امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے روس پر سولر ونڈز سائبر حملے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کر دیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے روس پر امریکہ پر ہونے والے بدترین سائبر جاسوس حملے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ جمعے کو ایک بیان میں مائیک پومیو کا کہنا تھا کہ 'ہم واضح طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس سائبر حملے میں روس کا ہاتھ ہے۔'
تاہم امریکی صدر ٹرمپ نے اس سائبر حملے کی سنگینی کو کم کرتے ہوئے کہا کہ 'معاملات قابو میں ہیں' اور انھوں نے روس کے کردار پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے چین کے ملوث ہونے کا بھی اشارہ دیا۔
واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے سولر ونڈز نامی امریکی ٹیکنالوجی کمپنی کے سوفٹ ویئر میں ہیکنگ کا انکشاف ہوا تھا۔ تاہم یہ ہیکنگ کا عمل کئی ماہ سے جاری تھا، روس نے اس حملے میں کسی بھی طرح کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
اس ہیکنگ حملے میں جن امریکی سرکاری اداروں اور ایجنسیوں کا نشانہ بنایا گیا ان میں وہ ادارہ بھی شامل ہے جو امریکی جوہری ہتھیاروں کی نگرانی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس سرکاری ادارے، امریکی محکمہ توانائی کا کہنا تھا کہ اس ہیکنگ حملے سے جوہری ہتھیاروں کی حفاظت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوا اور ان کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوا ہے۔
یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ برطانیہ سمیت دنیا بھر میں دیگر اداروں کو بھی ہیکرز نے اسی نیٹ ورک مینجمنٹ سوفٹ ویئر کا استعمال کرتے ہوئے نشانہ بنایا ہے۔
محققین نے اس حملے کو 'سن برسٹ' کا نام دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس سب سے بڑے سائبر حملے کو سمجھنے کے لیے کئی سال درکار ہو سکتے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ کا سائبر حملے پر کیا کہنا تھا؟
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے جمعہ کو امریکی ریڈیو ٹاک شو کے میزبان مارک لیون کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ روس (اس سائبر حملے سے) گذشتہ کئی مہینوں کے دوران، دنیا بھر کی دیگر کمپنیوں اور حکومتوں کے ساتھ ساتھ متعدد امریکی سرکاری ایجنسیوں اور نجی کمپنیوں میں داخل ہوا ہے۔
انھوں نے کہا کہ 'امریکی سرکاری اداروں میں سرائیت کرنے کے لیے تھرڈ پارٹی کے سافٹ ویئر کو استعمال کر کے ایک کوڈ داخل کی واضح کوشش کی گئی ہے۔'
امریکہ محکمہ توانائی کے ساتھ ساتھ اب تک اس جاسوس سائبر حملے سے ہوم لینڈ سکیورٹی، محکمہ خزانہ، داخلہ اور تجارت سمیت متعدد سرکاری دفاتر کے نیٹ ورک متاثر ہوئے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ پومپیو کا کہنا تھا کہ امریکی تفتیش کار اب بھی 'اس حملے کے متعلق مکمل معلومات حاصل کر رہے کہ یہ اصل میں کیا تھا' اور ممکن ہے کہ زیادہ تر معلومات خفیہ رکھی جائیں گی۔
انھوں نے روس پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ 'وہ ہمارے طرز زندگی کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔' ان کا مزید کہنا تھا کہ روسی صدر 'ولادیمیر پوتن ایک حقیقی خطرہ ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر ٹرمپ کا ردعمل کیا رہا؟
سنیچر کو اپنی دو ٹویٹس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر میڈیا پر اس معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس 'غلط خبروں والا میڈیا' کہا ہے۔
انھوں نے لکھا کہ ' غلط خبریں دینے والے میڈیا میں سائبر حملہ حقیقت سے بہت بڑا ہے۔'
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'مجھے اس بارے میں مکمل بریفنگ دی گئی ہے اور سب کچھ قابو میں ہے۔ جب بھی کچھ ہوتا ہے ہمیشہ روس، روس کے نعرے لگائے جاتے ہیں، کیونکہ الزام لگانے والے اپنی مالی وجوہات کی بنا پر چین کے ملوث ہونے کے امکان پر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔(چین ہو سکتا ہے۔)'
انھوں نے اپنے وزیر خارجہ کے بیان کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی چین کے ملوث ہونے کے حوالے سے کوئی ثبوت فراہم کیے۔
امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے اس سے پہلے بھی روس کے خلاف ایک سخت موقف اپنایا تھا۔ ان کے بطور وزیر خارجہ کے دور میں امریکہ ایک اہم جوہری معاہدے اور فضائی نگرانی کے اوپن سکائی معاہدے سے دستبردار ہوا ہے۔
مگر صدر ٹرمپ روس کی جانب زیادہ متضاد جذبات رکھتے ہیں اور انھوں نے روس کی جانب سے امریکی فوجیوں کو مارنے کے لیے طالبان کو رقم کی پیش کش کرنے جیسے واقعات کو بھی کم توجہ دی تھی جبکہ پومپیو نے اس بارے میں روس کو سختی سے تنبیہ دی تھی۔
نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن جو 20 جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے، نے سائبر سکیورٹی کو اپنی انتظامیہ کی 'اولین ترجیح' بنانے کا عزم کیا ہے۔ جمعرات کو انھوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ 'ہمیں سب سے پہلے اپنے مخالفین کی جانب سے سائبر حملوں کو روکنے اور ناکارہ کرنے کی ضرورت ہے۔'
ہیکنگ حملے کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟
اس ہیکنگ حملے میں جسے 'سن برسٹ' کا نام دیا گیا ہے ہیکرز نے ایک امریکی کمپنی سولر ونڈز کے تیار کردہ نیٹ ورک منیجمنٹ سوفٹ ویئر میں ایک چھوٹا سا خفیہ کوڈ داخل کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جس کے بعد ہیکرز کو یہ سوفٹ ویئر استعمال کرنے والی کمپنیوں اور اداروں کے نیٹ ورکس پر اعلیٰ حد تک کنٹرول حاصل کرنے کی رسائی مل گئی تھی، تاہم یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہیکرز کی جانب سے اس کوڈ کو ان کمپنیوں کے نیٹ ورک میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا تباہ کن اثر ڈالنے کی بجائے اسے ڈیٹا چرانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس جاسوس سائبر حملے میں چند اداروں سے قومی راز، دفاع سے متعلق امور کی تفصیلات اور دیگر متعلقہ معلومات چرانے کی کوشش کی گئی۔
اگرچہ یہ سوفٹ وئیر ڈاون لوڈ کیا گیا ہو سکتا ہے مگر اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ ڈیٹا بھی حاصل کر لیا گیا ہے۔ اس سائبر حملے کے تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ مہینوں جاری رہنے والے اس سائبر حملے کو رواں برس مارچ سے قبل شروع کیا گیا تھا۔
امریکی کمپنی سولرونڈز نے اس سے قبل کہا تھا کہ اس سائبر حملے میں ان کے 18 ہزار سے تین لاکھ صارفین متاثر ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ صارفین یا عام شہریوں کے ڈیٹا کی چوری سائبر حملے کا ایک مقصد تھا۔
تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ روس سے وابستہ ہیکرز نے امریکی خفیہ رازوں کو آن لائن چرانے کی کوشش کی ہے۔










