نوبیل انعام یافتہ ماریہ ریسا: ’انٹرنیٹ کمپنیاں تقسیم کا بیج بونے کے لیے اپنی ’خدائی طاقت‘ کا استعمال کرتی ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters
اس برس نوبل امن انعام پانے والی صحافی ماریہ ریسا نے امریکہ کی انٹرنیٹ کمپنیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھیں سوشل میڈیا پر ’زہریلے کیچڑ کا سیلاب‘ کہا ہے۔
ناروے میں نوبل انعام کی وصولی کے موقع پر اپنی تقریر میں صحافی ماریا ریسا نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے بڑے ناموں نے ’جھوٹ کے وائرس سے ہر ایک کو متاثر کرنے کی اجازت دی۔‘
فلپائن میں نیوز سائٹ ’ریپلر‘ کی شریک بانی ماریہ ریسا نے فیس بک جیسی سائٹس پر نفرت پھیلانے سے فائدہ اٹھانے کا الزام لگایا۔
فلپائن سے تعلق رکھنے والی 58 سال کی ماریہ ریسا ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ایک تقریب میں مہمانوں سے خطاب کر رہی تھیں۔
انھوں نے امریکی کمپنیوں پر ’حقائق اور صحافیوں کے خلاف متعصب‘ ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کمپنیاں تقسیم کے بیج بونے کے لیے اپنی ’خدائی طاقت‘ کا استعمال کرتی ہیں۔
ماریہ ریسا نے کہا کہ ’آج ہماری سب سے بڑی ضرورت نفرت اور تشدد کو تبدیل کرنا ہے، یہ زہریلا کیچڑ جو ہماری معلومات کے ایکو سسٹم سے گزر رہا ہے۔‘
واضح رہے کہ فیس بک کی صدر کمپنی ’میٹا‘ نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ لوگوں کو اپنی نیوز فیڈز میں نظر آنے والی پوسٹس پر زیادہ کنٹرول دینے کے لیے نئے فیچرز متعارف کروا رہی ہے۔
حالیہ برسوں میں سوشل نیٹ ورک کی سخت جانچ پڑتال کی جا رہی ہے تاکہ جانا جا سکے کہ اس کا الگورتھم کسی بھی مواد کو کیسے فروغ دیتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمعے کے روز ماریہ ریسا اوسلو کے سٹی ہال میں اپنے شریک انعام یافتہ ڈمٹری موراتوف کے ساتھ نوبیل انعام وصول کر رہی تھیں۔
ماریہ ریسا اور ڈمٹری موراتوف کو فلپائن اور روس میں آزادی اظہار رائے کا بہادری سے دفاع کرنے والے پر نوبیل انعام سے نوازا گیا ہے۔ ڈمٹری موراتوف روس کے اخبار نووایا گزیٹہ کے ایڈیٹر ہیں۔

60 سال کے ڈمٹری موراتوف نے تقریب میں شریک مہمانوں پر زور دیا کہ وہ دوران ڈیوٹی ہلاک ہونے والے صحافیوں کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کریں۔
ڈمٹری موراتوف نے کہا کہ روس میں یہ پیشہ ’ایک تاریک وقت‘ سے گزر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے کہا کہ روس کی وزارت انصاف نے حال ہی میں 100 سے زائد صحافیوں، میڈیا اداروں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور این جی اوز کو ’غیر ملکی ایجنٹ‘ قرار دیا ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ صحافی اپنی ملازمتیں کھو چکے ہیں، ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور معمول کی زندگی گزارنے کے مواقع سے محروم‘ ہیں۔
ڈمٹری موراتوف کئی دہائیوں سے روس میں آزادی اظہار کا دفاع کرتے رہے ہیں۔ اگست میں جب نوبیل انعام کے لیے ان کے نام کا اعلان کیا گیا تو کریملن نے انھیں مبارکباد دی جبکہ ترجمان دمتری پیسکوف نے انھیں ’باصلاحیت‘ اور ’بہادر‘ قرار دیا۔
یاد رہے کہ یہ دونوں صحافی ان تحقیقات کے لیے جانے جاتے ہیں جنھوں نے حکمرانوں کو ناراض کیا اور اس کے نتیجے میں دونوں کو خطرات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔










