لائیو, ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی
تہران میں رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای، ان کی بیٹی بشریٰ خامنہ ای، داماد مصباح الہدیٰ باقری، بہو زہرا حداد عادل اور کم سن نواسی زہرا محمدی کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔
خلاصہ
ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی
نماز جنازہ آیت اللہ جعفر سبحانی تبریزی نے پڑھائی
ہمارے درمیان اچھی ہم آہنگی ہے، نیتن یاہو جانتے ہیں کہ باس کون ہے: صدر ٹرمپ
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے سروس فیس وصول کی جائے گی: ایران
لائیو کوریج
ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ اور ان کے اہلِ خانہ کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی
،تصویر کا ذریعہIRIB
ایران کے خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق تہران میں سابق رہبرِ اعلیٰ
علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔ امریکہ اور
اسرائیل نے رواں سال کے آغاز میں حملہ کر کے انھیں ہلاک کر دیا تھا۔
تہران کے بڑے مذہبی اور ثقافتی مرکز
’امام خمینی مصلیٰ‘ میں نماز جنازہ
آیت اللہ جعفر سبحانی نے پڑھائی۔
ارنا کے مطابق نماز جنازہ تین مراحل میں ادا کی
گئیں۔ پہلے مرحلے میں رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای، دوسرے مرحلے میں ان کی بیٹی بشریٰ
خامنہ ای، داماد مصباح الہدیٰ باقری اور بہو زہرا حداد عادل کی نماز جنازہ اد کی گئی۔
تیسرے
مرحلے میں علی خامنہ ای کی کم سن نواسی زہرا محمدی کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔
بی بی سی فارسی کے مطابق نمازِ جنازہ کے بعد تقریب
کے منتظمین نے علی خامنہ ای کے خون کا بدلہ لینے اور انتقام کے نعرے لگوائے۔
امریکہ کی فوج جتنی طاقت ور آج ہے، پہلے کبھی نہ تھی، ایران کی فوج کو مٹا کر رکھ دیا: ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہAndrew Harnik/Getty Images
امریکہ کی آزادی کی 250 ویں سالگرہ
کے موقع پر اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے بیرونِ ملک امریکی کارروائیوں کا حوالہ دیا،
جس میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو پکڑنے اور ایران کے خلاف حملوں کا ذکر
تھا۔
انھوں نے کہا کہ ’امریکہ کی فوج جتنی
طاقت ور آج ہے، پہلے کبھی نہ تھی‘ اور ’ایران کی فوج کو مٹا کر رکھ دیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایسا کوئی چیلنج
نہیں جو امریکی پورا نہ کر سکیں، ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں ہم جا نہ سکیں، ایسا
کوئی ہدف نہیں جو ہم حاصل نہ کر سکیں۔‘
امریکی آزادی کی 250 ویں سالگرہ کے
موقع پر ٹرمپ کے خطاب میں ان کے روایتی موضوعات نمایاں رہے، جن میں امریکی
کاروباری اور معاشی صلاحیتوں کی تعریف، ’کمیونسٹوں‘ کی مذمت اور اپنے دورِ حکومت
کی کامیابیوں کا ذکر شامل تھا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ فوج اور پولیس
میں بھرتیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث اب ان شعبوں میں ملازمت
حاصل کرنا ’مشکل‘ ہو گیا ہے۔
ٹرمپ نے انتخابی اصلاحات سے متعلق سیو
امریکہ ایکٹ، پیدائشی شہریت کے حق کو ختم کرنے کی کوشش کرنے والے ایگزیکٹو آرڈر،
اور امریکی آئین کی دوسری ترمیم کے تحفظ کا ذکر کیا، جو شہریوں کو
ہتھیار رکھنے کا حق دیتی ہے۔
اپنے خطاب کے دوران ٹرمپ نے مختلف جنگوں
میں حصہ لینے والے سابق امریکی فوجیوں کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔ تقریباً 40 منٹ
کے خطاب کے اختتام پر ٹرمپ نے کہا کہ ’یہ تو امریکہ کے سنہری دور کی محض شروعات ہے۔‘
واشنگٹن میں امریکہ کی آزادی کی 250
ویں سالگرہ کی تقریبات طوفان اور گرج چمک کے باعث تاخیر کا شکار ہوئیں۔ خطاب کے
آغاز میں خراب موسم کے باعث پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے حاضرین
سے کہا: ’اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ آسان تھا تو
ایسا نہیں تھا۔‘
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انھیں یہ تقریب کسی اور روز منعقد کرنے کا مشورہ
دیا گیا، لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔
نیتن یاہو جانتے ہیں کہ باس کون ہے: ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہChip Somodevilla/Getty Images
