویر کا ذریعہGetty/JEWEL SAMAD
بدھ مت کے نئے سال کے موقع پر تھائی لینڈ میں سونگ کران اور میانمار میں تھنگیان تہواروں کے دوران ایک دوسرے کو پانی میں بھگو دینا ان کی تقاریب کا حصہ ہے۔
تھائی لینڈ میں اکثر پانی کی بندوقیں استعمال کی جاتی ہیں اور یہ سیاحوں کے لیے بھی دلچسپی کا باعث بنتی ہیں۔ نوجوان افراد اپنے معمر رشتہ داروں سے ملتے ہیں اور ان کے ہاتھوں اور پیروں پر پانی گراتے ہیں جو احترام کی علامت ہے۔
میانمار میں سیلاب جیسی صورتحال ہوتی ہے جہاں لوگ ایک دوسرے پر پانی پھینک کر نئے سال کی خوشیاں مناتے ہیں۔
یہ سمجھا جاتا ہے کہ پانی گذشتہ سال کی برائی کو دور کر دے گا اور نیا سال پاکیزگی کے ساتھ شروع ہوگا۔
نایاب کھجوریں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مصر میں قبطی مسیحی افراد ستمبر میں نیا سال مناتے ہیں اور ان کی ایک روایت سرخ کھجوریں کھانا ہے۔
اس کھجور کا سُرخ رنگ خون کی علامت ہے اور اندر سفید رنگ کا مطلب پاکیزگی ہے۔ جبکہ اس کے بیجوں کو ایمان کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔
اپنے اندر جھانکنے کا موقع

،تصویر کا ذریعہNurPhoto
باقی دنیا شاید نئے سال کے موقع پر پارٹی کرنا چاہتی ہو مگر کچھ تہذیبوں میں یہ اپنے اندر جھانگنے کا ایک لمحہ سمجھا جاتا ہے۔
اسلامی کیلنڈر کے مطابق نئے سال، جو رواں سال جولائی میں ہوگا، کے دن کچھ مسلم اکثریتی ممالک میں تعطیل کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اس کا آغاز عبادت سے کیا جاتا ہے اور یہ ایک موقع ہوتا ہے جب مسلمان اپنے اعمال پر نظر ڈالتے ہیں۔ بعض مسلمان اپنے دوستوں اور خاندان کے ساتھ نئے سال کے پہلے 10 روز تک عبادت کرتے ہیں اور روزے رکھتے ہیں۔
انڈونیشیا کے جزیرے بالی پر بھی یہی روایت عام ہے۔ اس کے کیلنڈر کے پہلے روز کو ’خاموشی کا دن‘ کہا جاتا ہے جب پورا جزیرہ اپنی دنیاوی سرگرمیاں معطل کر دیتا ہے۔ اس موقع پر 24 گھنٹوں کے لیے بتیاں اور آوازیں بند کر دی جاتی ہیں اور پورا دن خاموش رہ کر گزارا جاتا ہے۔
مگر اس سے ایک دن قبل بالی کے لوگ ایک پریڈ میں حصہ لیتے ہیں جہاں انھوں نے بڑے مجسمے اٹھائے ہوتی ہیں۔ یہ بُری چیزوں کی علامت ہے جس نے دنیا و کائنات کو متاثر کیا ہے۔ لہذا انھیں جلا دیا جاتا ہے۔











