آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ناگورنو قرہباخ: آرمینیا اور آذربائیجان کی لڑائی میں ملوث کرائے کے شامی جنگجو جنھیں توپوں کے آگے مرنے کے لیے بھیجا گیا
- مصنف, ایڈ بٹلر
- عہدہ, بی بی سی نیوز
ترکی اور آذربائیجان نے بضد ہیں کہ انھوں نے ناگورنو قرہباخ کی حالیہ لڑائی کے دوران کرائے پر حاصل کیے گئے شامی جنگجوؤں کو استعمال نہیں کیا، تاہم چار شامی باشندوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ آذربائیجان میں چوکیدار کی نوکری حاصل کرنے کے بعد انھیں غیر متوقع طور پر محاذِ جنگ میں بھیج دیا گیا تھا۔
رواں سال اگست میں باغیوں کے زیر قبضہ شمالی شام کے علاقوں میں یہ افواہیں پھیلنا شروع ہوگئی تھیں کہ ’بیرون ملک کام کا بہتر معاوضہ ملتا ہے۔‘
ایک شخص کے مطابق ’میرا ایک دوست تھا جس نے مجھے بتایا کہ ایک بہت اچھی نوکری ہے جس میں بس آذربائیجان میں فوجی چوکیوں پر رہنا ہو گا اور تم یہ کر سکتے ہو۔‘
قطیبہ (فرضی نام) کا کہنا تھا ’انھوں نے بتایا کہ امن قائم کرنے والے سپاہی کی حیثیت سے ہمارا مشن سرحد کی چوکیداری کرنا ہوگا۔ وہ ایک ماہ میں 2000 ڈالر کی پیشکش کر رہے تھے! یہ ہمارے لیے ایک خطیر رقم تھی۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دونوں نے ترکی کے حمایت یافتہ باغی گروہوں کے ذریعے ملازمت کے لیے درخواست دی تھی جو سیریئن نیشنل آرمی‘ کے نام سے جانی جاتی ہے، اور شمالی شام میں صدر بشار الاسد کی افواج کے خلاف لڑ رہی ہے۔
ایسے علاقے میں، جہاں کچھ افراد ایک دن میں ایک ڈالر تک کماتے ہیں، وہاں یہ تنخواہ خدا کی نعمت دکھائی دیتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق کم از کم 1500 سے 2000 افراد ترکی کے فوجیوں کو لیجانے والے طیارے پر ترکی کے راستے آذربائیجان گئے۔
لیکن کام ویسا نہیں تھا جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ ان افراد کو، جن میں سے بیشتر ناتجربہ کار تھے، جنگ کے لیے بھرتی کیا جا رہا تھا اور انھیں فرنٹ لائن پر جا کر لڑنے کا حکم دیا گیا۔
قطیبہ کا کہنا ہے کہ ’مجھے زندہ رہنے کی امید نہیں تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ زندہ رہنے کا صرف ایک فیصد موقع بچا ہے۔ ہمارے چاروں طرف موت تھی۔‘
ناگورنو قرہباخ ایک متنازعہ علاقہ ہے جو سنہ 1994 میں ایک خونی تنازع کے دوران آرمینیا کے کنٹرول میں آ گیا۔ اس لڑائی میں انکلیو اور آرمینیائی فوج کے زیر قبضہ ارد گرد کے علاقوں سے دسیوں ہزار افراد ہلاک اور سینکڑوں ہزار بے گھر ہوگئے تھے۔
تاہم بین الاقوامی برادری نے خود ساختہ جمہوریہ آرٹسخ (ناگورنو قرہباخ کا آرمینیائی نام) کو تسلیم نہیں کیا ہے اور اس سال اپنی بڑھتی ہوئی فوجی برتری کو محسوس کرتے ہوئے، آذربائیجان نے حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