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو
انٹرویو میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو
نے ان سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی درخواست کی ہے۔
ایگزیوس کے مطابق ایک مختصر ٹیلی فون
انٹرویو میں ٹرمپ نے اپنے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا: ’ہم ایک دوسرے کے ساتھ بہت
اچھے تعلقات رکھتے ہیں۔ نیتن یاہو جانتے ہیں کہ باس کون ہے۔‘
امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم
کی ملاقات ممکنہ طور پر اگلے ہی ہفتے ہو سکتی ہے، جب ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس سے
واپس لوٹیں گے۔
دونوں رہنماؤں کی آخری ملاقات فروری
میں وائٹ ہاؤس کے سچوئیشن روم میں ہوئی تھی، ایگزیوس کے مطابق اس ملاقات میں نیتن
یاہو نے ایران کے خلاف مشترکہ جنگ شروع کرنے کا اپنا منصوبہ پیش کیا تھا۔
اس کے بعد جون میں یہ خبریں سامنے
آئی تھیں کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان اختلافات پیدا ہو چکے ہیں جس کی وجہ
لبنان میں اسرائیل کی عسکری کارروائیاں ہیں۔ لبنان پر اسرائیلی حملوں کے بعد ایران
نے امریکہ سے بات چیت معطل کرنے کا عندیہ دیا تھا جس نے جنگ سے باہر نکلنے کے لیے
ٹرمپ کی کوششوں کو ممکنہ طور پر دھچکہ پہنچایا تھا۔
ایگزیوس نے ہی رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ
نے ایک ٹیلی فون کال میں اسرائیلی وزیر اعظم کو ’پاگل‘ قرار دیا تھا۔ بعد میں امریکی
اخبار نیو یارک پوسٹ کو انٹرویو میں ٹرمپ نے نیتن یاہو کے خلاف سخت الفاظ استعمال
کرنے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا: ’میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں غصے میں تھا، میں
ان کی لبنان سے مسلسل لڑائی کے سبب کچھ پریشان سا ہو گیا تھا۔‘
یہ بھی رپورٹ کیا جا رہا ہے کہ
امریکہ نے ایران سے جنگ بندی کی مفاہمتی یادداشت پر جو دستخط کیے، اس پر بھی نیتن
یاہو کو تحفظات تھے۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب
سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعے کے روز نیتن یاہو نے ٹرمپ کو امریکہ کے 250
ویں یوم آزادی پر مبارک باد دینے کے لیے فون کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا: ’گفتگو کے
دوران وزیر اعظم نے کہا کہ امریکہ عالمی آزادی کا ضامن ہے اور اسرائیل دونوں ممالک
کے درمیان قریبی تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ وزیر اعظم نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ
نے امریکہ میں ملاقات پر اتفاق کیا۔‘
ایگزیوس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ
کے ساتھ ملاقات نیتن یاہو کے لیے غیر معمولی اہمیت کی حامل ہو گی کیونکہ وہ
اسرائیل میں اکتوبر کے انتخابات کے لیے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کر رہے ہیں، جہاں
موجودہ سروے انھیں پیچھے دکھا رہے ہیں۔
ایگزیوس کے مطابق انٹرویو کے دوران ٹرمپ
نے بتایا کہ وہ ایران کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی پر نظر
رکھے ہوئے ہیں، جنھیں جنگ کے پہلے دن امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی میں
قتل کر دیا گیا تھا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی ’معاہدہ
کرنے کے لیے منتیں کر رہے ہیں‘ لیکن ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقوں نے فیصلہ کیا
ہے کہ خامنہ ای کی آخری رسومات سے متعلق تقریبات کے
اختتام تک مذاکرات میں ایک ہفتے کا وقفہ رکھا جائے۔ اس دوران، ان کے بقول، کوئی
بھی فریق دوسرے پر فائرنگ نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے کہا: ’وہ سب وہاں موجود ہیں۔
ایک حملہ [اور ہم ان سب کو ختم کر سکتے ہیں]، لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے کیونکہ
پھر ہمارے پاس مذاکرات کے لیے کوئی نہیں بچے گا۔‘
ٹرمپ
نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں لوگ خامنہ ای سے نفرت کرتے ہیں، اس لیے انھیں یہ
دیکھ کر حیرت ہوئی کہ بعض ایرانی آخری رسومات میں رو رہے تھے۔ ٹرمپ نے کہا: ’شاید
یہ مصنوعی آنسو ہوں۔‘
ہم آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے سروس فیس وصول کریں گے: ایران
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty images
