آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی کے جبل علی بندرگاہ پر کنٹینر جہاز میں دھماکہ
متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ایک بندرگاہ پر کنیٹر جہاز میں دھماکہ ہوا جس سے علاقے کی عمارتوں میں جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ مگر تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فائر ٹرک اور ایمرجنسی سروسز کی گاڑیاں جنوبی دبئی کی جانب جاتے دیکھی گئی ہیں۔ یہ وہ سڑک ہے جو دبئی سے ابو ظہبی لے جاتی ہے۔
حکومت کے قائم کردہ دبئی میڈیا آفس کے مطابق یہ دھماکہ بندرگاہ جبل علی میں ایک کنٹینر جہاز پر ہوا جب اس نے ایک گودی میں لنگر انداز ہونے کی کوشش کی۔ یہ مشرق وسطیٰ میں شپنگ کے لیے سب سے بڑی بندرگاہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دھماکے سے لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور تاحال کسی ہلاکت یا زخمی شخص کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ اب تک اس دھماکے کی وجہ کا تعین نہیں کیا جاسکا۔
’15 سال میں ایسا پہلی بار دیکھا‘
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دھماکے کی آواز اتنی اونچی تھی کہ اسے دبئی میں متعدد شہریوں نے سنا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ان کے گھروں میں جھٹکے محسوس کیے گئے جبکہ کھڑکیاں اور دروازے لرز اُٹھے۔
اے ایف پی کے مطابق جہاز پر 130 کنٹینرز میں سے تین میں آتش گیر مادے تھے۔ جبکہ عملے میں 14 لوگ شامل تھے۔
جائے وقوعہ کے قریب رہائش پذیر کلیمنس لیفکس نے اے ایف پی کو بتایا کہ 'میں اپنی بالکونی پر تھا۔ میرے دوست نے سورج کی طرح چکمتی ہوئی ایک پیلی چیز دیکھی۔ میں نے اس کی تصویر لی جس کے بعد دھماکے کی آواز سنی۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دبئی کے ضلع مدینہ کے ایک رہائشی نے اے ایف پی کو بتایا کہ 'میں یہاں 15 سال سے رہائش پذیر ہوں اور میں نے پہلی بار ایسی چیز دیکھی اور سنی ہے۔'
یہ بھی پڑھیے
اس نوعیت کے واقعات متحدہ عرب امارات، خاص کر دبئی، میں کافی کم دیکھے گئے ہیں۔ ملک میں سات امارات ہیں جن میں سے ایک دبئی ہے۔
سنہ میں آمدن کے اعتبار سے جبل علی بندرگاہ دنیا بھر میں 10 سب سے بڑی بندرگاہوں میں سے ایک قرار دی گئی تھی۔ یہ مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا تجارتی زون ہے جہاں آٹھ ہزار سے زیادہ کمپنیاں قائم ہیں اور گذشتہ سال دبئی کی کل پیداوار میں اس کا 23 فیصد حصہ تھا۔
دبئی میں 30 لاکھ سے زیادہ افراد رہائش پذیر ہیں جن میں اکثریت غیر ملکیوں کی ہے۔ سنہ 1950 میں یہاں محض 15 ہزار لوگ رہتے تھے۔