اگرچہ آذربائیجان اور اس کے اتحادی ترکی نے کرائے کے فوجیوں کے استعمال کی تردید کی ہے، محققین نے کافی تعداد میں تصویری شواہد جمع کیے ہیں جنھیں جنگجوؤں نے آن لائن پوسٹ کیا تھا اور یہ ایک الگ کہانی بیان کرتے ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ آذربائیجان کی پیش قدمی کے دوران شامی شہری جنوبی حصے پر تعینات تھے جہاں دونوں اطراف ہلاکتیں بہت زیادہ تھیں۔ جن جنگجوؤں سے میں نے بات کی وہ شدید فائرنگ کی زد میں آئے اور ایسا لگ رہا تھا کہ ان کے تجربات نے انھیں شدید صدمہ پہنچایا ہے۔ وہ اپنی ملیشیا کے کمانڈروں کی جانب سے بدلے کے خوف سے اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے، لہذا میں نے انھیں فرضی نام دیے ہیں۔
اسماعیل کہتے ہیں ’میری پہلی جنگ میرے پہنچنے کے دوسرے دن ہی شروع ہو گئی۔‘
’مجھے اور تقریباً 30 لڑکوں کو فرنٹ لائن پر بھیج دیا گیا تھا۔ ہم تقریباً 50 میل تک چلے، جب اچانک ایک راکٹ ہمارے قریب آ کر گرا۔ میں خود زمین پر لیٹ گیا۔ گولہ باری 30 منٹ تک جاری رہی۔ یہ 30 منٹ برسوں کی طرح محسوس ہوئے۔ مجھے اُس وقت افسوس ہوا کہ میں آذربائیجان کیوں آیا۔‘
سمیر کہتے ہیں ’ہم نہیں جانتے تھے کہ کیا کرنا ہے، کس طرح کا ردعمل ظاہر کرنا ہے۔‘ سمیر مزید بتاتے ہیں کہ ان کے اور ان کے بہت سے ساتھیوں کو عملی طور پر کوئی فوجی تجربہ یا تربیت حاصل نہیں تھی۔
’میں نے لوگوں کو مرتے ہوئے دیکھا اور باقی پاگلوں کی طرح بھاگ رہے تھے۔ انھیں کچھ احساس نہیں تھا کہ وہ کہاں جا رہے ہیں۔‘
ان تمام افراد کا کہنا ہے کہ انھیں حفاظتی سازوسامان یا طبی امداد بہت کم دی گئی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ ان کے بہت سے ساتھی جنگجو ایسے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موت کے منھ میں چلے گئے ہیں جن کا علاج میدان جنگ میں موجود ڈاکٹر باآسانی کر سکتے تھے۔
اسماعیل کا کہنا ہے ’سب سے مشکل لمحہ وہ تھا جب میرے ساتھی میں سے ایک کو نشانہ بنایا گیا۔ جب وہ گولہ آ کر گرا تو وہ مجھ سے 20 میٹر دور تھا۔ میں نے اسے گرتے دیکھا۔ وہ مجھے آوازیں دے رہا تھا، چیخ رہا تھا، لیکن وہ آرمینی مشین گنوں کے سامنے آگیا۔ میں اس کی مدد نہیں کر سکا۔ پھر اس نے وہیں دم توڑ دیا۔
بعد میں خود اسماعیل کو گولے کا شیل لگنے کے باعث ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔
ایک اور شامی باشندے کا کہنا تھا کہ جب گولہ باری شروع ہوئی تو وہ خوف کے مارے مفلوج ہو کر رہ گئے۔
’مجھے یاد ہے کہ میں زمین پر بیٹھ گیا اور رونے لگا، میرے زخمی دوست بھی رونے لگے۔ ایک لڑکے کے سر میں گولے کا شیل لگا اور وہ اسی وقت دم توڑ گیا۔۔۔ ہر دن ایسا ہی تھا۔ اب وہی جب یاد آتا ہے تو میں بیٹھ کر روتا ہوں، ابھی بھی مجھے معلوم نہیں کہ میں اس جنگ سے کیسے بچ گیا۔‘
شامی جنگجوؤں کی ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں اندازے مختلف ہیں۔ شام میں جاری تنازعے پر نظر رکھنے والا برطانیہ میں قائم ادارہ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس یہ تعداد 500 سے زیادہ بتاتا ہے۔ ان اعداوشمار کا موازنہ آرمینیا کے 2400 سے زیادہ اور آذربائیجان کی طرف سے تقریباً 3000 کے اعداد و شمار سے کیا گیا ہے۔ البتہ آذربائیجان یہ تسلیم نہیں کرتا ہے کہ ان میں کوئی شامی جنگجو شامل تھا۔
