علی بابا: ریپ کے الزامات کے بعد چینی کمپنیوں میں جبراً شراب نوشی کے رواج پر تنقید

مشہور چینی ٹیک کمپنی علی بابا کے اہلکاروں پر لگنے والے ریپ کے الزامات کے بعد چینی سوشل میڈیا پر ایک ہلچل مچی ہوئی ہے اور ملازمین کو آفس کی پارٹیوں میں شراب پینے پر مجبور کرنے کے 'زہریلے' کلچر کے بارے میں سوال اٹھائے جا رہا ہے۔

تاہم جہاں چین کے کاروباری طبقوں کے کرتوت سے پردہ اٹھ رہا ہے اور ایسی چیزیں منظر عام پر آ رہی ہیں وہیں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے میں شراب نوشی کی پرانی روایت ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتی ہے؟

مِنگسی (فرضی نام) کو تقریبا ہر دو ہفتے بعد دفتر کے ساتھیوں کے ساتھ مل کر بیٹھنا ہوتا تھا جس میں شراب پی جاتی تھی۔

یہ نزدیک کے کسی شراب خانے میں صرف چند گلاس پینے کی بات نہیں تھی بلکہ یہ کافی طویل بیٹھک ہوتی تھی جس کے دوران اکثر کمپنی کے گاہکوں کے ساتھ مسکرا کر باتیں کرنا اور ان کے ساتھ بیٹھ کر شراب پینا شامل ہوتا تھا اور مِنگسی اس سے بہت گھبرایا کرتی تھی۔

گوانگ ژو میں مقیم 26 سالہ پبلک ریلیشن کنسلٹنٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'مجھے ہمیشہ ڈر رہتا تھا کہ کہیں بات حد سے آگے نہ بڑھ جائے حالانکہ شراب کے معاملے میں، میں خود کو اچھی طرح سے کنٹرول کر لیتی ہوں۔ کبھی کبھی لوگ نامناسب جنسی لطیفے سنانے لگتے ہیں اور آپ کو زبردستی ان پر ہنسنا پڑتا ہے۔'

ان کے اس تجربے سے کئی نوجوان چینی ورکرز نے اتفاق کیا جن پر اس طرح کے کانفرنسز یا پارٹیوں میں شامل ہونے کا دباؤ ہوتا ہے ایک ایسے ملک میں جہاں بزنس ڈیلز حاصل کرنے یا اپنے اعلی افسران کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ذاتی تعلقات کو آگے بڑھانا بہت اہم ہے۔

ایک خاتون ملازم کے 11 صفحات پر مشتمل بیان کے مطابق کام سے متعلق ایک دورے کے دوران شراب پینے کے بعد بے ہوشی کی حالت میں ان کا ریپ کیا گیا۔ یہ رپورٹ گذشتہ ماہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ویبو‘ پر وائرل ہو گئی تھی۔

لڑکی نے اپنے اعلیٰ افسران پر کاروباری ڈنر میں ضرورت سے زیادہ شراب پینے کا حکم دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ بعد میں اپنے ہوٹل کے کمرے میں بیدار ہوئیں تو وہ بلکل برہنہ تھیں اور گذشتہ شام کے واقعات کے بارے میں انھیں کچھ یاد نہیں تھا۔

سکیورٹی فوٹیج حاصل کرنے کے بعد انھوں نے بتایا کہ ان کے مینیجر رات میں چار مرتبہ ان کے کمرے میں آئے تھے۔

علی بابا نے اس مینیجر کو برخاست کر دیا ہے اور کہا ہے کہ 'اسے دوبارہ کبھی ملازمت نہیں دی جائے گی۔'

لیکن اس کے بعد چینی پراسیکیوٹرز نے یہ کیس بند کر دیا۔ وکلا کا کہنا ہے کہ اس شخص کی طرف سے کی جانے والی 'جبری بے حیائی' جرم نہیں ہے اور پولیس نے کہا کہ وہ 'سزا کے طور پر' 15 دن تک حراست میں رہے گا، لیکن تفتیش بند کر دی گئی ہے۔'

