آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سائرہ خان: پاکستانی نژاد ٹی وی میزبان کو ’اسلامی شعائر پر عمل پیرا نہ ہونے‘ کے بیان کے بعد ’قتل کی دھمکیاں‘
برطانیہ میں معروف پاکستانی نژاد ٹی وی پریزنٹر سائرہ خان نے کہا ہے کہ جب انھوں نے اس بات کا انکشاف کیا کہ وہ اسلامی شعائر پر عمل نہیں کرتیں تو اس کے بعد انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔
خواتین میں مقبول ’لوز ویمن‘ (Loose Women) نامی پروگرام کی سابق پینلسٹ سائرہ خان نے برطانوی اخبار ’ڈیلی مرر‘ میں اس ہفتے کے شروع میں مذہب کے بارے میں اپنی سوچ کی وضاحت کی تھی۔
انھوں نے کہا کہ 'مجھ جیسی خواتین جن کا نام مسلمانوں جیسا ہے اور جو ایشیائی ہیں اُن کا مسئلہ یہ ہے کہ دوسرے لوگ ہمارے کچھ کہے بغیر ہی ہمارے بارے میں رائے قائم کر لیتے ہیں۔'
پیر کو ایک انسٹاگرام لائیو میں سائرہ خان نے کہا کہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
اُنھوں نے اپنے اکاؤنٹ پر بیان پوسٹ کیا جس میں کہا گیا تھا کہ انھیں آن لائن ٹرول کیا گیا ہے اور گندی زبان استعمال کی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سائرہ خان کو ریئلٹی شو ’اپرینٹس‘ میں حصہ لینے کی وجہ سے شہرت حاصل ہوئی تھی۔ اس کے بعد وہ ’ڈانسنگ آن آئس‘ اور ’سلیبرٹی بگ برادر‘ نامی پروگراموں میں نظر آئیں۔
گزشتہ پانچ برس سے وہ برطانوی چینل آئی ٹی وی کے پروگرام ’لوز ویمن‘ میں ایک پینلسٹ کے طور پر شامل ہوتی رہی ہیں، لیکن دسمبر میں انھوں نے اس شو کو چھوڑ دیا تھا۔
سائرہ خان نے کیا کہا؟
اخبار کے ایک کالم میں سائرہ خان نے کہا کہ وہ '(اپنی) بھلائی کے لیے اپنا موقف واضح کرنا چاہتی ہیں۔'
انھوں نے لکھا کہ 'مجھے یہ لگتا ہے کہ ایک عوامی شخصیت کے طور پر اس انکشاف کے بعد اب دوسرے مسلمان میرے بارے میں غلط فہمی کا شکار نہیں ہوں گے اور یوں اُن کو مجھ سے انجانے میں تکلیف نہیں پہنچے گی۔'
'لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ کیونکہ ہمارے والدین مسلمان ہیں اس لیے ہم اسلام پر عمل پیرا ہونگے۔ ہم نے قرآن پڑھا ہوگا، ہم ہر رمضان میں روزہ رکھتے ہیں، ہم شراب نوشی نہیں کرتے، اور شادی سے پہلے ہم جنسی تعلقات نہیں قائم کرتے۔'
سائرہ خان نے کہا کہ ان کے طرز زندگی کے بہت سے پہلو اسلام کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے۔
مثال کے طور پر ان کا لباس، شراب پینا اور ’چھپ کر بوائے فرینڈ کے ساتھ رہنا۔‘
براڈ کاسٹر سائرہ خان نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اُنہوں نے ایک بچی کو گود لیا تھا اور اُنھوں نے اپنی بیٹی کے لیے وراثت کے حقوق سے متعلق اسلامی قوانین پر عمل نہیں کیا تھا۔
انھوں نے مزید یہ بھی کہا کہ 'میں ان لوگوں کا احترام کرتی ہوں جن کی زندگی میں اسلام ہے اور میرے جاننے والے ایسے افراد میں کچھ انتہائی اچھے لوگ ہیں۔'
'تاہم میں ان کی طرح معتقد نہیں ہوں۔ میں نے اپنے لیے نہیں بلکہ اپنے والدین اور بقیہ خاندان کی خاطر بہت سال کوشش کی ہے۔'
انہوں نے کہا کہ عملی طور پر مسلمان خاندان میں پرورش پانے کی وجہ سے 'میری زیادہ تر اقدار مسلم عقیدے کے روحانی پہلوؤں پر مبنی ہیں۔ لیکن میں دوسری روحانی تعلیمات سے بھی متاثر ہوں۔'
کالم پر کیا رد عمل تھا؟
سائرہ خان نے حال ہی میں ایک انسٹاگرام لائیو کیا، جس کے دوران انھوں نے کہا تھا کہ انھیں اپنے مضمون کی اشاعت کے بعد سے ہی جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔
منگل کے روز اُنھوں نے انسٹاگرام پر ایک بیان جاری کیا جس میں اس بات کو دہرایا کہ انھیں 'دھمکیاں دی گئیں، ان کے ساتھ بدزبانی کی گئی اور ٹرول کیا گیا ہے۔'
انھوں نے کہا 'میں اپنی زندگی کو کس طرح اپنی مرضی سے جیتی ہوں اس سے دوسرے اس قدر نفرت کا اظہار کر رہے ہیں یہ میری سمجھ سے باہر ہے۔'
لیکن اُنھوں نے مزید یہ بھی کہا کہ اُنھیں متعدد فاولوئرز کی حمایت بھی حاصل ہوئی ہے۔ اُنھوں نے ایسے کچھ پیغامات کے سکرین شاٹس شیئر کیے جو اُنھیں بھیجے گئے تھے۔
سائرہ خان نے کہا کہ 'گزشتہ 24 گھنٹوں میں بہت ساری خواتین نے اُن سے رابطہ کیا ہے اور اپنی زندگی اپنی خواہشات کے مطابق جینے کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے۔'
'گو کہ میں ماحول کو حوصلہ افزا اور مثبت رکھنا پسند کرتی ہوں، میں یہ نہیں بھول سکتی کہ ایک عورت کی حیثیت سے میرا فرض ہے کہ مجھے جو پلیٹ فارم حاصل ہے اس پر میں دوسری خواتین کی مدد کروں۔'
’ایک دوسرے کے درد کو محسوس کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ ہم ایک جیسے نظر آئیں۔ اگر آپ کو تکلیف ہوتی ہے تو مجھے آپ کا درد محسوس ہوتا ہے۔'