ملک کے صدر، الہام علیئیف نے اکتوبر میں فرانس 24 نیوز نیٹ ورک کو بتایا کہ ’ہم کرائے کے جنگجو استعمال نہیں کرتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا ’یہ ہمارا سرکاری بیان ہے اور لڑائی شروع ہونے سے لے کر اب تک کسی ملک نے اس الزام کے ثبوت پیش نہیں کیے۔ ہمیں اس کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ ہمارے پاس ایک لاکھ سے زیادہ فوج ہے جو اپنی سرزمین کو خود آزاد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔‘
یہ ایک دلچسپ نکتہ ہے۔ آخر آذربائیجان شامی جنگجوؤں کو کیوں بھرتی کرے گا؟
واشنگٹن ڈی سی میں سی این اے فوجی تحقیقاتی مرکز میں روس پروگرام کے سربراہ، فوجی تجزیہ کار مائیکل کوفمین کا کہنا ہے کہ لگتا ہے کہ اس کا مقصد آذربائیجان کے فوجیوں کی ہلاکتوں کو کم سے کم رکھنا تھا۔
ان کا کہنا تھا ’ابتدائی طور پر جنوب مشرق میں ان کی کچھ ہلاکتیں ہوئیں اور ان کرائے کے جنگجوؤں کو فرنٹ لائن پر پہلی حملہ آور فوج کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔‘
’انھوں نے کافی چالاکی دکھا کر حساب لگایا کہ اگر یہ حملے کامیاب نہیں ہوئے تو یہ بہتر ہو گا کہ ہلاکتیں آذربائیجان کی فوجوں کے بجائے کرائے کے جنگجوؤں کی ہوں۔‘
’کراے کے جنگجوؤں کی کوئی پروا نہیں کرتا۔‘
واشنگٹن ڈی سی میں سنٹر فار گلوبل پالیسی کی فیلو الزبتھ تسورکوف، جنھوں نے اس تنازعے میں حصہ لینے والے درجنوں شامی باشندوں سے بات کی ہے، اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ انھیں ’توپوں کے آگے مرنے کے لیے بھیجا گیا۔‘
وہ کہتی ہیں ’یہ سستے ہیں۔ انھیں بہت کم تیاری کے ساتھ فرنٹ لائن تک پہنچایا جاسکتا ہے، جیسا کہ آذربائیجان میں ہوا تھا، بنیادی طور پر ایسے افراد جنھیں آپ کلاشنکوف کا پٹا پہنا سکتے ہیں اور یہ کہہ سکتے ہیں کہ جاؤ، اس پہاڑی پر قبضہ کرو، اس جنگل پر قبضہ کرو۔‘
وہ یاد دہانی کرواتی ہیں کہ یہ افراد بےحد غریب ہیں ’لہذا وہ اپنی جان پر کھیلنے کو تیار ہیں۔‘
تاہم ستمبر کے آخر میں ناگورنو قرہباخ میں لڑائی شروع ہونے کے کچھ ہی دنوں بعد، سینکڑوں افراد ہتھیار ڈال رہے تھے اور لڑائی سے انکار کر رہے تھے۔ جن شامی جنگجوؤں سے میں نے بات کی ان میں سے دو ہتھیار ڈالنے والوں میں شامل تھے اور ایک نے جہاں انھیں تعینات کیا گیا تھا، ان بیرکوں پر حملوں کی ویڈیو بھی بھیجی۔
سمیر کہتے ہیں ’کمانڈروں نے ہمیں دھمکیاں دینا شروع کیں کہ ہمیں نو ماہ تک آذربائیجان کی جیل میں رکھیں گے۔ اس کے بعد انھوں نے ہمیں بتایا کہ جب ہم شام واپس جائیں گے تو وہاں بھی ہمیں گرفتار کر لیا جائے گا۔‘
’لیکن اس وقت ہم میں سے 500 لڑائی کے مقام پر تھے اور ہم نے ان پر دباؤ ڈالنا شروع کیا۔ انھوں نے ہمارے ناموں کی فہرست اکٹھی کی۔ پھر پانچ یا چھ دن بعد وہ آئے اور ہمیں خود کو تیار رکھنے کے لیے کہا: آپ جارہے ہیں۔‘
سمیر کا کہنا ہے کہ ان افراد میں سے کسی کو بھی 2000 ڈالر میں سے ایک کوڑی بھی نہیں ادا کی گئی اور بہت سے افراد جس ذاتی سامان کے ساتھ آذربائیجان پہنچے، انھیں وہ بھی واپس نہیں کیا گیا۔
انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ شام واپسی پر ایک باغی گروہ کے کمانڈروں نے ایک حملے کے الزام میں چار افراد کو قتل کر دیا تاہم بی بی سی اس الزام کی تصدیق نہیں کر پایا۔