چین میں ایران کے سفیر کا کہنا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے ’سروس فیس‘ وصول کرے گا، اس منصوبے کی امریکہ نے مخالفت کی ہے۔
عبدالرضا رحمانی فضلی نے بیجنگ میں ’ورلڈ پیس فورم‘ میں کہا کہ ایران، عمان کے تعاون سے اس اہم آبی گزرگاہ کے لیے ’نئے انتظامات‘ پر کام کر رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ایک ایسے ملک کے طور پر جس کے علاقائی پانیوں میں ہرمز شامل ہے، ہم یقینی طور پر سروس فیس وصول کریں گے۔‘ رحمانی فضلی نے زور دیا کہ یہ ’ٹرانزٹ فیس‘ نہیں شمار ہو گی۔
ان کے بقول، ان نئے انتظامات کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے کی حفاظت کو یقینی بنانا، جہازوں کی آمدورفت کی نگرانی کرنا اور جہازوں کی زیادہ مقدار کے ماحولیاتی نتائج سے نمٹنا ہے۔
ایرانی سفیر نے یہ بھی کہا کہ جو ممالک ’مشکل دنوں‘ میں ایران کے ساتھ کھڑے رہے ہیں ان کے ساتھ ’خصوصی سلوک‘ کیا جائے گا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے ابتدائی معاہدے کے مطابق تجارتی بحری جہاز 60 دن تک بغیر فیس ادا کیے آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ مدت ختم ہونے کے بعد کیا انتظامات کیے جائیں گے۔
آبنائے ہرمز عام طور پر دنیا کے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کے تقریباً پانچویں حصے کے لیے گزرگاہ ہے، لیکن مشرق وسطیٰ کی جنگ کے دوران ایران نے اس راستے کو مؤثر طریقے سے بند کر دیا، جس کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔
مراکش نے کینیڈا کو شکست دے کر فٹبال ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا
،تصویر کا ذریعہReuters
مردوں کے عالمی فٹ بال کپ میں مراکش نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے راؤنڈ آف 16 کے میچ میں کینیڈا کو 3-0 سے شکست دے کر کوارٹر فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے والی پہلی ٹیم بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔
اس شکست کے ساتھ ہی کینیڈا ٹورنامنٹ کے اس ایڈیشن سے باہر ہونے والا پہلا شریک میزبان ملک بن گیا۔
مراکش کی جانب سے ایزدین اوناحی نے عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے پہلے دو گول سکور کیے، جبکہ سفیان رحیمی نے انجری ٹائم کے آخری لمحات میں تیسرا گول کر کے اپنی ٹیم کی کامیابی پر مہر ثبت کر دی۔
افریقی کپ آف نیشنز کے موجودہ چیمپئن مراکش اب سیمی فائنل تک رسائی کے لیے کوارٹر فائنل میں فرانس اور پیراگوئے کے درمیان ہونے والے میچ کے فاتح کا سامنا کرے گا۔
حزب اللہ اور حماس کے سینیئر نمائندوں کی علی خامنہ ای کی سوگ کی تقریب میں شرکت
ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ حزب اللہ اور حماس کے سینیئر نمائندوں نے ایران کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کے سوگ کے پہلے سرکاری دن میں شرکت کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، وہ ایران کے حامیوں کے ایک بڑے ہجوم میں شامل تھے جو تہران میں علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے۔
واضح رہے کہ 86 سالہ علی خامنہ ای فروری میں اسرائیل اور امریکی مشترکہ فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔
تفصیلات کے مطابق ایران اور عراق کے کئی شہروں میں سات روزہ جنازے اور سوگ کی تقریب منعقد کی جائے گی اور آخر میں علی خامنہ ای کی تدفین جمعرات کو ان کے آبائی شہر مشہد میں کی جائے گی۔
اب نان بینکنگ فنانس کمپنیاں بھی وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت قرض دے سکیں گی، وفاقی حکومت کی منظوری, تنویر ملک، صحافی
سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی سفارش پر وفاقی حکومت نے قرض فراہم کرنے والی نان بینکنگ فنانس کمپنیوں (این بی ایف سیز) کو وزیراعظم اپنا گھر پروگرام میں شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
اس اقدام سے ایسے افراد کے لیے بھی گھریلو قرضوں تک رسائی آسان ہو جائے گی جو روایتی بینکاری نظام سے مکمل طور پر مستفید نہیں ہو پاتے۔
نئی منظوری کے تحت نان بینکنگ ہاؤسنگ فنانس کمپنیاں اور انویسٹمنٹ فنانس کمپنیاں ایک کروڑ روپے تک جبکہ مائیکرو فنانس کمپنیاں پچاس لاکھ روپے تک کے ہاؤسنگ قرضے فراہم کر سکیں گی۔ سکیم کے مطابق قرض پانچ فیصد شرحِ منافع پر 20 سال تک کی مدت کے لیے دستیاب ہوگا۔
