آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ہم جنس ملاپ: ’کیتھولک چرچ گناہ کی حمایت نہیں کر سکتا‘
ویٹیکن کی جانب سے جاری ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کیتھولک چرچ کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ ہم جنس پرست جوڑوں کے ملاپ کی حمایت کر سکیں۔
پیر کو جاری کیے جانے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ خدا کے لیے یہ ناممکن ہے کہ وہ گناہ کو رحمت سے نواز دے۔
تاہم اسی بیان میں ہم جنس تعلقات کے مثبت پہلوؤں کے بارے میں بھی ذکر کیا گیا ہے۔
اکتوبر میں پوپ فرانسس نے ایک دستاویزی فلم میں کہا تھا کہ ان کے خیال میں ہم جنس جوڑوں کو اپنی تقریبات کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پیر کو پوپ فرانسس کی جانب سے اس بیان کی توثیق کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی غیر منصفانہ تفریق کی کوشش نہیں بلکہ مسیحی عبادتی رسموں سے متعلق ایک یاد دہانی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حالیہ مہینوں میں کچھ پادریوں کی جانب سے جرمنی اور امریکہ سمیت کئی ممالک میں ہم جنس پرست تعلقات کے حوالے سے لوگوں کو دعائیں دی گئیں اور ہم جنس کیتھولک افراد کو چرچ میں خوش آمدید کہا گیا۔
کیتھولک چرچ کی جانب سے یہ بیان اس سوال کے جواب میں آیا جس میں پوچھا گیا تھا کہ ’کیا چرچ کے پاس اختیارات ہیں کہ وہ ہم جنس افراد کی تقریبات کو دعا دے‘ تو اس کا جواب نفی میں دیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے کسی بھی تعلق کو دعا دینا جائز نہیں جس میں غیر ازدواجی طور پر جنسی تعلق قائم کیا جائے اور یہی اصول ہم جنس پرستوں ہر لاگو ہوتا ہے۔
بیان پر ردعمل
اس بیان کے ردعمل میں لوگوں نے اپنی ہم جنس پرست شادیوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنا شروع کر دیں جن میں سنہ 2020 کے امریکی صدارتی انتخاب کے امیدوار بھی شامل تھے۔
ترقی پسند کیتھولک گروہوں کی جانب سے ویٹیکن کے اس بیان پر خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔
کیتھولکس آف چوائس کی شارلٹ کلیمر کا کہنا تھا ’ایل جی بی ٹی کیو ہونا کوئی اختیاری چیز نہیں ہے، ایل جی بی ٹی کیو لوگ خدا کی جانب سے بنائے گئے ہیں۔ ہمیں ایسا ہی پیدا کیا گیا ہے، جو اچھا ہے، برعکس جیسا مذہبی حکام کی جانب سے قرار دیا جاتا ہے۔‘
ہم جنس پرستوں کے ایک کیتھولک گروپ کے ڈائریکٹر فرانسس دی بنارڈو کا کہنا تھا کہ ویٹیکن کا بیان حیران کن نہیں ہے لیکن پھر بھی مایوس کن ہے۔