آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
آذربائیجان، آرمینیا تنازع: بھاری توپ خانے کا استعمال اور عام شہریوں کی اموات کے بڑھتے خدشات
آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ناگورنو قرہباخ کے متنازع خطے پر جاری لڑائی کا دائرہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا جا رہا ہے اور پیر کے روز دونوں ممالک کی جانب سے بڑے شہری علاقوں پر ہونے والی شیلنگ کے بعد عام شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔
قرہباخ میں مقیم علیحدگی پسندوں کی جانب سے اس خطے کے دارالحکومت سٹیپاناکرٹ کی فرنٹ لائن پر مسلح جھڑپوں کے ساتھ ساتھ توپ خانے کے بھاری استعمال کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔
قرہباخ میں مقیم آرمینیائی نسل کے علیحدگی پسندوں نے نوے کی دہائی میں آذربائیجان سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا اور اب وہ آذربائیجان کی افواج سے مسلح جھڑپوں میں مصروف ہیں۔
آذربائیجان کی وزاتِ دفاع کا دعویٰ ہے کہ آرمینیا کی افواج اس کے تین بڑے شہروں پر شیلنگ کر رہی ہیں جبکہ اتوار کے روز ان افواج کی جانب سے آذربائیجان کے دوسرے بڑے شہر گینجہ پر بمباری کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
بڑے شہروں پر بمباری اور توپ خانے کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیشِ نظر دونوں ممالک میں عام شہریوں کی اموات کی تعداد میں اضافے کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔ مسلح جھڑپوں میں پہلے ہی کم از کم 220 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں عام شہری بھی شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آرمینیا اور آذربائیجان کی جانب سے جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے بین الاقوامی مطالبے کو لگاتار نظرانداز کیا جا رہا ہے اور اور دونوں حریف ممالک میں سے کوئی فریق اس معاملے پر پیچھے ہٹتا نظر نہیں آ رہا ہے۔
ناگورنو قرہباخ کے متنازع خطے کے حکام کا کہنا ہے آذربائیجان کی جانب سے پیر کے روز شدید شیلنگ کا آغاز صبح ساڑھے چھ بجے ہوا اور چار شیل شہری آبادی پر بھی گرے۔
علیحدگی پسندوں کی جانب سے پیر کے روز ہونے والے حملے کی ویڈیو فوٹیج بھی ریلیز کی گئی ہے جس میں رہائشی فلیٹس کے ملبے کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویڈیو میں علیحدگی پسندوں نے دعویٰ کیا ہے کہ آذربائیجان کلسٹر بموں کا استعمال کر رہا ہے۔
اتوار کو کیا ہوا تھا؟
اتوار کے روز آرمینیائی فورسز نے آذربائیجان کے دوسرے بڑے شہر گینجہ پر بمباری کی تھی۔
ناگورنو قرہباخ کے خود ساختہ حکام نے کہا تھا کہ انھوں نے گینجہ کے فوجی ایئرپورٹ پر اس وقت حملہ کیا جب آذربائیجانی فورسز نے خطے کے دارالحکومت سٹیپاناکرٹ کو نشانہ بنایا جبکہ آذربائیجان کا کہنا ہے کہ گینجہ کی کسی فوجی تنصیبات پر حملہ نہیں ہوا ہے۔
آرمینیا اور آذربائیجان ناگورنو قرہباخ پر 1988 سے 1994 تک برسرِپیکار رہے ہیں جس کے بعد انھوں نے جنگ بندی کا اعلان کر دیا تھا، تاہم دونوں ممالک کے دوران اس تنازع پر کبھی امن معاہدہ طے نہ ہو پایا۔
یہ موجودہ لڑائی جنگ بندی کے بعد سے اب تک کی سب سے بدترین لڑائی ہے اور دونوں سابقہ سوویت ریاستیں ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہی ہیں۔