این بی ایف سیز کی شمولیت سے شہریوں کو سستے گھریلو قرضوں کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔ ان اداروں کے وسیع نیٹ ورک اور ڈیجیٹل سہولیات کے باعث کم سہولت یافتہ اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد تک بھی ہاؤسنگ فنانس کی رسائی بہتر بنائی جا سکے گی۔
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت پہلی بار گھر خریدنے والے اہل افراد ایک کروڑ روپے تک کا قرض حاصل کر سکتے ہیں۔ اس سکیم میں حکومت پہلے دس سال کے لیے صرف پانچ فیصد شرح منافع پر قرض کی سہولت فراہم کر رہی ہے، جس کا مقصد متوسط اور کم آمدن والے خاندانوں کے لیے گھر کی ملکیت کو ممکن بنانا ہے۔
اس ضمن میں ایس ای سی پی نے این بی ایف سیز کی مؤثر شمولیت کے لیے ایک جامع ریگولیٹری فریم ورک بھی جاری کر دیا ہے۔ اس فریم ورک کے تحت اہل این بی ایف سیز اپنی مالی استعداد کے مطابق یا دیگر این بی ایف سیز، کمرشل بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کے اشتراک سے ہاؤسنگ فنانس فراہم کر سکیں گی۔
ایس ای سی پی نے اہلیت کے معیار، آپریشنل طریقہ کار، مالیاتی احتیاطی تقاضوں اور نگرانی کے نظام سے متعلق تفصیلی ہدایات بھی جاری کی ہیں تاکہ اسکیم کے تحت شفاف، ذمہ دارانہ اور پائیدار قرض فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایس ای سی پی کا کہنا ہے کہ مالی شمولیت کے فروغ اور جدید مالیاتی سہولیات کی فراہمی کے ذریعے زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں کو اپنے گھر کا خواب پورا کرنے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ این بی ایف سیز کی شمولیت اس مقصد کے حصول میں اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔
شہباز شریف، اردوغان ملاقات: تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر اتفاق
،تصویر کا ذریعہCMShehbaz
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوغان سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تنازعات کے حل اور عالمی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام ہی واحد پائیدار راستہ ہیں۔
انھوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آج استنبول کے تاریخی شہر میں اپنے انتہائی عزیز بھائی، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کرنا ان کے لیے باعثِ اعزاز تھا۔
وزیراعظم کے مطابق ملاقات کے دوران پاکستان اور ترکیہ کے سٹریٹجک شراکت داری کے تمام اہم پہلوؤں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون، توانائی، رابطہ سازی، ٹیکنالوجی، علاقائی امن اور عوامی روابط پر خصوصی توجہ دی گئی۔
انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کو پانچ ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کے مشترکہ ہدف کے حصول اور پاکستان و ترکیہ کے برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم نے مزید بتایا کہ اس سے قبل انھوں نے پاکستان-ترکیہ بزنس کانفرنس میں بھی شرکت کی۔
ایران نے آبنائے ہرمز میں فوجی موجودگی پر برطانیہ اور فرانس کو’سنگین نتائج‘ سے خبردار کر دیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کی وزارتِ خارجہ نے آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی سرگرمی کے خلاف برطانیہ اور فرانس کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ’سنگین نتائج‘ ہو سکتے ہیں۔
یہ ردِعمل برطانیہ اور فرانس کے اس مشترکہ بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے افواج تعینات کرنے کی تیاری کا اظہار کیا تھا۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز غیرعلاقائی طاقتوں کے فوجی مظاہرے کا میدان نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایران اس حساس آبی گزرگاہ کی سلامتی کا ضامن ہے اور وہاں کسی بھی فوجی نقل و حرکت کے خلاف خبردار کرتا ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کے مطابق آبنائے ہرمز کی سلامتی کی ذمہ داری اس سے متصل ممالک پر عائد ہوتی ہے اور اگر کوئی بحران پیدا ہوتا ہے تو اس کے نتائج کے ذمہ دار وہ عناصر ہوں گے جو کشیدگی بڑھانے کا سبب بنیں گے۔
جمعے کو جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں برطانیہ اور فرانس نے آبنائے ہرمز کو ’عالمی معیشت کے لیے ایک اہم رگ‘ قرار دیا تھا۔