تاہم یہ معاملہ اب بھی سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ یہ صرف ایک لڑکی کے ساتھ ریپ کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ پورے کارپوریٹ سیکٹر میں آفس کی پارٹیوں اور کانفرنسز یا مینٹنگز میں شراب پینے کی روایات بھی زیر بحث ہیں۔

ویبو پر ہیش ٹیگ 'کام کی جگہ پینے کی روایت کو کیسے دیکھیں' 110 ملین سے زیادہ بار دیکھا گیا ہے لوگوں نے دفتر کی پارٹیوں میں شراب پینے کے حوالے سے ڈالے گئے دباؤ کے بارے میں اپنے اپنے تجربات شیئر کیے ہیں۔

'انکار بے عزتی کے مترادف سمجھا جاتا ہے'

چین کے 'بزنس ڈرِنکِنگ' کلچر اور اس کے مشرقی ایشیائی پڑوسیوں کی روایات میں مماثلت پائی جاتی ہے اور جاپان اور جنوبی کوریا میں بھی پارٹیوں کو کام کے لیے تعلقات بنانے کے لیے اہم تصور کیا جاتا ہے۔

چین میں شراب عام طور پر پرشکوہ ضیافتوں میں استعمال ہوتی ہیں اور چینی شراب بائیجو جس میں 60 فیصد تک الکوحل ہوتا ہے ایسے موقعوں پر ایک پسندیدہ مشروب ہے۔

نوجوان ملازمین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ شراب سے ٹوسٹ کرتے ہوئے اعلی افسران کا احترام کریں گے اور کوئی بھی بزنس مین جو اپنے گاہکوں کو متاثر کرنا چاہتا ہے وہ اکثر ایسا ہی کرتا ہے۔

ٹیک تجزیہ کار روئی ما نے پورے چین میں متعدد کاروباری ڈنر میں شرکت کی ہے۔ وہ کہتی ہیں 'عام طور پر آپ بہت ہی تعریفی الفاظ کہتے ہیں اور اس تعلق کے لیے تشکر اور تعریف کا اظہار کرتے ہیں۔ ظاہر ہے آپ جتنے زیادہ ٹوسٹ کرتے ہیں اتنی ہی زیادہ شراب پیتے ہیں۔'

بعض اوقات سینیئر مینیجر اپنے نئے ملازمین پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ وہ ان کے حصے کی شراب بھی پیئیں اور اپنے جونیئرز کو بیمار اور پریشان چھوڑ دیتے ہیں۔

روئی ما کا کہنا ہے 'چین میں درجہ بندی کے شدید احساس کی وجہ سے اپنے اعلی افسران کو نہ کرنا مشکل ہے۔'

یہی وجہ ہے کہ ملازمین کے لیے اکثر ڈنر کی کسی بھی دعوت سے انکار کرنا مشکل ہوتا ہے۔

تجزیہ کار ہانیو لیو بتاتے ہیں کہ 'اس طرح کی دعوت سے انکار کو بے عزتی کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور کوئی بھی ملازم جو اپنے کیریئر کو آگے بڑھانا چاہتا ہے اس سے انکار نہیں کر سکتا۔'

یہ بھی پڑھیے

مِنگسی کا کہنا تھا کہ اگر وہ کبھی اس طرح کی محفلوں میں شرکت سے انکار کرتی ہیں تو انھیں آفس میں سائیڈ لائن ہونے کی فکر دامن گیر رہتی ہے۔ انھوں نے کہا: 'یہ ڈنر بہت اہم ہیں کہ کچھ لوگ انھیں ایگزیکٹوز کی خوشنودی حاصل کرنے کے موقع کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سب لوگ ایسے نہیں ہوتے۔'

سنہ 2016 میں سرکاری افسران نے سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سرکاری فرائض کے دوران شراب پر بابندی لگادی تھی۔ لیکن یہ روایت کئی نجی کمپنیوں میں جاری ہے- خاص طور پر جب بڑے ایگزیکٹو انچارج ہوں - اور اس طرح کے کئی واقعات سرخیوں میں رہے۔

پچھلے سال جنوری میں شینزن میں ایک سکیورٹی گارڈ مبینہ طور پر کام کے بعد رات کے کھانے کے دوران اپنے اعلی افسر کی جانب سے شراب نوشی کے مقابلے میں شرکت کے لیے دباؤ ڈالنے کے بعد مر گیا تھا۔

