آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اسرائیل: سرنگ کھود کر فرار ہونے والے چھ فلسطینی قیدیوں میں سے چار پکڑے گئے
اسرائیل کی پولیس نے سخت سکیورٹی والی گلبوا جیل سے سرنگ کھود کر فرار ہونے والے چھ فلسطینی قیدیوں میں سے چار کو پکڑ لیا ہے۔
پولیس کے مطابق سنیچر کو دو قیدیوں کو ایک کار پارکنگ سے گرفتار کیا گیا جبکہ جمعے کو دو قیدیوں کو الناصرہ شہر سے حراست میں لیا گیا۔
ان قیدیوں کے جیل سے فرار نے اسرائیل اور فلسطین میں ہلچل مچا رکھی ہے اور حکومتی عہدیداروں کو اسرائیلی میڈیا میں شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
خیال رہے کہ ان افراد نے کئی مہینے اپنے سیل میں ایک سرنگ کھودی جس کا دوسرا سرا گلبوا جیل کی دیوار کے دوسری طرف سڑک پر نکلتا ہے۔
گلبوا جیل شمالی اسرائیل کی ایک اعلیٰ سیکیورٹی کی جیل ہے اور جسے محفوظ ہونے کی وجہ سے ’سیف‘ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کو قیدیوں کے فرار کے بارے میں اس وقت پتا چلا جب مقامی کسانوں نے انھیں بتایا کہ قریبی کھیتوں میں کچھ مشکوک افراد بھاگتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔
جب جیل کے عملے نے مقامی وقت کے مطابق 04:00 بجے قیدیوں کو گنا تو انھیں پتا چلا کہ چھ قیدی کم ہیں۔
خیال رہے کہ فلسطینی قیدیوں نے اپنے غسل خانے کے فرش میں سوراخ کر کے وہاں سے باہر نکلنے کا راستہ بنایا تھا۔ سرنگ کا دوسرا سرا بظاہر جیل کے باہر سڑکے کے پاس نکلتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حکام غسل خانے کے سنک کے نیچے ایک چھوٹے سوراخ کا معائنہ کر رہے ہیں جبکہ دوسرا سوراخ جیل کی دیواروں کے ساتھ والی کچی سڑک کے وسط میں ہے۔
اسرائیلی جیلوں کی سروس کے ایک اہلکار نے فرار کو سکیورٹی اور انٹیلیجنس کی ایک بڑی ناکامی جبکہ فلسطینی عسکریت پسند گروہوں نے اسے ’بہادرانہ‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیے
یروشلم پوسٹ کے مطابق قیدیوں نے کھودنے کے لیے زنگ آلود چمچ استعمال کیا تھا جسے انھوں نے ایک پوسٹر کے پیچھے چھپا رکھا تھا۔
دریں اثنا شِن بیٹ سکیورٹی سروس نے کہا کہ اسے یقین ہے کہ قیدیوں کا رابطہ جیل سے باہر افراد سے تھا جن سے وہ سمگل شدہ موبائل فون کے ذریعے بات کرتے تھے اور انھیں کسی کار میں ہی یہاں سے لے جایا گیا۔
چھ مفرور قیدیوں میں غربِ اردن کے شہر جنین میں فلسطینی عسکریت پسند گروپ الاقصیٰ مارٹیئرز بریگیڈ کے سابق کمانڈر زکریا زبیدی اور اسلامی جہاد کے پانچ دیگر ارکین بھی شامل ہیں۔
ٹائمز آف اسرائیل نے کہا کہ چھ میں سے پانچ قیدی اسرائیلی عوام پر خطرناک حملوں کے سلسلے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے جبکہ زبیدی پر اقدامِ قتل سمیت مختلف جرائم کے دو درجن مقدمات ہیں۔
اسرائیلی بارڈر پولیس اور فوج کے دستوں نے مبینہ طور پر مقبوضہ غربِ اردن تک پہنچنے والے افراد کو روکنے کے لیے سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کیں، جو گلبوا جیل سے 14 کلومیٹر مشرق میں ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے پبلک سکورٹی کے وزیر عمر بار لیف سے بات کی اور زور دیا کہ یہ ایک سنگین واقعہ ہے اور مفرور افراد کو تلاش کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز کو بھرپور کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔
اسلامی جہاد نے جیل سے فرار کو ایک ’بہادرانہ‘ اقدام قرار دیا اور کہا کہ اس سے ’اسرائیلی دفاعی نظام کو دھچکا لگے گا۔‘
حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے کہا تھا کہ یہ ایک ’عظیم فتح‘ ہے جو ثابت کرتی ہے کہ ’دشمن کی جیلوں کے اندر ہمارے بہادر سپاہیوں کے عزم اور ارادوں کو شکست نہیں دی جا سکتی۔‘