دونوں ممالک نے کہا تھا کہ وہ اس اہم بحری راستے سے تجارتی جہازوں کی محفوظ اور آزادانہ آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے ضرورت پڑنے پر افواج تعینات کرنے کے لیے تیار ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی تیل تجارت کا ایک بڑا حصہ اسی گزرگاہ سے ہوتا ہے۔
ایران: علی عظمئی پاسداران انقلاب نیوی کے نئے کمانڈر مقرر
،تصویر کا ذریعہIRNA
،تصویر کا کیپشنعلی عظمئی (دائیں) اور علی رضا تنگسیری
ایران میں پاسداران انقلاب نیوی کے نئے کمانڈر کے طور پر علی عظمئی کو تعینات کر دیا گیا ہے۔
اس فورس کے سابق کمانڈر علی رضا تنگسیری تھے جو 26 اپریل 1405 کو امریکی اور اسرائیلی افواج کے حملے میں مارے گئے تھے۔
علی عظمئی اس سے قبل آئی آر جی سی نیوی کے پانچویں ریجن کے کمانڈر تھے۔
پاسداران انقلاب بحریہ کا پانچواں ریجن چار نومبر 2012 کو تشکیل دیا گیا تھا اور اس کے آپریشنل دائرہ کار کا اعلان ’جزیرہ قشم کے سرے سے لے کر جزیرہ کیش کے مغرب تک جزائر نازیت کے علاقے‘ کے طور پر کیا گیا تھا اور علی عظمئی کو اس علاقے کا کمانڈر مقرر کیا گیا تھا۔
اس سے قبل وہ آئی آر جی سی نیوی کے فرسٹ ریجن کے ڈپٹی کمانڈر تھے۔
یوکرین کا سینٹ پیٹرزبرگ میں بڑے تیل ٹرمینل اور روسی بحری اڈے پر حملے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہZelenskiy / Official
یوکرین کے صدر ولادیمر زیلنسکی کے مطابق یوکرین نے روس کے شمال مغرب میں واقع شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں ایک بڑے تیل ٹرمینل کو رات گئے نشانہ بنایا ہے۔
یوکرینی صدر کے مطابق ’یہ ایسی اہم تنصیب ہے جو روس کی جنگی مشتقوں کے لیے آمدن پیدا کرنے کا زریعہ ہے۔‘
یوکرین نے علاقے میں روسی بحریہ کے ایک بڑے اڈے کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ زیلنسکی کا کہنا ہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ اور اس کے گرد و نواح میں جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا وہ یوکرین کی سرحد سے تقریباً 850 کلومیٹر (528 میل) دور ہیں۔
فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملے سے کتنا نقصان ہوا، تاہم زیلنسکی کی جانب سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں ایک ڈرون کو ہدف کی جانب جاتے اور حملے کے بعد علاقے سے سیاہ دھواں اٹھتے دیکھا جا سکتا ہے۔
سینٹ پیٹرزبرگ کے گورنر الیگزاندر بیگلوف نے کہا کہ شہر پر ڈرونز کا بڑا حملہ ہوا۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ تیل ٹرمینل اس حملے سے متاثر ہوا ہے تاہم ان کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
حالیہ ہفتوں میں یوکرین نے روس کے توانائی کے شعبے سے متعلق اہم تنصیبات پر ڈرون حملے بڑھا دیے ہیں۔ کیئو کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں روس کی تیل صاف کرنے کی تقریباً 43 فیصد صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔
تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
یوکرین کا کہنا ہے کہ روس کی تیل اور گیس تنصیبات جائز فوجی اہداف ہیں کیونکہ ماسکو جنگ جاری رکھنے کے لیے بڑی حد تک تیل اور گیس کی برآمدات پر انحصار کرتا ہے۔
روسی صدر پوتن نے گزشتہ ہفتے یوکرینی حملوں کی وجہ سے ایندھن کی قلت کا اعتراف کیا تھا اور انھوں نے ہفتے کے روز ایک ایسے قانون پر دستخط کیے جس کا مقصد ملکی منڈی میں ایندھن کی فراہمی بڑھانا ہے۔
یاد رہے کہ روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر مکمل پیمانے کا حملہ شروع کیا تھا۔
بی بی سی نے بعد میں تصدیق کی کہ سینٹ پیٹرزبرگ کا تیل ٹرمینل حملے کا نشانہ بنا تھا۔
یوکرینی فوج نے کہا کہ یہ روس کے سب سے بڑے تیل ٹرمینلز میں سے ایک ہے اور سالانہ ایک کروڑ 25 لاکھ ٹن پیٹرولیم مصنوعات تیار کر سکتا ہے۔
فوج کا یہ بھی کہنا ہے کہ کرونشتادت میں روسی بالٹک بحری بیڑے کے ایک اہم اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
روس نے اس دعوے پر کوئی عوامی ردعمل نہیں دیا۔
گورنر بیگلوف کے مطابق سینٹ پیٹرزبرگ اور لینن گراڈ کے علاقے میں یوکرین کے 72 ڈرون مار گرائے گئے۔
انھوں نے شہریوں سے کہا کہ خطرہ ختم ہونے تک گھروں کے اندر رہیں۔ انھوں نے خبردار کیا کہ موبائل انٹرنیٹ سروس بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ سینٹ پیٹرزبرگ کی آبادی 50 لاکھ سے زیادہ ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اتوار کو احتجاج کی کال, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی جانے والی جماعت جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اتوار کو کشمیر میں احتجاج کی کال دی ہے۔
