اٹلی کے ایک غار سے قدیم دور کے انسانوں ’نینڈیرتھل‘ کی باقیات برآمد

،تصویر کا ذریعہItalian culture ministry/AFP/Getty
اٹلی میں ماہرین آثار قدیمہ نے قدیم زمانے کے نو انسانوں کی باقیات تلاش کی ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ گوشت خور جانور نے ان کا انفرادی طور پر شکار کر کے انھیں اس غار لے آئے اور پھر ان کی باقیات یہیں پر چھوڑ دیں۔
ان قدیم دور کے انسان کو نینڈرتھل پکارا جاتا ہے جن کی باقیات روم کے جنوب مشرقی علاقے کی ایک قبل از تاریخ غار سے ملے ہیں۔
اٹلی کے ساحلی قصبے سان فیلس سیرسیو کے گوٹاری غار میں صدیوں پرانی دبی ہوئی ہڈیاں، جن میں کھوپڑی کے ٹکڑے اور ٹوٹے ہوئے جبڑے شامل ہیں، ملی ہیں۔ نینڈرتھل کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ قدیم دور کے وہ انسان تھے جن کی نسل 40،000 سال قبل ختم ہو گئی یعنی۔
تاہم ان کے ڈی این اے کے شواہد آج کے انسان میں بھی موجود ہیں۔
اٹلی کی وزارت ثقافت کا کہنا ہے کہ قدیم دور کے انسانوں میں سے آٹھ کی باقیات سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ 50،000 سے لے کر 68،000 سال قبل دور کے انسان تھے جبکہ ان میں سے ایک کا دور 90 ہزار سے لے کر ایک لاکھ سال قبل کا بنتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان نو انسانوں میں کون کون شامل ہے؟’
جن ماہرین آثار قدیمہ (آرکیالوجسٹس) نے ان قدیم دور کے انسانوں کی باقیات گوٹاری غار سے دریافت کی ہیں ان کے مطابق ان نو نینڈیرتھل میں سے سات بالغ مرد تھے، ایک خاتون اور ایک نوجوان لڑکا شامل ہیں۔ یہ غار روم کے جنوب مشرق میں 90 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔
تور ویرگاتا یونیورسٹی میں آرکائیالوجی کی پروفیسر ماریہ رولفو کا کہنا ہے کہ ان نینڈیرتھل میں سے اکثر گوشت خور جانوروں کا شکار بنے جو انھیں گھسیٹ کر اپنے غار میں لے آئے۔
گارڈین اخبار کے مطابق انھوں نے کہا ہے کہ نینڈرتھل ان جانوروں کا شکار بن گئے تھے۔ ان گوشت خور جانوروں (Hyenas) نے علیحدہ علیحدہ پہلے سے ہی خطرات سے دوچار ایسے انسانوں کا شکار کیا جو اس وقت بیمار تھے یا وہ معمر تھے۔

،تصویر کا ذریعہDE AGOSTINI PICTURE LIBRARY
اٹلی کے وزیر ثقافت ڈاریو فرانسسچینی نے اس دریافت کو انتہائی غیر معمولی دریافت قرار دیتے ہوئے کہا اب پوری دنیا اس دریافت پر بات کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ دریافت اب نینڈیرتھل پر تحقیقات کرنے میں مدد فراہم کرے گی۔
اتفاقیہ طور پر گوٹاری غار میں سنہ 1939 میں بھی کچھ باقیات ملی تھیں جو اس غار کو نینڈیرتھل انسانوں کی تاریخ میں بہت اہم جگہ بنا دیتی ہے۔ یہ غار قدیم دور میں زلزلے یا لینڈ سلائیڈ یعنی تودا گرنے سے ڈھک گئی تھی جس کی وجہ سے اس کے اندر باقیات اور آثار محفوظ رہ گئے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق جب 1939 میں اس غار سے کچھ باقیات ملی تھیں تو اس وقت یہ خیال کیا گیا کہ یہ قدیم دور کے انسان دراصل انسان خور تھے اور یہ انسانوں کا مغز نکال کر کھا جاتے تھے تاہم نئی دریافت سے یہ پتا چلتا ہے کہ حقیقت میں تو یہ خود مظلوم تھے جو جنگلی جانوروں کا شکار بن گئے تھے۔
خیال رہے کہ اس غار سے پتھر کے زمانے کے گوشت خور جانور (ہیناز)، ہاتھیوں اور رائنو سورسز سمیت متعدد اور جانوروں کی ہڈیاں بھی ملی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہWerner Forman/Getty Images
ماہرین کے مطابق یہ نئی دریافت اب اس بات کا پتا چلانے میں بھی مددگار ثابت ہو گی کہ قدیم دور کے یہ انسان کیا کھانا پسند کرتے تھے اور ان کے بارے میں اور کیا ایسے حقائق ہیں جو ابھی تک معلوم نہیں ہیں۔
اٹلی کی وزارت ثقافت میں چیف آرکیالوجسٹ ماؤرو روبینی نے نیویارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ اس غار کی تاریخ 1939 میں ختم نہیں ہو جاتی، ابھی اور بھی اس غار سے حقائق باہر آنے ہیں۔
ان کے مطابق انسانی کھوپڑی ایک ایسی آرکائیو ہے کہ جو ہمیں ان انسانوں کی عمر، جنس اور لمبائی کے علاوہ یہ بھی بتاتی ہے کہ یہ انسان کیا کھاتے تھے، ان کے جینوم کیا تھے، کیا انھیں کوئی بیماری تھی، وہ کتنا پیدل چلتے تھے اور کیا وہ شغل میلہ بھی لگاتے تھے جیسی معلومات میسر آتی ہیں۔