آذربائیجان کی فوج کا کہنا ہے کہ ان کے سپاہیوں نے اتوار سے اب تک سات گاؤں اپنے قبضے میں لے لیے ہیں جبکہ ناگورنو قرہباخ کا کہنا ہے کہ اس کے سپاہیوں نے اگلے مورچوں پر اپنی پوزیشنز کو ’بہتر‘ بنایا ہے۔
رواں ہفتے کے اوائل میں آرمینیا نے کہا تھا کہ وہ فرانس، روس اور امریکہ کی ثالثی کے تحت جنگ بندی پر ’بات کرنے کے لیے تیار‘ ہے۔
آذربائیجان کو ترکی کی کھلی حمایت حاصل ہے اور اس نے آرمینیائی فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آرمینیائی نسل کے فوجیوں کے قبضے میں موجود ناگورنو قرہباخ اور دیگر ملحقہ علاقوں سے دستبردار ہو جائے۔
وزیرِ دفاع ذکری حسنوف نے کہا تھا کہ یہ ’واضح طور پر اشتعال انگیز‘ اقدام ہے جس کی وجہ سے تنازع کا دائرہ بڑھ رہا ہے۔
بعد میں ایک بیان میں وزارتِ دفاع نے کہا: ’آرمینیائی جانب سے گینجہ شہر میں فوجی تنصیبات پر مبینہ بمباری کے بارے میں پھیلائی جانے والی اطلاعات اشتعال انگیز اور جھوٹی ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’دشمن کی فائرنگ کی وجہ سے شہریوں، شہری انفراسٹرکچر اور قدیم تاریخی عمارات کو نقصان پہنچا ہے۔‘
دوسری جانب ناگورنو قرہباخ کے حکام نے اتوار کو کہا کہ آذربائیجانی فورسز گینجہ کے جس فوجی ہوائی اڈے سے آرمینیائی شہریوں پر حملے کر رہی تھیں، اسے تباہ کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق انھوں نے ایسا سٹیپاناکرٹ پر میزائل حملوں کے بعد کیا۔ آرمین پریس نیوز ایجنسی کے مطابق شہر میں بھاری جانی نقصان کی بھی اطلاع ہے اور یہاں بجلی بھی نہیں ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق خطے کے لیڈر ارایک ہاروتیونیان نے خبردار کیا کہ اب کے بعد سے 'آذربائیجان کے بڑے شہروں میں مستقل طور پر تعینات فوجی تنصیبات دفاعی فوجوں کے اگلے جائز اہداف ہیں۔'
اس کے علاوہ آرمینیائی وزارت دفاع کی ترجمان شوشان سٹیپانیان نے کہا 'آرمینیائی سرزمین سے آذربائیجان کی جانب کسی قسم کا حملہ نہیں کیا جا رہا۔'
ناگورنو قرہباخ کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس کے 201 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 27 ستمبر سے شروع ہونے والی لڑائی میں متعدد شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
آذربائیجان کے مطابق اس کے 22 شہری ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اس نے اپنی فوجی ہلاکتوں کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔
ناگورنو قرہباخ کے حوالے سے اہم حقائق
- یہ تقریباً 4400 مربع کلومیٹر پر محیط پہاڑی علاقہ ہے
- روایتی طور پر یہاں آرمینیائی مسیحی اور ترک مسلمان آباد رہے ہیں
- سوویت دور میں یہ جمہوریہ آذربائیجان کے اندر ایک خودمختار خطہ بنا
- بین الاقوامی طور پر اسے آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے تاہم اس کی اکثریتی آبادی آرمینیائی نسل سے تعلق رکھتی ہے
- خود ساختہ حکام کو آرمینیا سمیت اقوامِ متحدہ کا کوئی بھی رکن تسلیم نہیں کرتا
- یہاں 1988 سے 1994 کے دوران ہونے والی جنگ کے دوران تقریباً 10 لاکھ لوگ دربدر ہوئے جبکہ 30 ہزار لوگ ہلاک ہوئے
- علیحدگی پسند قوتوں نے آذربائیجان کے اندر اس خطے کے گرد اضافی علاقوں پر قبضہ کیا
- سنہ 1994 میں جنگ بندی کے بعد سے اس تنازعے کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے
- ترکی آذربائیجان کی واضح حمایت کرتا ہے
- آرمینیا میں روس کا فوجی اڈہ موجود ہے