احتجاج کا یہ اعلان راولاکوٹ میں دریک کے مقام عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کی جانب سے کیا گیا ہے۔
مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کی طرف سے جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب تقاریرمیں کہا گیا کہ دنیا بھر میں بسنے والے کشمیر اس تنظیم کو کالعدم قرار دینے اور مبینہ طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے مظاہرین پر جبر اور تشدد کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں، لہٰذا دنیا بھر کی طرح پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی احتجاج کیا جائے گا۔
پونچھ ڈویژن کے کمشنر سردار وحید خان نے بھی بی بی سی کو اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کی طرف سے اتوار کو دن دو بجے احتجاجی مظاہروں کی کال دی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ راولاکوٹ میں دریک کے مقام پر دھرنا دیے ہوئے اس جماعت کے کارکنوں کو شہر میں یا کسی اور مقام پر احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ ’شہر میں دکانیں بند ہیں جبکہ ایسی دوکانیں جہاں پر ضروریات زندگی کی اشیا فروخت ہوتی ہیں ان کو ایک مخصوص وقت کے لیے کھولا جاتا ہے جبکہ اس کے بعد ان دکانوں کو بند کردیا جاتا ہے۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ شہر میں کھانے پینے کی اشیا کی کوئی قلت نہیں ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد کے ڈپٹی کمشنر منیر قریشی کا دعویٰ ہے کہ شہر میں تمام مارکیٹیں کھلی ہیں اور ان کے بقول تاجروں کی ایک قابل ذکر تعداد نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاج کی کال کو مسترد کردیا ہے۔
انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں پر رواں دواں ہے اور شہر میں حالات معمول کے مطابق ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کا تنظیم کی رکن سید بی بی بلوچ کی فوری رہائی کا مطالبہ, محمد کاظم، بی بی سی اردوڈاٹ کام، کوئٹہ
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ضلع کیچ میں تربت سے تعلق رکھنے والی تنظیم کی رکن سید بی بی بلوچ کی گرفتاری مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
بی وائی سی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سید بی بی کو دو جولائی کی رات ساڑھے تین بجے بغیر وارنٹ حراست میں لیا گیا اور 24 گھنٹے بعد رہا کر دیا گیا۔
بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سید بی بی گزشتہ ایک سال سے ہفتہ وار سی ٹی ڈی میں پیش ہو رہی تھیں تاہم ان کے گھر پر چھاپے، مبینہ طور پر توڑ پھوڑ اور رشتہ داروں کو ہراساں کرنے کے واقعات جاری رہے۔
بی وائی سی کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ روز جب وہ تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کے بعد سی ٹی ڈی کے دفتر گئیں تو انھیں تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کر کے ایک ماہ کےلیے سینٹرل جیل تربت منتقل کر دیا گیا۔
بی وائی سی نےدھمکی دی ہے کہ اگر سید بی کی جان، سلامتی یا صحت کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی مکمل ذمہ داری ریاستی اداروں پر ہوگی۔
علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی نماز جنازہ کی امامت ’مرجعی تقلید‘ کریں گے: ایرانی میڈیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی نماز جنازہ کی امامت ہر شہر میں ایک مرجعی تقلید‘ (شیعہ مسلک کے وہ عالم دین جن کی پیروی اور تقلید کی جاتی ہے) کرے گا۔
ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق جعفر سبحانی تبریزی تہران میں، ناصر مکرم شیرازی قم میں اور حسین نوری ہمدانی مشہد میں نماز جنازہ پڑھائیں گے۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ مجتبی خامنہ ای اپنے والد اور دیگر اہل خانہ کی نماز جنازہ میں شرکت کریں گے یا نہیں۔
،تصویر کا ذریعہReuters
