آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
چین کی جانب سے جوہری اسلحے کے ذخائر میں اضافے پر امریکہ کو لاحق خدشات
امریکی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چین کے مغربی حصے میں جوہری میزائلز کے 'سائلو فیلڈز' یا زیر زمین ٹھکانوں کا ایک جال بنا رہا ہے۔
امریکی سائنسدانوں کی ایک تنظیم فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹس (ایف اے ایس) نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ سنکیانگ صوبے کی سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس علاقے میں 110 سے زیادہ 'سائلوز' تعمیر کیے جا رہے ہیں۔
امریکہ کے دفاعی حکام نے چین کے جوہری ہتھیاروں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
گذشتہ دو ہفتوں کے دوران چین کے مغربی حصہ میں یہ دوسری 'سائلو فیلڈ' ہے جس کی تعمیر کے بارے میں خبر آئی ہے۔
امریکہ کے اخبار واشنگٹن پوسٹ نے گذشتہ57995185 ماہ خبر دی تھی کہ گانسو صوبے میں یومین کے صحرا میں جوہری میزائل داغنے کے 120 کے قریب زیر زمین ٹھکانے بنائے گئے ہیں۔
ایف اے ایس نے پیر کو اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یومین سے شمال مغرب میں تقریباً 380 کلو میٹر دور ہامی کے علاقے میں اس کی طرح تعمیرات ابتدائی مراحل میں ہیں۔
سنہ 2020 میں پینٹاگون نے کہا تھا کہ چین اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کی تعداد میں اضافہ کر رہا ہے۔
یہ خبر ایک ایسے موقعے پر سامنے آئی ہے جب امریکہ اور روس تخفیفِ اسلحہ کے مذاکرات کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ کی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین اور روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی رئبکوف کے درمیان مذاکرات کو دونوں ملکوں کے درمیان تخفیف اسلحہ کے تعطل کا شکار مذاکرات کی بحالی کی جانب ایک قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تاہم چین تاحال کسی بین الاقوامی سطح پر مذاکرات کے کسی ایسے سلسلے کا حصہ نہیں بنا ہے۔
امریکہ کی سٹریٹجک کمانڈ جو امریکہ کے ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ کا حصہ ہے اور جو اس بات کا بھی ذمہ دار ہے کہ 'سٹریٹجک ڈیٹرنس' قائم رکھے، نے اپنی ایک ٹویٹ میں چین کی جوہری تیاریوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اس ٹویٹ میں امریکہ کی دفاعی کمانڈ کا کہنا تھا کہ 'دو ماہ میں ایسا دوسری مرتبہ ہوا ہے کہ لوگوں کے علم میں یہ آیا ہو جو ہم ایک عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ دنیا کے لیے خطرہ بڑھ رہا ہے اور جس طرح اس کو خفیہ رکھا جا رہا ہے۔'
سنکیانگ میں جو سائلو فیلڈ بنائی گئی ہے اس کی تصاویر ایک کمرشل سیٹلائٹ سے حاصل کی گئیں لیکن اس کی زیادہ طاقتور اور صاف تصاویر سیٹلائٹ سے زمین کے عکس لینے والی کمپنی پلینٹ لیبز نے بعد میں فراہم کیں۔
امریکی وزارتِ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ چین کے پاس دو سو کے قریب جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ ہے اور وہ اس کو دگنا کرنا چاہتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پاس کم از 3800 جوہری ہتھیار موجود ہیں۔