ناگورنو قرہباخ پہلا تنازعہ نہیں ہے جس میں شامی جنگجوؤں کو کرایے پر بھرتی کیا گیا ہو۔
روس اور ترکی کی مبینہ طور پر حمایت یافتہ سکیورٹی فرموں کے ذریعہ باغیوں اور حکومت کے زیر انتظام علاقوں کے شامی شہری گذشتہ ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے سے مختلف فریقین کی جانب سے لیبیا کی خانہ جنگی میں لڑ رہے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اور ترکی کی حمایت یافتہ لیبیا کی سرکاری افواج کی نمائندگی کرنے والے ایک جنگجو نے مجھے بتایا کہ جنرل خلیفہ ہفتار کی وفادار روسی حمایت یافتہ فورسز کو واپس بھیجتے وقت انھوں نے اسد کے حامی سابق فوجیوں کی گرفتاری میں ذاتی طور پر حصہ لیا تھا۔
ترکی نے تسلیم کیا ہے کہ شامی جنگجو لیبیا میں موجود ہیں، حالانکہ انھیں بھرتی کرنے کا اعتراف نہیں کیا ہے۔
لندن میں ترکی کے سفیر عمیت یالسین نے مجھے بتایا ’ہم لیبیا میں جنگجو نہیں بھیج رہے۔ ہمارے لیبیا سے گہرے تاریخی اور قریبی رشتے قائم ہیں اور ہم ایک سیاسی حل دیکھنا چاہتے ہیں اور لیبیا کے لیے اب امن اور بات چیت کا موقع موجود ہے۔‘
جب میں نے انھیں ان شامی جنگجوؤں کی روداد انھیں سنائی اور انھیں وہ باتیں بتائیں جو ان جنگجوؤں نے مجھے بتائی تھیں، کہ کس طرح ترکی نے ناگورنو قرہباخ میں لڑنے کے لے انھیں بھرتی کیا، تو ترکی کے سفیر نے آذربائیجان کے سرکاری اعلان کے الفاظ دہرائے۔
انھوں نے کہا ’یقینا یہ دعوے بے بنیاد اور انصاف کے حصول اور امن و استحکام کے ضمن میں مددگار نہیں ہیں۔ ہمیں خطے میں امن اور انصاف کے لیے معاہدے پر توجہ دینی چاہیے۔‘
انھوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ کرد جنگجو آرمینیا کی جانب سے لڑ رہے ہیں تاہم آرمینیا اس دعوے کو مسترد کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے 11 نومبر کو متنازع علاقے سے جنگجوؤں کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ بڑے پیمانے پر ملنے والی رپورٹس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ترکی، وسیع پیمانے پر شامی جنگجوؤں کی بھرتی اور انھیں آذربائیجان بھیجنے میں مصروفِ عمل ہے۔ ساتھ ہی، ان کا کہنا تھا کہ وہ ان اطلاعات پر بھی غور کر رہے ہیں کہ آرمینیا بھی اس تنازع میں لڑنے کے لیے غیر ملکی شہریوں کی بھرتی میں ملوث ہے۔
اس وقت ناگورنو قرہباخ میں روس کے توسط سے جنگ بندی کی صورتحال برقرار ہے۔ جنگ بندی کے معاہدے کی شرائط کے مطابق آذربائیجان کو 1990 کی دہائی میں چھینے گئے کئی علاقے واپس مل گئے ہیں اور دفائی تجزیہ کاروں کے مطابق آذربائیجان نے ترک اور اسرائیلی ڈرونز کی مدد سے فضائی جنگ میں برتری حاصل کی تھی۔
لیکن شام لوٹنے والے جنگجو اب اپنے تجربات کو بھلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اگرچہ سمیر وہاں پہنچنے کے نے 3 دن بعد ہی لڑنے سے انکار کر دیا تھا، وہ کہتے ہیں: ’مجھے کرائے کا فوجی بننے پر ندامت ہے۔۔۔ ہاں، میں جب وہاں پہنچا تو میں نے لڑنے سے انکار کیا لیکن مجھے شرمندگی ہے کہ میں نے ایسے لوگوں پر اعتماد کیا۔‘