پیراگرینا پرل: دنیا کا سب سے مشہور اور مہنگا موتی جو دولت اور طاقت کی علامت بنا

    • مصنف, میتھیو ولسن
    • عہدہ, بی بی سی کلچر

یہ سنہ 1969 کے موسم بہار کی بات ہے۔ لاس ویگاس میں ’سیزر پیلس‘ کی بلند ترین منزل کے اپارٹمنٹ میں افراتفری کا عالم تھا۔ معروف امریکی اداکارہ الزبتھ ٹیلر کا پسندیدہ زیور یعنی ایک انچ لمبا موتی اچانک غائب ہو چکا تھا۔ اس موتی کے لیے اداکارہ کے خاوند رچرڈ برٹن نے کافی زیادہ پیسے خرچ کیے تھے۔

غائب ہو جانے والا پیراگرینا پرل دنیا کی تاریخ میں سب سے مشہور موتی رہا ہے۔ اسے اس کے حجم، کمال کی شکل اور متاثر کن بنیاد کے لیے جانا جاتا ہے۔ الزبتھ ٹیلر سے قبل یہ موتی پورپ کے بااثر خاندانوں کی ملکیت تھا اور اسے معروف پینٹرز پیٹر پال روبنز اور ڈیاگو ویلازکوئز کی بنائی گئی تصاویر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

الزبتھ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اور ہاتھوں کی مدد سے فلیٹ کے قالین کے ہر انچ پر نظریں جمائے موتی کو تلاش کر رہی تھیں، لیکن اس تلاش و بسیار کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ پھر انھوں نے دیکھا کہ ان کا پالتو کتا کسی چیز کو چبا رہا ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب ’الزبتھ ٹیلر: مائی لوو افیئر ود جیولری‘ میں لکھا کہ ’میں نے ویسے ہی اپنے کتے کا منھ کھولا تو دیکھا کہ اس کے منھ میں دنیا کا سب سے کمال موتی موجود تھا۔‘

پیراگرینا پرل کی دلچسپ کہانی سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ انسانوں کی تہذیب میں خوبصورتی، طاقت اور دولت کی علامت کے طور پر موتیوں نے کتنا اہم کردار ادا کیا ہے۔ الزبتھ ٹیلر کی تصاویر میں اکثر قدرتی موتیوں سے ان کی لگن نمایاں ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سنہ 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں یہ موتی جڑے زیورات ظاہری چمک دمک اور شہرت کی نشانی بن گئے تھے جنھیں 20ویں صدی کی معروف شخصیات کوکو شانل، جیکی کینیڈی اور مارلن منرو نے پہنا۔

لیکن موتیوں کی ثقافتی اہمیت کی تاریخ اس سے بھی پرانی ہے۔

خیال ہے کہ پانچ ہزار سال قبل از مسیح کے دور میں بھی بحر ہند کے کئی ساحلی مقامات پر موتیوں کی تلاش کی جاتی تھی۔ اس جنون نے قدیم زمانے میں انڈیا، سری لنکا، خلیج فارس اور بحیرۂ احمر کے شہروں کے درمیان موتیوں کی تجارت کی سب سے پرانی راہداری قائم کی تھی۔ اس کی علامت یونانی محبت کی دیوی ’افرو‘ دیتی تھی جس کے بارے میں خیال تھا کہ اُن کا جنم سمندر میں ہوا تھا۔

روم کے فن پاروں میں انھیں اکثر ایک شیل (سیپی) سے ابھرتے ہوئے یا موتیوں جڑی بالیاں پہنے دیکھا جا سکتا ہے۔ پومپائی کی دیواروں پر ایسی پینٹنگز پہلی صدی عیسوی سے موجود ہیں۔ فن کی تاریخ میں بہت پہلے سے بے مثال خوبصورتی کو موتیوں سے جوڑا گیا ہے۔

رومن سلطنت میں لوگ موتیوں کا جنون رکھتے تھے۔ پہلی صدی قبل از مسیح کے مصنف پلینی دی ایلڈر نے بتایا کہ ’سب سے قیمتی چیزوں کی مالیت کا تعین موتیوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔‘

رومن سلطنت کا حصہ رہنے والے مصر کے ساحلی شہر فیوم سے کچھ غیر معمولی پینٹنگز ملی ہیں جو تدفین سے متعلق ہیں۔ ان میں لوگوں کا موتیوں کے ہار اور بالیوں سے لگاؤ دیکھا جا سکتا ہے۔

سويتونيوس کے مطابق پہلی صدی عیسوی میں اصل موتی اتنے مہنگے تھے کہ ایک رومن جنرل نے اپنی ماں کے کچھ موتی بیچ کر فوجی کارروائی کے لیے رقم جمع کی تھی۔

انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ برطانیہ کی رومن مداخلت ملک کے دریاؤں میں موتی تلاش کرنے کے وعدے سے متاثر ہوئی۔

مقدس نشانی

حتیٰ کہ مذاہب کو بھی موتیوں نے ہی اپنی شکل دی۔

سینٹ میتھیو کی انجیل میں ’دی پیرابل آف دی پرل‘ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رومن دنیا میں موتیوں کے تاجر تھے۔ حضرت عیسیٰ نے موتیوں کا موازنہ جنت سے کیا۔ اس میں لکھا ہے کہ ’جنگ کی سلطنت ایسے ہے جیسے ایک تاجر باریکی سے بہترین موتی تلاش کر رہا ہو۔ جب یہ ایک قیمتی موتی ڈھونڈ لیتا ہے تو پھر واپس جا کر اپنی تمام چیزیں فروخت کر اسے خرید لیتا ہے۔‘

ابتدائی طور پر مسیحی مصنف افرام السريانی، اوریجن اور کلیمینس سکندری نے کھلے عام ایسے لوگوں پر تنقید کی جو انھیں زیورات کے مانند چیز سمجھتے تھے اور اصل اہمیت کو سمجھ نہیں پاتے تھے۔

قرون وسطی کے اواخر اور نشاۃ ثانیہ میں حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم کی پاکیزگی کو نمایاں کرنے کے لیے فن پاروں پر ان کی آرائش منفرد صلیبوں سے کی جاتی جن پر موتی لگے ہوتے تھے۔

جب 16ویں صدی کے آغاز میں خلیج پاناما میں پیراگرینا پرل کو پہلی بار دریافت کیا گیا تو اس وقت موتیوں کو دولت، خوبصورتی اور روحانی پاکیزگی سے تشبیہ دی جاتی تھی۔ یہ اس وقت اس کی سب سے بڑی مثال بن گیا تھا۔

اسے فوراً سپین کے بادشاہ فلپ دوئم کے پاس بھیج دیا گیا تھا جس سے نشاۃ ثانیہ کے علاقائی و سیاسی حالات کے بارے میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

سنہ 1400 کی دہائی کے اواخر میں کرسٹوفر کولمبس کی دریافتوں کے بعد نئی دنیا میں ہسپانوی فتوحات اور نوآبادیاتی علاقے بنانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ درحقیقت ان کی سب سے اہم دریافتوں میں سے ایک نئے علاقوں کے دلفریب موتی تھے۔

رومن سلطنت کی برطانوی مداخلت کی طرح سپین کے لیے امریکہ موتیوں کا خزانہ تھا جس کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں نوآبادیاتی دور رائج ہوا۔ اس لیے جب آپ رومن تصاویر میں انھیں موتی پہنے دیکھتے ہیں یا ہسپانوی شاہی خاندان کی متعدد تصاویر میں ان کے ساتھ ان کے پیراگرینا پرل کو دیکھتے ہیں تو اس سے صرف خوبصورتی یا پاکیزگی ظاہر نہیں ہوتی۔ یہ سامراجیت کی بھی نشانی ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ نوآبادیاتی علاقوں سے کس طرح دولت اور طاقت بڑھائی گئی۔

اس کی ایک مثال ہسپانوی ملکہ مارگریٹ آف آسٹریا (فلپ سوم کی اہلیہ) ہیں جن کی تصویر پینٹر لا کروز نے بنائی۔ اس میں انھوں نے پیراگرینا پرل کو ایک زیور کے طور پر پہنا ہوا ہے۔ ملکہ الزبتھ آف فرانس (فلپ چہارم کی اہلیہ) کی تصویر میں بھی ایسا ہی دیکھا جا سکتا ہے۔

پیراگرینا پرل کو ہسپانوی شاہی تاج کا زیور بنایا گیا اور اس علامت کو بھی آنے والی نسلوں نے بھی پہنا۔ اسے کئی بار ہسپانوی تاج کا سب سے قیمتی خزانہ قرار دیا گیا۔ سپین کے بادشاہ فلپ چہارم نے اپنی بیٹی کی شادی کے موقع پر یہ موتی اپنی ٹوپی میں پہن رکھا تھا۔

پیراگرینا پرل جیسے زیورات شاہی خاندان کی خواتین کی پُرآسائش زندگی کی نشانی تھے۔

ان تصاویر میں یہ خواتین رسمی اور کم متاثرکن انداز میں نظر آتی تھیں۔ یہ اس لیے تھا کیونکہ ہسپانوی عدالتوں میں کچھ اصول رائج تھے جیسے تصویر میں آنے والے افراد محدود انداز میں نظر آ سکتے ہیں اور وہ مسکراہٹ نہیں دکھا سکتے۔