اسی تقریب میں اس کے ساتھی کو بھی ضرورت سے زیادہ پینے پر مجبور کیا گیا، بعد میں اسے ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سکیورٹی کمپنی نے اس کے طبی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے 5،000 ین ادا کیے جبکہ اس پارٹی میں شامل افسر نے کام چھوڑ دیا۔

اس کے بعد پچھلے سال اگست میں بیجنگ میں ایک نوجوان بینک ورکر نے کہا کہ ایک ضیافت میں شراب پینے سے انکار کے بعد اس پر انھیں برا بھلا کہا گیا اور ایک سینیئر سٹاف ممبر نے ان کے منہ پر طماچہ رسید کیا۔

ایک آن لائن چیٹ گروپ میں اس کے بارے میں لکھنے کے بعد یہ واقعہ سامنے آیا۔

اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسی تقریب میں انھوں نے اپنے ساتھیوں کو قے کرتے ہوئے دیکھا اور اعلی افسران خاتون ملازمین کے نزدیک آنے کی کوشش کرتے دکھائی دیے'۔

انھوں نے مزید لکھا: 'میں انسانی وسائل کے محکمے سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر میں شراب نہیں پیتا تو ملازمت حاصل کرنے کے میعار پر پورا نہیں اترتا'۔

جواب میں بینک نے تصدیق کی کہ ایک سینیئر ملازم نے حد سے باہر جا کر یہ برتاؤ کیا اور اس کی طرف سے معافی مانگی۔ بینک نے مزید کہا کہ اسے انتباہ جاری کیا گیا ہے اور اس کی تنخواہ بند کردی ہے۔

دریں اثنا، رواں سال کے آوائل میں مشہور شخصیت کِرسوو کے حوالے سے ریپ کے الزامات میں بھی نوجوان لڑکیوں کو ملازت دلوانے سے متعلق ایک پارٹی کے دوران زبردستی شراب پلانے کے دعوے کیے گئے تھے۔ مسٹر کرسوو نے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔

’قابلِ نفرت' روایت کا خاتمہ

ان حالیہ واقعات پر بڑے پیمانے پر غم و غصے کو دیکھتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ کاروباری ضیافتوں میں زبردستی شراپ پینے کی روایت جلدی ہی ختم ہو سکتی ہے۔

ڈیکسیو کنسلٹنگ کے مسٹر لیو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئہ کہا کہ 'کاروباری شراب نوشی کافی عرصے سے ہو رہی ہے لیکن علی بابا کیس نے زبردست عوامی ردعمل پیدا کیا ہے۔

'چینی انٹرنیٹ پر بہت زیادہ جڑے ہوئے ہیں اور آن لائن لوگوں کی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے کمپنیوں کا کاروبار بہت جلدی تباہ ہو سکتا ہے یا انکی مقبولیت میں کمی آسکتی ہے'۔

ریاست کی جانب سے ملک کی سب سے بڑی فرموں سمیت کئی صنعتوں کے خلاف جاری وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن کے دوران کمپنیاں ایسیا کچھ بھی کرنے میں زیادہ محتاط رہیں گی جس سے حکومتی کارروائی کا خطرہ ہو۔

مسٹر لیو نے کہا 'چین کی کارپوریٹ اور سیاست کے مابین حالیہ واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی بھت کمپنی اس طرح کی توجہ کا مرکز نہیں بننا چاہے گی'۔

علی بابا کیس کے بعد سی ای او ڈینیل ژانگ نے ملازمین کو یقین دلایا کہ فرم 'جبری پینے کے کلچر کی سخت مخالف ہے'۔

کچھ ہی دیر بعد چین کے اینٹی کرپشن واچ ڈاگ نے اس روایت کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ایک آن لائن تبصرہ میں مزید کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے چینی کمپنیوں کی نگرانی کو بہتر کیا جائے گا۔

مسٹر لیو نے کہا ، 'چین میں کام کے بعد پینے کا کلچر ضرور بدل جائے گا۔'