بی بی سی فارسی کے مطابق علی خامنہ ای کے جنازے کے انعقاد کے عملے کے سیکریٹری علی اکبر نے کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے اپنے والد کی نماز جنازہ میں شرکت کا فیصلہ سپریم لیڈر کے گھر والوں کے پاس ہے اور اگر منصوبہ بندی کی گئی تو اس کا اعلان ان کے دفتر کے ذریعے کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای کو عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا نہ ہی ان کی کوئی آڈیو یا ویڈیو جاری نہیں کی گئی۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے نئے سپریم لیڈر 28 فروری 2026 کو جنگ کے پہلے دن اپنے والد اور اہلیہ کے قتل کے بعد سے اب تک کسی جنازے یا تقریبات میں ذاتی طور پر نظر نہیں آئے جس نے ان کی قسمت، ان کی صحت کے بارے میں بہت سی قیاس آرائیاں اور سوالات کو جنم دیا ہے۔
خامنہ ای کی آخری رسومات: شاہ سلمان، انتونیو گوتیرس سمیت اہم شخصیات کے تعزیتی پیغامات
،تصویر کا ذریعہFars news
،تصویر کا کیپشنعلی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں مصر، سعودی عرب، یمن، لبنان اور عمان کے وفود نے شرکت کی
ایران کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کے جنازے میں عرب اور بین الاقوامی شخصیات کے ساتھ مختلف ملکوں کے حکام نے بھی شرکت کی ہے وہیں کئی اہم شخصیات نے اپنے تعزیتی پیغامات بھی ایران کی حکومت تک پہنچائے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان کو علی خامنہ ای کی وفات پر تعزیتی پیغام پہنچایا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطہ کیا تاکہ سابق سپریم لیڈر کی وفات پر تعزیت کا اعادہ کریں اور ایرانی حکومت اور عوام سے یکجہتی کا اظہار کریں۔
،تصویر کا ذریعہTasnim
،تصویر کا کیپشنخامنہ ای کا سیاہ عمامہ گرینڈ مسجد میں تابوت کے اوپر رکھا گیا
ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں مصر، سعودی عرب، لبنان اور دیگر ممالک کے عرب وفود نے شرکت کی۔
مصر نے جمعے کے روز ایک سرکاری وفد کے ساتھ شرکت کی جس کی سربراہی سینیٹ کے سپیکر عصام الدین احمد محمد فرید کر رہے تھے جبکہ سعودی وفد کی سربراہی نائب وزیر خارجہ ولید بن عبدالکریم الخریجی کر رہے تھے۔
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی سرکاری جنازے کی تقریب میں شرکت کی۔ ان کے ہمراہ چیف آف ڈیفنس سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی تھے۔
اس کے علاوہ عراقی صدر نذر امیدی، جارجیا کے صدر میخائل کاویلاشویلی اور تاجکستان کے صدر امام علی رحمان بھی آخری رسومات میں موجود تھے۔
ترکی کے نائب صدر جودت یلماز کے علاوہ لبنان کے وزیر دفاع میشل منصور، افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی اور روسی صدر پوتن کی نمائندگی کے لیے سابق روسی صدر دمتری میدویدیف بھی موجود تھے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں سلطنت عمان نے بھی ریاستی کونسل کے چیئرمین عبدالمالک بن عبداللہ الخلیلی کی سربراہی میں ایک سرکاری وفد کے ساتھ شرکت کی۔
قطری وفد کی سربراہی شوریٰ کونسل کے چیئرمین حسن بن عبداللہ الغنیم کر رہے تھے۔
لبنانی حزب اللہ کا ایک وفد بھی موجود تھا جس کی سربراہی جماعت کے عہدیدار اور سابق لبنانی وزیر محمود قماطی کر رہے تھے۔
علی خامنہ ای کو 'گرینڈ مصلیٰ' میں عوامی الوداع کہنے کی تقریب
،ویڈیو کیپشنعلی خامنہ ای کو ’گرینڈ مصلیٰ‘ میں عوامی الوداع
ایران میں سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای اور اُن کے اہلخانہ کی آخری رسومات کا سلسلہ جاری ہے۔
آج سے تہران کے بڑے مذہبی و ثقافتی مرکز 'گرینڈ مصلیٰ' میں عوامی الوداع کی دو روزہ تقریب کا آغاز ہو گیا ہے۔ تفصیلات اس ویڈیو میں
شہباز شریف کی ترک سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت
،تصویر کا ذریعہGOP
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ترکی کے دورے کے دوران ملک کے ممتاز کاروباری و صنعتی رہنماؤں اور سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت دی ہے۔
استنبول میں ترکی کے نمایاں کاروباری گروپوں سے ملاقاتوں کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان کو سرمایہ کار دوست اور کاروبار کے لیے سازگار ملک بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکی نے دوطرفہ اقتصادی تعاون اور طویل المدتی شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔
وزیراعظم نے چالک ہولڈنگ کے چیئرمین احمد چالک، البیراک گروپ کے چیئرمین احمد البیراک اور ترکی کی یونین آف چیمبرز اینڈ کموڈٹی ایکسچینجز کے صدر رفعت حصار سمیت بڑی صنعتی اور کاروباری تنظیموں کے اعلیٰ عہدیداران سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
ملاقاتوں میں تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے مجموعی معاشی اشاریے مسلسل بہتر ہو رہے ہیں اور حکومت شفاف، قابلِ اعتماد اور کاروبار دوست سرمایہ کاری کا ماحول فراہم کر رہی ہے۔
انھوں نے ترک کمپنیوں کو پاکستان کے ترجیحی شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت دی اور کہا کہ پاکستان میں توانائی، کان کنی، معدنیات، بنیادی ڈھانچے، بحری امور، رسد و ترسیل، معلوماتی ٹیکنالوجی، مواصلات، پیداواری صنعت، زراعت اور نجکاری سمیت متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اتوار کو صبح چھ بجے سے شروع ہو گی: ایرانی میڈیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی میڈیا میں بتایا جا رہا ہے کہ ایران کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اتوار کو ادا کی جائے گی تاہم ابھی یہ نہیں بتایا گیا کہ نماز کون پڑھائے گا۔
بی بی سی فارسی نے مقامی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ عوام کو ہفتے کے روز(آج) خامنہ ای کو 24 گھنٹے تک الوداع کہنے کی اجازت دی گئی تھی جبکہ اتوار کو خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کی نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد عوامی سطح پر علی خامنہ ای کی الوداعی تقریبات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
ایرانی میڈیا کی جانب سے شائع کیے گئے ایک اعلان کے مطابق علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے دعائیہ تقریب کل صبح چھ بجے تہران کی ایک مسجد میں منعقد کی جائے گی۔
یاد رہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای کو عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا، جب ان کے والد اور خاندان کے متعدد افراد 40 روزہ جنگ کے پہلے روز مارے گئے تھے۔
تہران میں ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای اور اُن کے اہلخانہ کی آخری رسومات جاری ہیں۔
گذشتہ روز بین الاقوامی خراجِ عقیدت کی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں دُنیا کے مختلف ممالک کے رہنماؤں اور وفود نے شرکت کی تھی۔
آبنائے ہرمز خطے سے باہر کی قوتوں کی فوجی طاقت کے مظاہرے کا میدان نہیں: ایران
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز ’خطے سے باہر کی قوتوں کی فوجی طاقت کے مظاہرے کا میدان نہیں۔‘
ان کا یہ بیان برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کے اس مشترکہ بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس مِں کہا گیا ہے کہ دونوں ملک آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت یقینی بنانے کے لیے کثیر الملکی فوجی مشن کی تعیناتی کی حمایت کے لیے تیار ہیں۔
کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران ایک ذمہ دار طاقت اور آبنائے ہرمز کی سلامتی کا ضامن ہے اور اس آبی گزرگاہ میں کسی بھی فوجی نقل و حرکت کے بارے میں خبردار کرتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کی ذمہ داری ساحلی ریاستوں پر عائد ہوتی ہے۔ ’بحران پیدا کرنے والوں کو اپنی مہم جوئی کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ یہ ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔‘
ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ کے جنازے کی عوامی تقریب کے مناظر
،تصویر کا ذریعہEPA
تہران میں ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای اور اُن کے اہلخانہ کی آخری رسومات جاری ہیں۔
گذشتہ روز بین الاقوامی خراجِ عقیدت کی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں دُنیا کے مختلف ممالک کے رہنماؤں اور وفود نے شرکت کی تھی۔
پاکستان کی جانب سے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے تقریب میں شرکت کی تھی۔
سنیچر کی صبح سے تہران کے بڑے مذہبی و ثقافتی مرکز ’امام خمینی مصلیٰ‘ میں دو روزہ عوامی الوداع کی تقریب کا آغاز ہو گیا ہے۔
ایرانی حکام کو توقع ہے کہ ایران اور عراق مختلف شہروں میں چھ روز تک جاری رہنے والی آخری رسومات میں ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد شرکت کریں گے۔