کانٹس: آسٹریلوی ایئر لائن کی انوکھا آفر، فلائٹ پکڑیں کہیں دور کی، اتا پتا معلوم نہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا آپ کبھی ایسی فلائٹ پر بیٹھیں گے جس کے بارے میں آپ کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس کی منزل کیا ہے؟ یا کسی ایسی فلائٹ پر جہاں آپ کو معلوم ہے کہ جہاز جس ہوائی اڈے سے پرواز بھر رہا ہے، تھوڑی دیر میں وہیں آپ کو اتار دے گا؟
آسٹریلوی ایئرلائن کانٹس نے ایسی ہی ایک سکیم شروع کی ہے جس میں آپ کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ جہاز کہاں جا رہا ہے: بس ٹکٹ خریدیں اور جہاز میں بیٹھ جائیں۔ 1990 کی دہائی میں یہی سکیم کافی مقبول تھی اور اس کو دوبارہ شروع کرنے کا مقصد سیاحت کو فروغ دینا ہے۔
سچ پوچھیں تو لگتا تو ایسا ہے کہ لوگ کورونا وائرس کی وبا کے دوران لاک ڈاؤنز میں بوریت کا شکار رہے تو کانٹس نے سوچا کہ چلو، لوگوں کی زندگی میں کچھ دلچسپ کرتے ہیں۔
آپ سوچتے ہوں گے ’بھئی، اگر اگلی منزل کا ویزا نہ ہوا تو میں کیا کروں گا؟ تاہم ایئر لائن نے اس بے یقینی کی صورتحال کا بھی آسان حل نکالا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کورونا کی وبا کے باعث کئی ممالک کے بارڈر تو بند پڑے ہیں اور بین الاقوامی سفر نہ جانے کب کھلے گا اسی لیے یہ پروازیں آسٹریلیا سے اڑتی ہیں اور آسٹریلیا ہی کے کسی اور شہر جاتی ہیں۔
یہ پروازیں کانٹس کے تین میں سے ایک بوئنگ 737 طیارے پر بریسبین، ملبورن، یا سڈنی سے اڈیں گی اور اکانوی کلاس کا کرایہ ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اچھا چلیں منزل نہ جانے ہوئے وہاں کا سفر تو کر لیا، مگر اب وہاں پہنچ کر کرنا کیا ہے؟ ہوسکتا ہے آپ کہ حصے میں اپنے آبائی علاقے سے کہیں زیادہ مایوس کن جگہ آئے تو کیا ہوگا؟
ایئر لائن نے اس کا بھی انتظام کیا ہے۔ ان پروازوں پر کانٹس وائن ٹوئر، پرتعیش کھانے، یا کسی جزیرے پر غوطہ خوری جیسی بہت ہی چیزوں کا انتظام کر کے دیتی ہے تاکہ آپ کا دن ایسے ضائع نہ ہو۔
ایئر لائن کی صنعت مشکل میں
ماضی میں بھی کانٹس نے ایسی پروازیں چلائی تھیں جہاں آپ کو ایک جگہ سے جہاز پر لے جایا جاتا تھا اور پھر پرواز کے دوران زبردست نظارے کروا کر اسی مقام پر واپس اتار دیا جاتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اور ایسی دلچسپ سکیمیں متعارف کروانے کا رجحان پورے مشرقی ایشیائی ایئر لائنوں میں نظر آ رہا ہے کیونکہ یہ صنعت مشکل میں ہے۔ گذشتہ ہفتے تھائی ایئر نے اعلان کیا تھا کہ انھیں اپنے پچاس فیصد ملازموں کو فارغ کرنا پڑے گا۔ خطے میں حکومتیں ایئر لائنوں کو بچانے کے لیے امدادی رقوم بھی دے رہی ہیں۔
اوپر سے کورونا وائرس کی ویکسینوں کی فراہمی کے مرحلہ وار پیچیدہ نظام نے بھی ایئر لائنوں کو مشکل میں ڈالا ہوا ہے۔ کوئی کہیں جانے کو تیار نہیں اور کوئی جانے کو تیار ہے تو اسے ویکسین ابھی نہیں لگی۔
اس ہفتے ایسوسی ایشن آف ایشیا پیسفک ایئر لائنز کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس سال جنوری میں گذشتہ جنوری کے مقابلے میں صرف 4 فیصد مسافروں نے سفر کیا۔









