ناگورنو، قرہباخ تنازع: جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود جھڑپیں جاری، آذربائیجان کے چار فوجی ہلاک

آذربائیجان کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ان کے چار فوجی ناگورنو-قرہباخ کے متنازع خطے میں جھڑپوں کے دوران ہلاک ہو گئے ہیں۔

دوسری طرف آرمینیا کے حکام کا کہنا ہے کہ آذربائیجان کی فوجی کارروائی میں ان کے چھ اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

جھڑپوں کی یہ تازہ اطلاعات آذربائیجان اور آرمینیا کے مابین جنگ بندی کے ایک معاہدے کے چھ ہفتوں بعد سامنے آئی ہیں۔ اس معاہدے میں دونوں ملکوں نے خطے میں جاری جھڑپیں ختم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

ماضی میں روس کے قبضے میں رہنے والا ناگورنو، قرہباخ کا خطہ دونوں ملکوں میں کشیدگی کا باعث بنتا رہا ہے۔ روس کی ثالثی میں آرمینیا اور آذربائیجان نے علاقے میں امن قائم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس دوران کئی بار جھڑپوں کی خبریں سامنے آتی رہیں۔

یہ بھی پڑھیے

روس کے تعاون سے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان امن معاہدہ

نو نومبر کو آرمینیا اور آذربائیجان نے روس کی ثالثی میں ناگورنو، قرہباخ کے متنازع حصے پر فوجی کارروائی کے خاتمے کے لیے امن معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

آذربائیجان اور نسلی آرمینیائی باشندوں کے درمیان چھ ہفتوں سے جاری اس جنگ کے نتیجے میں یہ معاہدہ طے پایا تھا۔

آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پاشنیان نے اس معاہدے کو ’اپنے اور اپنے ملک کے لوگوں کے لیے تکلیف دہ‘ قرار دیا تھا۔

یہ خطہ بین الاقوامی سطح پر آذربائیجان کا حصہ سمجھا جاتا ہے لیکن سنہ 1994 کے بعد سے یہ علاقہ وہاں بسنے والے آرمینیائی باشندوں کے قبضے میں ہے۔

سنہ 1994 میں دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدے کے بجائے جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا۔

اس سال ستمبر میں ایک بار پھر جنگ شروع ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کئی معاہدے ہوئے لیکن سب ناکام رہے۔

اس معاہدے میں کیا ہے؟

جنگ بندی کے معاہدے کے تحت آذربائیجان ناگورنو، قرہباخ کے ان علاقوں کو اپنے قبضے میں برقرار رکھے گا جو اس نے جنگ کے دوران حاصل کیے ہیں۔

اگلے چند ہفتوں میں آرمینیا نے بھی قرہباخ کے نواحی علاقوں سے پیچھے ہٹنے پر اتفاق کیا ہے۔

ٹیلی ویژن خطاب میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا تھا کہ 1960 روسی امن فوجیوں کو علاقے میں بھیج دیا گیا ہے۔

آذربائیجان کے صدر الہام علییف نے کہا ہے کہ ترکی بھی اس قیام امن کے عمل میں حصہ لے گا۔

معاہدے کے مطابق جنگی قیدیوں کا بھی تبادلہ کیا جائے گا۔

کیسا رد عمل آ رہا تھا؟

آذربائیجانی صدر علییف نے کہا تھا کہ اس معاہدے کی ’تاریخی اہمیت‘ ہے جس پر آرمینیا بھی ’بادل نخواستہ‘ راضی ہو گیا ہے۔

اسی دوران آرمینیا کے وزیر اعظم پاشنیان نے کہا تھا کہ حالات کے پیش نظر یہ معاہدہ اس علاقے کے ماہرین سے بات کرنے اور ’گہرائی سے تجزیہ کرنے‘ کے بعد کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’یہ فتح تو نہیں ہے، لیکن جب تک خود کو شکست خوردہ تسلیم نہ کر لیں اس وقت یہ شکست بھی نہیں ہے۔‘

آرمینیا کے دارالحکومت یرے وان میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے اور اس معاہدے کی مخالفت کی۔

بی بی سی کی اورلا گورین کے مطابق اس معاہدے کو آذربائیجان کی جیت اور آرمینیا کی شکست قرار دیا گیا ہے۔

ناگورنو قرہباخ کے حوالے سے اہم حقائق

  • یہ تقریباً 4400 مربع کلومیٹر پر محیط پہاڑی علاقہ ہے
  • روایتی طور پر یہاں آرمینیائی مسیحی اور ترک مسلمان آباد رہے ہیں
  • سوویت دور میں یہ جمہوریہ آذربائیجان کے اندر ایک خودمختار خطہ بنا
  • بین الاقوامی طور پر اسے آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے تاہم اس کی اکثریتی آبادی آرمینیائی نسل سے تعلق رکھتی ہے
  • خود ساختہ حکام کو آرمینیا سمیت اقوامِ متحدہ کا کوئی بھی رکن تسلیم نہیں کرتا
  • یہاں 1988 سے 1994 کے دوران ہونے والی جنگ میں تقریباً 10 لاکھ لوگ دربدر ہوئے جبکہ 30 ہزار لوگ ہلاک ہوئے
  • علیحدگی پسند قوتوں نے آذربائیجان کے اس خطے کے گرد اضافی علاقوں پر قبضہ کیا
  • سنہ 1994 میں جنگ بندی کے بعد سے اس تنازعے کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے
  • ترکی آذربائیجان کی واضح حمایت کرتا ہے
  • آرمینیا میں روس کا فوجی اڈہ موجود ہے
  • اس علاقے پر قبضے کے لیے 27 ستمبر سنہ 2020 کو آذربائیجان اور آرمینیا کے مابین لڑائی ایک بار پھر شروع ہوئی۔
  • خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنگ میں اب تک ایک ہزار دو سو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ تاہم یہ کہا جاتا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