کچھ موتیوں کو واپس اپنی پرانی جگہ بھیج دیا گیا تھا جیسے ’لا پیلاگرینا‘ جو حجم میں لا پیراگرینا جیسا ہے اور ابتدائی طور ہر ہسپانوی شاہی خاندان کی ملکیت تھا۔ ایسا ہی ایک موتی برطانیہ کی ملکہ اول میری کے پاس سنہ 1500 کے وسط میں تھا۔ اداکارہ الزبتھ ٹیلر اور رچرڈ برٹن کے خیال میں ان کے پاس ایک تصویر بھی تھی جس میں ان کی ایک تصویر میں انھیں لا پیراگرینا پہنے دیکھا جا سکتا ہے۔

آرٹ کی تاریخ میں سب سے مشہور موتی ورمیر کی سنہ 1665 میں بنائی گئی تصویر ’گرل ود اے پرل ایئررنگ‘ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ ممکن نہیں کہ غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے ورمیر کو اتنی دور سے بھی اس موتی تک رسائی ملی ہو۔ امکان ہے کہ یہ موتی تصوراتی تھا یا شیشے سے بنے ایک نقلی موتی کی تصویر بنائی گئی تھی۔

ورمیر اپنی بنائی گئی تصاویر میں موتیوں کو اکثر دکھایا کرتے تھے۔ اسے دولت اور سٹیٹس کی نشانی سمجھا جاتا تھا۔ تاہم بعض اوقات اس کا مذہبی حوالہ بھی ہوتا تھا۔ جیسے ایک تصویر ’ایلگوری آف دی کیتھولک فیتھ‘ میں دکھائے گئے موتی مقدس ایمان کی نشانی ہیں۔ وہ خود بھی کیتھولک تھے مگر اس وقت ملک میں پروٹسٹنٹ مسیحیوں کی اکثریت تھی۔

اصل لا پیراگرینا سنہ 1800 تک ہسپانوی شاہی خاندان کی ہی ملکیت رہا۔ سنہ 1808 میں نیپولین نے اپنے ملک میں مداخلت کی اور اپنے بھائی جوزف بونا پارٹ کو تخت پر بٹھا دیا۔ جب 1813 میں فرانسیسیوں کو سپین سے نکالا گیا تو جوزف یہ موتی اپنے ساتھ فرانس لے آئے اور اپنی سالی کو دے دیا۔ یہ ورثے میں نیپولین سوم کو ملا جو 1800 کے وسط میں فرانس کے حکمران بنے۔

نیپولن سوم نے اپنی دولت بڑھانے کے لیے اسے ایک برطانوی شہری جیمز ہلٹن، ڈیوک آف ایبرکورن‘ کو بیچ دیا۔ ان کی اہلیہ کے ساتھ بھی الزبتھ ٹیلر جیسے واقعات پیش آئے جس میں سماجی اجتماعات کے دوران یہ لاپتہ ہوئے۔

ایک بار اسے بکنگھم پیلس کے صوفے کے تکیوں میں سے ڈھونڈا گیا۔ یہ سنہ 1969 تک ان کی ملکیت میں رہا جس کے بعد رچرڈ برٹن نے اسے خرید لیا۔

الزبتھ ٹیلر نے اسے اپنے پالتو کتے کے منھ سے نکالا اور تب سے یہ ان کے قیمتی زیورات میں سے ایک رہا۔ پیراگرینا پرل کو ایک بار بھر پُرآسائش زندگی کی علامت کے طور پر دیکھا گیا جب الزبتھ ٹیلر کی تصاویر میں یہ ان کے گلے میں نظر آتا، خاص کر فلم این آف دی تھاؤزینڈ ڈیز (1969) میں۔

دسمبر 2011 میں الزبتھ ٹیلر کی وفات کے بعد اسے ایک نامعلوم خریدار کو 11.8 ملین ڈالر میں فروخت کر دیا گیا تھا۔

اوسطاً 10 ہزار میں سے صرف ایک اوئسٹر یا کستورا مچھلی میں سے ایک درمیانے حجم کا موتی نکلتا ہے۔ اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ پیراگرینا پرل جیسے کسی موتی کی تلاش مکمل کی جائے۔

اس کے نام کا مطلب ’گھومنے پھرنے والا مسافر‘ ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہ خلیج پاناما سے نکل کر دنیا کی تاریخ میں سب سے معروف شخصیات کے پاس رہا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وقت کے ساتھ لوگوں کے لیے موتی کتنی اہمیت حاصل کرتے رہے۔

موتی صرف ایک زیور نہیں۔ یہ ہمارے لیے سامراجی نظام، دولت، روحانی پاکیزگی اور خوبصورتی کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