پیئرس ایرو: امریکہ کی سب سے مہنگی کار جسے خصوصی طور پر ایران کے شاہ رضا پہلوی کے لیے ہاتھ سے تیار کیا گیا

کار

،تصویر کا ذریعہPIERCE-ARROW SOCIETY

آج سے 91 برس قبل اپریل سنہ 1930 میں نیویارک کے لوگ گاڑیاں بنانے والی کمپنی پیئرس ایرو کے شو روم میں ایک ایسی کار دیکھنے گئے جسے امریکہ میں بننے والی سب سے مہنگی کار کہا جا رہا تھا۔

دیکھنے والوں کو جو چیز زیادہ حیران کر رہی تھی وہ یہ کہ اُس سفید کار پر سونے کی پرت چڑھائی گئی تھی۔

کار کی دونوں جانب زیورات سے سجے تاج دیکھے جا سکتے تھے۔

شوروم میں اس کار کی نمائش ایک ہفتے تک جاری رہی جس کے بعد اسے ایک بحری جہاز کے ذریعے تہران روانہ کر دیا گیا تاکہ ایران کے بادشاہ رضا شاہ اس کو اپنے زیر استعمال لا سکیں۔

یہ کار آج ایران میں تاریخی کاروں کے میوزیم میں 60 دیگر قیمتی کاروں کے ساتھ نمائش کے لیے پیش کی گئی ہے لیکن اس کا رنگ اب بدل چکا ہے۔

پیئرس ایرو امریکہ کی ’رولز روئس‘

دوسری عالمی جنگ سے چند برس قبل تک پیئرس ایرو کو امریکہ کی ’رولز روئس‘ کہا جاتا تھا۔

سنہ 1909 سے 1936 کے درمیان تمام امریکی صدور نے اس کمپنی کی گاڑیوں میں سفر کیا۔ سعودی عرب کے بادشاہ عبدالعزیز آل سعود پیئرس ایرو کی کاروں کے ایک ممتاز خریدار تھے۔

امریکہ میں پیئرس ایرو لورز ایسوسی ایشن کے ایک عہدیدار کے مطابق اس زمانے میں جب پیئرس ایرو کی لگژری گاڑیوں کی اوسط قیمت تقریباً 25 ہزار ڈالر تھی، ’رضا شاہ پہلوی اس کمپنی کی تیار کردہ کار کے سب سے مہنگے خریدار ہیں۔‘

ایسوسی ایشن کے ایک رکن کرٹس پاؤل کے مطابق سنہ 1930 میں رضا شاہ پہلوی کی فرمائش پر بنائی گئی ایک کار کی قیمت 30 ہزار ڈالر تھی جو آج تقریباً چار لاکھ 90 ہزار ڈالر بنتی ہے۔

کار

،تصویر کا ذریعہPIERCE-ARROW SOCIETY

’مختلف‘ کار

نیویارک ٹائمز کے مطابق رضا شاہ کو ایک سرکاری تقریب میں استعمال کرنے کے لیے ایک ’مختلف‘ کار کی تلاش تھی۔

ایران کی شاہی عدالت تہران میں پیئرس ایرو کے نمائندے کے پاس اس گاڑی کا آرڈر دینے گئی۔

کرٹس پاؤل کہتے ہیں کہ ’سنہ 1938 میں کمپنی کی تحلیل کے بعد اس نے رضا شاہ پہلوی کی کار اور اپنی دیگر مصنوعات کے متعلق زیادہ تر دستاویزات اور معلومات برباد کر دی تھیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ رضا شاہ کی گاڑی پیئرس ایرو ٹاؤن کا کسٹم ماڈل تھی جس میں آٹھ سلنڈر والے انجن تھے۔ اس کار کا انجن اس ماڈل کی دیگر اقسام سے زیادہ مختلف نہیں تھا لیکن اس کی باڈی مکمل طور پر ہاتھ سے تیار کی گئی تھی۔

پیئرس ایرو نے یہ کار بنانے کے لیے نیویارک میں برون اینڈ کمپنی رابطہ کیا۔

اس زمانے میں ہرمنز مشہور شخصیات کی لگژری گاڑیاں تیار کرنے کے لیے جانے جاتے تھے اور انھوں نے یونان اور رومانیہ کے بادشاہوں کے زیر استعمال کاریں بھی بنائی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

کار

،تصویر کا ذریعہTASNIM

مسٹر پاؤل کے مطابق بچ جانے والے دستاویزات میں اس کار کی جن خصوصیات کا ذکر کیا گیا، وہ درج ذیل ہیں:

  • تانبے کی تمام فٹنگز مثلاً ہینڈلز، کھڑکیوں کے فریمز، لائٹس کے فریمز اور بمپر پر سونے کا پانی
  • سیٹوں پر اعلیٰ معیار کے شیمپین وائٹ رنگ کا ریشم
  • اعلیٰ معیار کی روسی اون کا فرش

اس گاڑی کی دونوں جانب سبز موتی کے ساتھ دو پہلوی تاج رکھے گئے تھے اور اس کی نشستوں پر پہلوی بادشاہت کا نشان کندہ کیا گیا تھا۔ گاڑی کی ہیڈ لائٹس کے اوپر دو مزید سنہری تاج لگائے گئے تھے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق کار کے چیسز کو مکمل طور پر سونے سے بنایا گیا تھا اور اس پر کچھ ہیرے بھی جڑے گئے تھے۔

تہران میں رنگ بدل گیا

میوزیم میں کھڑی رضا شاہ کی اس کار کا رنگ آج مختلف دکھائی دیتا ہے۔

مسٹر پاؤل کے مطابق اس کار کو تہران منتقل کرنے کے بعد دوبارہ پینٹ کیا گیا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ رضا شاہ نے اس کا رنگ سفید سے گہرے لال رنگ میں تبدیل کرنے کو ترجیح دی کیونکہ اس وقت کی دستیاب تمام تصاویر میں یہ کار سرخ رنگ میں نظر آتی ہے۔

کرٹس پاؤل اس کار کی ظاہری شکل میں ایک اور تبدیلی کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔

کار

کرٹس پاؤل کے مطابق امریکہ میں رضا شاہ کی گاڑی کی تصاویر میں گاڑی کے پیڈل پر اضافی ٹائر نظر نہیں آتا جبکہ تہران میں اس گاڑی کی تصاویر میں اضافی ٹائر دیکھا جا سکتا ہے۔

مسٹر پاؤل کہتے ہیں کہ ایران کی عدالت نے رضا شاہ کی تقریب کے لیے خریدی گئی اس کار سے پہلے پیئرس ایرو سے ایک اور کار بھی خریدی تھی۔ ان کا خیال ہے کہ بعد میں کسی وجہ سے اس کار کے پیڈل کو اس کار میں نصب کیا گیا۔

اس کار کی تہران منتقلی کے 11 سال بعد رضا شاہ ایران پر اتحادیوں کے حملے کے بعد بادشاہت سے مستعفیٰ ہو گئے لیکن اس کار کا مشن ختم نہیں ہوا اور اُن کے بیٹے محمد رضا شاہ نے اپنے دور حکومت کے ابتدائی برسوں میں اس کار کو استعمال کیا۔

یہ کار ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد کے برسوں میں پسماندہ افراد کی فاؤنڈیشن کو عطیہ بھی کی گئی تھی۔

اس کار کے ساتھ ساتھ پہلوی دور کی چند دیگر تاریخی کاریں بھی کئی مواقع پر نمائش کے لیے پیش کی جا چکی ہیں۔